نظم
اک برس اور کٹ گیا شارقؔ روز سانسوں کی جنگ لڑتے ہوئے سب کو اپنے خلاف کرتے ہوئے یار کو بھولنے سے ڈرتے ہوئے اور سب سے بڑا کمال ہے یہ سانسیں لینے سے دل نہیں بھرتا اب بھی مرنے کو جی نہیں کرتا
اک برس اور کٹ گیا شارقؔ روز سانسوں کی جنگ لڑتے ہوئے سب کو اپنے خلاف کرتے ہوئے یار کو بھولنے سے ڈرتے ہوئے اور سب سے بڑا کمال ہے یہ سانسیں لینے سے دل نہیں بھرتا اب بھی مرنے کو جی نہیں کرتا
آؤ اب ڈھونڈو مجھے پھسڈی کہہ کے مجھ کو چھیڑنے والو ہراؤ اب مجھے ہاں مجھے بھی کھیل لگتا تھا یہ سب کچھ ابتدا میں مگر یہ بھی تو سوچو مسلسل ہار کوئی کھیل ہے جو کھیل اس کو مان لیتا میں کہاں تک ہارتا میں؟ مرے چھپنے کے سب کونے اجاگر ہو گئے تھے بہت آسان ہوتا جا رہا تھا ڈھونڈنا مجھ کو مجھے ...
وضو جائے تو جائے فرشتے کچھ بھی لکھ لیں نامۂ اعمال میں میرے مگر منہ سے مرے گالی تو نکلے گی اگر اس تولیے میں چیونٹیاں ہوں گی تھکن سے چور ہو کر جس سے ماتھے کا پسینہ پونچھتا ہوں میں
مجھے ہنسنا پڑا آخر انہیں باتوں پہ جن پر میں بہت ناراض تھا اس سے یہ اک طرفہ محبت یوں بھی اتنا درد دیتی ہے کہ اس میں بیچ کا رستہ کبھی ممکن نہیں ہوتا وہی جھکتا ہے جس کو دوسرا درکار ہوتا ہے کسی قیمت پہ چاہے جو بھی ہو جائے
پاگل سمجھا ہے کیا مجھ کو ڈوب مروں میں اور سب اس منظر سے اپنا دل بہلائیں بچوں کو کاندھوں پر لے کر اچک اچک کر مجھ کو دیکھیں ہنسی اڑائیں لاکھ مری اپنی وجہیں ہوں جاں دینے کی لیکن پھر بھی دل میں میرے بھی ہے وہ بے معنی خواہش جاتے جاتے سب کی آنکھیں نم کرنے کی میری سمجھ سے اتنا حق تو ہے جاں ...
وہی بکرا مرا مریل سا بکرا جسے ببلو کے بکرے نے بہت مارا تھا وہ بکرا وہ کل پھر خواب میں آیا تھا میرے دہاڑیں مار کر روتا ہوا اور نیند سے اٹھ کر ہمیشہ کی طرح رونے لگا میں خطا میری تھی میں نے ہی لڑایا تھا اسے ببلو کے بکرے سے اسے معلوم تھا پٹنا ہے اس کو مگر پھر بھی وہ اس موٹے سے جا کر بھڑ ...
گلے پر لگا کر نشاں جس گھڑی ڈاکٹر نے یہ مجھ سے کہا اور تو سارے پرہیز ختم آپ کے آج سے شیو مت کیجئے گا جب تلک یہ گلے کی سکائی چلے شیو مت کیجئے گا تو ساری مشیت خدا کی سمجھ میں مرے آ گئی ارے مجھ کو داڑھی سے انکار کب تھا جو یہ رخ نکالا گیا میں تو خود شیو کے نام سے یوں بدکتا رہا آج تک جیسے ...
تو وہ سب مشق تھی بے پردگی کی جو مجھے پچھلے کئی ایک سال سے ان اسپتالوں میں کرائی جا رہی تھی جہاں پر قید تھا میں کبھی مجھ کو مرے ہی پھیپھڑوں کی ایکس رے میں قید تصویریں دکھا کر کبھی پیشاب کی تھیلی لگا کر کہ میں پوری طرح بے شرم ہو جاؤں اس اک لمحے کے آنے تک جب اک انجان ہاتھ غسل کے تختے پہ ...
بچپن بیتا کھوئی جوانی آیا بزرگی کا موسم جس کی ہر اک ساعت نے آنکھوں کو بے نور کیا آس کو چکنا چور کیا تب جا کر یہ راز کھلا رات کے تٹ پر آ کر سورج ظلمت کا ہو جاتا ہے اور تعطل جسموں میں بو جاتا ہے
کل رات ہوا یوں بھی اک چاند بدن لڑکی تخئیل میں جب اتری دنیا کے مسائل نے ہر دل کی مسرت کو مصلوب بنا ڈالا اور اس سے تخاطب پر محسوس ہوا مجھ کو جیسے کوئی صدیوں کی بچھڑی ہوئی دو روحیں آپس میں مخاطب ہوں بے روح کی قالب ہوں