شاعری

سخاوت کا فرشتہ

سخاوت کے فرشتے کو اترتا دیکھ کر سورج ہوا روپوش بادل میں، زمیں کہنے لگی آؤ طلائی، نقرئی سکے اچھالو شادمانی کے کھلیں اوراق لوگوں پر کتاب زندگانی کے

مزید پڑھیے

نظم

پھول پانی پر کھلا مری موجودگی کا سلطنت صبح بہاراں کی بہت نزدیک سے آواز دیتی ہے سبک رفتار پیہم گھومتے پہیے گراں خوابی سے جاگے آفتابی پیرہن کا گھیر دیواروں کو چھوتا پیار کرتا رقص فرماتا ارے!!! سورج نکل آیا.....

مزید پڑھیے

پیپر ویٹ

پیپر ویٹ ٹھوس شیشے کا بنا ہوا ہے جس کے اندر پھول ہیں جیسے سمندر کی تہہ میں کھلتے ہیں آٹھ جل پریاں ہیں جو رقص کر رہی ہیں پیپر ویٹ اس لیے ہے کہ کاغذ کو ہوا کی زد سے محفوظ رکھے پیپر ویٹ ایک سیارہ ہے جس میں لوگ رہتے بستے ہیں لیکن پیپر ویٹ ان سب باتوں سے بے خبر ہے اسے تو صرف شاعری کی آنکھ ...

مزید پڑھیے

''ایک نظم کہیں سے بھی شروع ہو سکتی ہے''

ایک نظم کہیں سے بھی شروع ہو سکتی ہے جوتوں کی جوڑی سے یا قبر سے جو بارش میں بیٹھ گئی یا اس پھول سے جو قبر کی پائینی پر کھلا ہر ایک کو کہیں نہ کہیں پناہ مل گئی چینٹیوں کو جائے نماز کے نیچے اور لڑکیوں کو مری آواز میں مردہ بیل کی کھوپڑی میں گلہری نے گھر بنا لیا ہے نظم کا بھی ایک گھر ...

مزید پڑھیے

وصال

خوشبو کی آواز سنی غنچہ لب کے کھلتے ہی پانی پر کچھ نقش بنے پرتو شاخ کے ہلتے ہی ساری باتیں بھول گئے اس سے آنکھیں ملتے ہی

مزید پڑھیے

ستارے کا گمان

سایہ ہے گہری چپ کا اکیلے مکان پر دل مطمئن بہت ہے مگر اس گمان پر روشن ہے اک ستارہ ہمارے بھی نام کا پیڑوں کی چوٹیوں سے ادھر آسمان پر

مزید پڑھیے

مہران، مجھے دو

مہران، مجھے دو آواز کا اک پنکھ مہران، مجھے دو ٹوٹے ہوئے رشتے پرکھوں کے نوشتے مہران، مجھے دو زرخیز کنارا یہ ہاتھ تمہارا گرم اور سنہرا مہران، مجھے دو امید اور پانی

مزید پڑھیے

چاہت

آدمی پیڑ اور مکان صاف نیلا آسمان سنگ ریزے اور گلاب سب کے سب اچھے لگے اس کے گھر جاتے ہوئے

مزید پڑھیے
صفحہ 188 سے 960