شاعری

پچھتاوا

یہ کس دیار میں لے آئی زندگی مجھ کو جہاں پہ پھول سے چہرے ببول لگتے ہیں جہاں پہ سایہ بھی لگتا ہے دھوپ کی مانند نسیم چلتی ہے رک رک کے ایسے سینے میں کہ جیسے پھانس کسی یاد کی اٹکتی ہو جہاں پہ ابر بھی سورج مثال لگتا ہے جہاں کرن کی ضرب زخم دل کھرچتی ہے کھلے جو پھول تو پتی سے چوٹ لگتی ہے یہ ...

مزید پڑھیے

پانچواں موسم

کہنے کو تو چار ہیں موسم پانچواں موسم بنجر پن کا جس میں فکر کے سارے طائر حرف کی شاخ سے اڑ جاتے ہیں جس میں لفظ کی خوشبو سرسر لے جاتی ہے بے رنگی اور بے کیفی کے ان بانجھ پلوں میں خالی پن میں صبح سے لے کر شام تلک یاس کی تان پہ ناچ ناچ کے جسم کو بوجھل کر دیتے ہیں فکر و خیال کے سارے ...

مزید پڑھیے

سوال

ایک پتھر پہ بیٹھے ہوئے جھیل میں پاؤں ڈالے میں یہ سوچتا ہوں شب و روز کا یہ تماشا بھی کیوں ہے آسماں کی بلندی جو اک ان چھوا راز ہے وہ کیا ہے میرے وجدان نے روح کی بے قراری کو تسکین دینے کی خاطر بنایا خدا ہے خدا ہے زمیں ہے زماں ہے شب و روز ہیں چاند سورج ستارے آسماں کی بلندی جو اک ان ...

مزید پڑھیے

نیا جنم

اداسی کے آنگن میں محرومیوں کے گلابوں کی خوشبو مری سانس کے راستوں سے گزر کر گرم لاوے کی صورت رگوں میں بہی جا رہی ہے مجھے گھر کی دیوار و در میں امیدوں کی پرچھائیوں کا وہ نوحہ نظر آ رہا ہے جو صوت و صدا کی مقید فضا سے نکل کر مجسم ہوا جا رہا ہے رات کی سب سیاہی مری آنکھ سے مرے جسم و جاں ...

مزید پڑھیے

منوں ریت تلے

میں جو سوئی ہوں منوں ریت تلے کاش تو جان سکے شام ڈھلے میری آنکھیں تری آہٹ پہ لگی رہتی ہیں میرا آنچل میری ترسی ہوئی بے کل ہستی میری ممتا تری راہوں میں بچھی رہتی ہے میں بہت خوش ہوں تجھے دیکھ کے اے دل کے قرار تیرے چہرے کی چمک آج بھی تابندہ ہے تیرے لہجے میں مرا عکس ابھی زندہ ہے میں جو ...

مزید پڑھیے

نظم

وہ سمندر کے پار رہتا ہے اور دل بے قرار رہتا ہے اس کی باتیں جو یاد آتی ہیں دن ڈھلے تک ہمیں ستاتی ہیں رات بھر اک خمار رہتا ہے وہ سمندر کے پار رہتا پے شہر ماتم کناں ہے تیرے بغیر دشت بھی بے اماں ہے تیرے بغیر ہر شجر سوگوار رہتا ہے وہ سمندر کے پار رہتا ہے دوستی بن گئی سزا جیسے اور ہو آپ ...

مزید پڑھیے

امر لمحہ

بارشوں کے موسم میں اجنبی سی راہوں میں اس طرح تمہیں ملنا اور پھر بچھڑ جانا یاد پھر دلاتا ہے کہ ابھی گلابوں کی موتیے کے پھولوں کی شوخ تتلیوں جیسی رت ابھی بھی باقی ہے روح کے سفر میں ہم مل چکے ہیں پہلے بھی ماہ و سال کی گردش پاس لے کے آئی تھی اور پھر یہی گردش دور لے گئی ہم کو زندگی کے ...

مزید پڑھیے

رخت سفر

خالی کمرے میں مرا رخت سفر رکھا ہے چند ارمان ہیں پوشیدہ نہاں خانے میں کرچیاں خواب کی رکھی ہیں حفاظت سے کہیں اور کچھ پھول چھپا رکھے ہیں انجانے میں ڈھونڈھتی پھرتی رہی روح کسی ساتھی کو در بدر ٹھوکریں کھاتا رہا پندار مرا اپنی مٹی سے بھی اٹھی نہیں سوندھی خوشبو غیر کے دیس میں لٹتا رہا ...

مزید پڑھیے

اپنے یزداں سے اک سوال مرا

اپنے یزداں سے پوچھنا ہے مجھے ایسے خوابوں میں روشنی کیوں ہے جن کی تعبیر دسترس میں نہیں ان امنگوں کی کیا حقیقت ہے جن کا انجام میرے بس میں نہیں کیوں مرے راستے الجھتے ہیں ان گھنے جنگلوں کی سرحد سے جن میں وحشت کے دیپ جلتے ہیں زندگی کے عمیق راز نہاں سر بہ سر ساتھ ساتھ چلتے ہیں اپنے ...

مزید پڑھیے

تھکے ماندے پرندے

پرندے اڑ رہے ہیں دور افق بوجھل فضاؤں میں تھکے ماندے پروں میں آگہی کی شورشیں لے کر پناہیں ڈھونڈتے ہیں قرمزی کرنوں کے دامن میں کوئی جائے پناہ ہو کنج ہو کلیوں کا آنگن ہو کوئی صحرا ہو نخلستان ہو بے آب دریا ہو تھکے ماندے پرندے اڑ رہے ہیں شام سر پر ہے فقط اک رات کا ٹھہراؤ اک احساس کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 146 سے 960