ریت کا مسافر
ریت کا مسافر تھا رات کی حویلی میں صرف رات بھر ٹھہرا جوگ لے لیا اس نے ریت کی ہتھیلی سے پھول ریت کے چن کر خواب کی سہیلی سے روگ لے لیا اس نے صرف ایک لمحے کی مختصر کہانی کو ریت کے مسافر نے یوں امر بنا ڈالا کاسۂ محبت میں لے کے بھیک لفظوں کی آرزو کی آنکھوں میں اشک تر بنا ڈالا کون اب تجھے ...