شاعری

اتنے بہت سے رنگ

سلاخوں سے ادھر کچھ درخت، ایک سڑک، کتے کی زنجیر تھامے ایک آدمی اور ایک ڈور جس پر رنگ برنگے کپڑے سوکھ رہے ہیں جسموں کے بغیر یہ کپڑے، بچوں کے بغیر یہ میدان محبت کے بغیر یہ راستے دنیا کتنی چھوٹی نظر آتی ہے رنگ برنگے کپڑے سوکھ جانے پر ایک عورت آئے گی تب ایک ایک کر کے یہ قمیضیں، پتلونیں ...

مزید پڑھیے

شادمانی کا فرشتہ

شادمانی کے فرشتے صبح میں چہرہ ہے کس کا جھلملاتی شام کیا ہے چمن میں وہ جو آتی ہے اس پری کا نام کیا ہے

مزید پڑھیے

بہتا ہوا پانی

بہتا ہوا پانی پیڑوں کے ماتھے کو چوم گئے بادل شاخوں سے ٹکرائیں ہات کچے پھلوں کی خوشبو جگائے سورج کی بانہوں میں ....رات بہتا ہوا پانی

مزید پڑھیے

میں تمہیں یاد کر رہا تھا

جب درخت خاموش تھے اور بادل شور کر رہے تھے میں تمہیں یاد کر رہا تھا جب عورتیں آگ روشن کر رہی تھیں میں تمہیں یاد کر رہا تھا جب میدان سے ایک بچے کا جنازہ گزر رہا تھا میں تمہیں یاد کر رہا تھا جب قیدیوں کی گاڑی عدالت کے سامنے کھڑی تھی میں تمہیں یاد کر رہا تھا جب لوگ عبادت گاہوں کی طرف جا ...

مزید پڑھیے

دس سے اوپر

اتنے گھر اتنے سیارے کنکر پتھر کون گنے دس سے اوپر کون گنے اوزاروں کے نام بہت ہیں ہتھیاروں کے دام بہت ہیں اے سوداگر کون گنے دس سے اوپر کون گنے اے دل اے بے کل فوارے کتنے گھاؤ بنے ہیں پیارے اپنے اندر کون گنے دس سے اوپر کون گنے کتنی لہریں ٹوٹ گئی ہیں بیچ سمندر کون گنے

مزید پڑھیے

ایک پل بنایا جا رہا ہے

میں ان سے پوچھتا ہوں: پل کیسے بنایا جاتا ہے پل بنانے والے کہتے ہیں: تم نے کبھی محبت نہیں کی میں کہتا ہوں: محبت کیا چیز ہے وہ اپنے اوزار رکھتے ہوئے کہتے ہیں: محبت کا مطلب جاننا چاہتے ہو تو پہلے دریا سے ملو۔۔۔ روئے زمین پر دریا سے زیادہ محبت کرنے والا کوئی نہیں دریا اپنے سمندر کی طرف ...

مزید پڑھیے

دن اور جھاگ

دھوپ اور دوریوں کے درمیاں ایک آواز سنائی دیتی ہے جیسے مچھلی سیاہ جال سے بے خبر سنہری پروں سے .....پانی کاٹتی ہے

مزید پڑھیے

درخت میرے دوست

درخت! میرے دوست تم مل جاتے ہو کسی نہ کسی موڑ پر اور آسان کر دیتے ہو سفر تمہارے پیر کی انگلیاں جمی رہیں پاتال کے بھیدوں پر قائم رہے میرے دوست تمہارے تنے کی متانت اور قوت دھوپ اور بارش تمہیں اپنے تحفوں سے نوازتی رہے تم بہت پروقار اور سادہ ہو میرے تھیلے کو جاننا چاہتے ہو ضرور.... یہ لو ...

مزید پڑھیے

لفظوں کے درمیان

دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے سیارے کو لفظوں سے بھر دیا فیصلوں اور فاصلوں کو طول دینے کا فن انہیں خوب آتا ہے جہاز بندرگاہوں میں کھڑے ہیں اور گھروں، گوداموں، دکانوں میں کسی لفظ کے لئے جگہ نہیں رہی اتنے بہت سے لفظ۔۔۔ اف خدایا! مجھے اس زمین پر چلتے ہوئے اٹھائیس برس ہو گئے باپ، ماں، ...

مزید پڑھیے

نیند کا فرشتہ

زمیں اطراف کی کالی ہوئی جلنے لگے دیوے ہوائیں خشک پتوں کو گرا کر سو گئیں شاید فرشتہ نیند کا ناراض ہے مجھ سے یہ کہتا ہے بہت دن سو لیے بے دار رہ کر بھی ذرا دیکھو اذان فجر ہونے تک ستاروں کی ادا دیکھو

مزید پڑھیے
صفحہ 189 سے 960