شاعری

انّا للٰہ و انّا الیہ راجعون

ایک مردہ تھا جسے میں خود اکیلا اپنے کندھوں پر اٹھائے آج آخر دفن کر کے آ گیا ہوں بوجھ بھاری تھا مگر اپنی رہائی کے لیے بے حد ضروری تھا کہ اپنے آپ ہی اس کو اٹھاؤں اور گھر سے دور جا کر دفن کر دوں یہ حقیقت تھی کہ کوئی واہمہ تھا پر یہ بدبو دار لاشہ صرف مجھ کو ہی نظر آتا تھا، جیسے ایک ...

مزید پڑھیے

وصال

میں نے کل شب آسماں کو گرتے دیکھا اور سوچا اب زمیں اور آسماں شاید ملیں گے رات گزری اور شفق پھولی تو میں نے چڑھتے سورج کی کلائی تھام کر اس سے کہا بھائی رکو تم دو قدم آگے بڑھے تو آسماں شاید گرے گا خشمگیں نظروں سے مجھ کو دیکھ کر سورج نے آنکھیں پھیر لیں دھیرے سے بولا آسماں ہر رات گرتا ...

مزید پڑھیے

سانپ کو مت جگا

سانپ سویا ہوا ہے بڑی دیر سے سردیوں کی اندھیری پٹاری میں کنڈل سا لپٹا ہوا اپنی اکلوتی بند آنکھ کھولے ہوئے پچھلی رت کے کسی بین کے سر سے سرشار پھن کو اٹھانے کے خوابوں سے دو چار ہے سانپ کو مت جگا، اے شکھنڈی ٹھہر سانپ ایک بار بیدار ہو کر اٹھا تو وہ عادت سے مجبور پھن کو اٹھائے ہوئے آنے ...

مزید پڑھیے

اگلا سفر طویل نہیں

وہ دن بھی آئے ہیں اس کی سیاہ زلفوں میں کپاس کھلنے لگی ہے، جھلکتی چاندی کے کشیدہ تار چمکنے لگے ہیں بالوں میں وہ دن بھی آئے ہیں سرخ و سپید گالوں میں دھنک کا کھیلنا ممنوع ہے، لبوں پہ فقط گلوں کی تازگی اک سایۂ گریزاں ہے وہ بھی دن آئے ہیں اس کے صبیح چہرے پر کہیں کہیں کوئی سلوٹ ابھر سی ...

مزید پڑھیے

طفیلی سیارہ

وہ اک لمحہ جس کی تلاش میں میں نے اپنے ارض و سما کی پر اسرار کشش سے نکل کر ایک خیال افروز خلا میں جست لگا دی اور اپنے محور سے بچھڑ کر اس بے چہرہ کاہکشاں کے دوسرے سیاروں کے اثر میں گردش کرنے اور بھٹکتے رہنے میں اک عمر گنوا دی وہ لمحہ اک جگنو بن کر جلتا بجھتا اب بھی مری امیدوں کی خوش ...

مزید پڑھیے

ھوالشافی

اگر کبھی یہ گمان گزرا کہ زندگی تلخ ہو رہی ہے تو اس مسیحا نفس کو ڈھونڈا جو اس مرض کا طبیب حاذق ہے جس کے شیریں لبوں میں نمکین عارضوں میں غزال آنکھوں کی گہری جھیلوں میں آب حیواں چھلک رہا ہے جو میری تنہائی کا مداوا مرے مرض کے لیے دوا ہے کہ شربت‌ دید ہی تو ان تلخ کامیوں کے لیے شفا ہے

مزید پڑھیے

ذرہ

دشت کی بے پایاں وسعت میں کوہساروں کے دامن میں ذرہ اپنے ہونے اور نہ ہونے کا دکھ جھیل رہا تھا ذرہ جو خود اپنے وجود میں ایک مکمل دنیا ہے جس کے بطن میں سارا نظام شمس و قمر پوشیدہ ہے جس کی وحدت کے سینے میں نظر نہ آنے والی کثرت کا جلوہ ہے اہل نظر نے پچھلی صدی میں اس پامال ضمیر کے اندر اس ...

مزید پڑھیے

ہم انجام

مری مانند وہ بھی ظلمت شب کی مسافر تھی اندھیرے راستوں میں صبح نو کے خواب آنکھوں میں سجائے بہ نام منزل بے نام افتاں اور خیزاں قدم اپنے بڑھائے سحر کا خواب آنکھوں میں سجائے سفر جتنا بھی ہم طے کر رہے تھے مسافت تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی سکوت صبح کی مایوسیوں میں جو اک تنہا رفیق رہروی ...

مزید پڑھیے

دشوار دن کے کنارے

خوابوں میں گھر لہروں پر آہستہ کھلتا ہے پاس بلاتا ہے کہتا ہے دھوپ نکلنے سے پہلے سو جاؤں گا میں ہنستا ہوں لڑکی تیرے ہاتھ بہت پیارے ہیں وہ ہنستی ہے دیکھو لالٹین کے شیشے پر کالک جم جائے گی بارش کی یہ رات بہت کالی ہے کچے رستے پر گاڑی کے پہیے گھاؤ بنا کر کھو جاتے ہیں ایک ستار بیس برس کی ...

مزید پڑھیے

بقا

جو تنہائی کے کچھ لمحے کبھی آ جائیں ہاتھوں میں تو مٹھی بھینچ کر اپنی چمکتے جگنوؤں کی روشنی جیسے یہ پل اپنی ہتھیلی پر سجا لینا کہ ہاتھوں سے نکل جاتے ہیں کتنے قیمتی لمحے جو تنہائی کی وحشت سے نکل جانے کی عجلت میں ہم اکثر چھو نہیں پائے اتر کر روح کی گہرائیوں میں روشنی بھرنے سے پہلے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 187 سے 960