ایڈز
ہوس کا کھیل بھی کتنا مسرت خیز ہوتا ہے کہ اس کے کھیلنے والے یہ اکثر بھول جاتے ہیں بدن میں جب بدن کی لذتیں غرقاب ہوتی ہیں تو ان کے ساتھ اک ایسی تباہی جسم میں تحلیل ہو جاتی ہے جس کا عمر بھر کوئی ازالہ ہو نہیں سکتا
ہوس کا کھیل بھی کتنا مسرت خیز ہوتا ہے کہ اس کے کھیلنے والے یہ اکثر بھول جاتے ہیں بدن میں جب بدن کی لذتیں غرقاب ہوتی ہیں تو ان کے ساتھ اک ایسی تباہی جسم میں تحلیل ہو جاتی ہے جس کا عمر بھر کوئی ازالہ ہو نہیں سکتا
چاندنی کے موسم میں زندگی کے رستے میں پیار کے درختوں کے دل فریب سے سائے رینگتے نظر آئے کشمکش کے عالم میں خود بخود جھکیں پلکیں سائے بن گئے زنجیر دھڑکنیں پکار اٹھیں جسم کا ادھوراپن موت کی علامت ہے
یہ کیسی جنگ ہے جو اپنی منفعت کے لئے غریب ملکوں کی آزادیوں کو چھینتی ہے یہ کیسی جنگ ہے جس میں مقابلے کے بغیر نشانہ سادھ کے گولی چلائی جاتی ہے یہ کیسی جنگ ہے جس میں اسیر لوگوں پر اذیتوں کے لئے کتے چھوڑے جاتے ہیں یہ کیسی جنگ ہے جس میں بموں کی یورش سے سماعتیں بھی خدا کی پناہ چاہتی ...
میں اپنی عمر کے سب آخری لمحے حصار فکر سے باہر نکل کر جینا چاہوں تو مرے خالق مرے احساس پر بجلی گرا دینا مجھے پاگل بنا دینا
ابھی میں برف سے لپٹے ہوئے جزیرے پر خود اپنے آپ سے ملنے کی آرزو لے کر لگا ہوا ہوں سویرے کو شام کرنے میں سمندروں میں ابھرتے بھنور بلاتے ہیں افق سے آتی صدائیں بھی کھینچتی ہیں مگر میں اپنی سوچ سے باہر نکل نہیں سکتا عجیب خوابوں کا بے نام سلسلہ ہے یہ کہ زندگی سے کوئی رابطہ نہیں ...
کنج قفس میں جلوۂ صحن چمن کہاں بلبل تو ڈھونڈھتی ہے گل و یاسمن کہاں گم ہو گئی ہے آ کے جہاں راہ کوئے دوست لایا بھی تو مجھے مرا دیوانہ پن کہاں سرمایۂ نشاط سہی آمد بہار لیکن اسے نصیب ترا بانکپن کہاں اے وہ مرے شباب کی راتیں گزر گئیں اب وہ مری نشاط بھری انجمن کہاں شاطرؔ چلو بسائیں ...
لالچی کتنے خوشامد خور دولت کے غلام خود غرض مکار ابن الوقت جھوٹوں کے امام بندۂ حرس و ہوس غدار مطلب آشنا پیسے کی خاطر وطن کو بیچنے والے بتا کیا تجھے احساس محکومی کبھی ہوتا بھی ہے تو کبھی ہندوستاں کے حال پر روتا بھی ہے کیا سنی بھی ہے کبھی مزدوروں کے دل کی پکار کیا کبھی تو نے ...
بج رہے ہیں مدھ بھری آواز میں ہولی کے ساز کھنچ کے آنکھوں میں نہ آ جائے دل حرماں نواز کھیلتی ہیں رنگ آپس میں کنواری لڑکیاں گیت ہولی کے زباں پر ہاتھ میں پچکاریاں نالیوں میں گر رہے ہیں لوگ پی پی کر شراب ملک میں شاید نہیں ان کے لیے کوئی عذاب دے رہا ہے گالیاں بے نطق ہر پیر و جواں واہ ...
رات کچھ تاریک بھی ہے اور کچھ روشن بھی ہے وقت کے ماتھے پہ شوخی بھی ہے بھولا پن بھی ہے بام و در پر آج مٹی کے دیے ہیں اس طرح آسمانوں پر ستارے جگمگائیں جس طرح راستوں پر ہیں دنادن کی صدائیں خوفناک زندگی سے موت گویا کر رہی ہے تاک جھانک ہو رہی ہیں ہر گلی کوچے میں آتش بازیاں آر رہا ہے ...
اندھیری رات میں جب مسکرا اٹھتے ہیں سیارے ترنم پھوٹ پڑتا ہے مرے ساز رگ جاں سے کوئی انگڑائیاں لیتا جب آ جاتا ہے محفل میں تمنا کروٹیں لیتی ہے پیہم دکھ بھرے دل میں نگاہیں بادۂ رخ سے خمار آمیز ہوتی ہیں شرابی کی طرح جب جھومتی ہیں عشق کی نبضیں کوئی ٹیگورؔ کے جب میٹھے میٹھے گیت گاتا ...