شاعری

وطن

اے وطن اے راحت و آرام کے دل کش دیار تیرے شہروں پر تصدق تیرے صحرا پر نزار حسن میں تو بے بدل ہے عشق میں تو لا جواب رام کی تجھ میں جوانی تجھ میں سیتا کا شباب کھیت تیرے رشک گلشن دشت تیرے لالہ زار تجھ کو بخشی ہے مشیت نے بساط زر نگار تجھ میں ہیں آباد دولت مند بھی نادار بھی سیم و زر کے ...

مزید پڑھیے

عورت

جا رہا ہے اپنی منزل کی طرف ماہ تمام جیسے قبروں کے مجاور جیسے مسجد کے امام خانقاہوں میں ہوا کرتا ہے جیسے بالعموم شیخ کی خدمت میں حاضر ہے مریدوں کا ہجوم اس طرح محراب میں رکھی ہے الہامی کتاب جیسے اک زاہد کا ایماں جیسے اک باسی گلاب طاق میں رکھی ہوئی ہے اک طرف اک جانماز عود کی ...

مزید پڑھیے

ہندوستان

مفلس یہاں نہیں ہیں کہ بیوہ یہاں نہیں ایسا کوئی نہیں ہے جو آفت نشان نہیں یہ بات مثل شمس عیاں ہے نہاں نہیں آزاد گر نہیں ہے تو ہندوستاں نہیں ذکر چمن زبان پر لایا نہ جائے گا اب قصۂ بہار سنایا نہ جائے گا محسوس کر رہا ہوں بتایا نہ جائے گا آزاد اگر نہیں ہے تو ہندوستاں نہیں ظلم و ستم سے ...

مزید پڑھیے

گرو نانک

گرو نانک جسے کہتے ہیں وہ اک مرد کامل تھا کہ اس کے پاس سینے میں تقدس آفریں دل تھا وہ گونجا نغمۂ ناہید بن کر آسمانوں میں لیا جاتا ہے نام اس کا مقدس داستانوں میں حقیقت اپنی منوائی حقیقت آشنا ہو کر جو اٹھا ابتدا ہو کر تو بیٹھا انتہا ہو کر سبق انسانیت کا دینے آیا ابن آدم کو ترقی کی ...

مزید پڑھیے

مزدور کی زندگی

دوپہر کا وقت گرما کی ہوائیں تیز تر مہر کی تابش سے پگھلے جا رہے ہیں دشت و در گرم ہے نہروں کا پانی سرد ہے نبض بہار خشک پتے جیب و دامن کر رہے ہیں تارتار جل رہا ہے سبزۂ بے رنگ فرش خاک پر بھن رہا ہے دھوپ کی تیزی سے گیتی کا جگر تند جھونکے آ رہے ہیں دامن کہسار سے سر زمین رنگ و بو پر آگ ...

مزید پڑھیے

مزدور کی موت

وقت کا مارا ہوا انساں رعونت کا شکار جس کی محنت کا نتیجہ عظمت سرمایہ دار اصل میں ہندوستاں کا بادشہ لیکن غلام زندگی کی دوسری منزل میں ہے گرم خرام پھر رہا ہے چلچلاتی دھوپ میں دیوانہ وار بال بچوں کا تصور کر رہا ہے بے قرار خون پانی ایک کر کے دام جب ملتے نہیں ہاتھ پھیلا کر بھی کیا دے ...

مزید پڑھیے

ترانۂ اردو

واللہ کیا زباں ہے اردو زباں ہماری فطرت کی ترجماں ہے اردو زباں ہماری آبا کی داستاں ہے اردو زباں ہماری مظلوم کی فغاں ہے اردو زباں ہماری ہندو بھی بولتے ہیں مسلم بھی بولتے ہیں دو جسم ایک جاں ہے اردو زباں ہماری تعمیر کی ہے اس کی خود کو مٹا مٹا کر اسلاف کا نشاں ہے اردو زباں ...

مزید پڑھیے

ٹیگور

سحر کے وقت جب ٹھنڈی ہوائیں سرسراتی ہیں چمن کا رنگ کھل جاتا ہے کلیاں مسکراتی ہیں پرندے تولتے ہیں پر نکل کر آشیانے سے فضائیں گونج اٹھتی ہیں عنادل کے ترانے سے تخیل آدمی کا جب نئی تشکیل پاتا ہے نظام بزم عالم میں تغیر ہوتا جاتا ہے ہزاروں مرد میداں خون پانی ایک کرتے ہیں رہ مشکل طلب ...

مزید پڑھیے

مولانا محمد علی مرحوم جوہرؔ

سحر کے جھٹپٹے میں گا رہی تھی رات کی لیلیٰ چمن میں بج رہا تھا سطوت رفتہ کا اک تارہ منقش تھیں فضا میں جا بجا انوار کی شکلیں مجھے پیغام جلوہ دے رہی تھیں سرمگیں آنکھیں فلک پر لکۂ ابر سبک رفتار رقصاں تھا بہشت‌ حسن تھا دنیا کی برنائی کا ہر ذرہ ابھی چھیڑا نہ تھا دل نے مرے افسانۂ ...

مزید پڑھیے

رفیق نادیدہ

اک ندا آئی بہت دور سے کانوں میں مرے پھر خیال آیا کہ یہ وہم مرا ہو شاید میرے الجھے ہوئے خوابوں کے صنم خانے ہیں میرے انفاس کی موہوم صدا ہو شاید میں تصور کے خلاؤں میں بھٹکتا ہوں سدا شبنمی سوچ کی راس آتی نہیں مجھ کو ہوا جو مرے شوق تکلم کی طلب گار نہ ہو اس سے قربت کی تمنا کا تقاضا بے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 136 سے 960