شاعری

تلاش

نہ جانے کیوں یہ لگ رہا ہے جیسے کھو گیا ہے کچھ کبھی یہ لگ رہا ہے جیسے ہم نے پا لیا ہے کچھ وہ کیا ہے جو کہ کھو گیا وہ کیا تھا جس کو پا لیا یہ بات مشتمل ہے ایک عرصہ‌ٔ عقیل پر قلندر ایک رو‌ نما ہوا تھا اک سبیل پر وہ پہلے علم و فن کی پوری پیاس کو جگاتا تھا سوال پوچھتا تھا اور تشنگی بجھاتا ...

مزید پڑھیے

اعتراف

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے سوالوں کی کوئی اک بھیڑ مجھ کو گھیر لیتی ہے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ میں پابندیوں کے اس قفس کو توڑ کر باہر نکل آؤں میں اس دنیا کو دیکھوں اور بہت نزدیک سے دیکھوں ذہن میں کلبلاہٹ ان سوالوں کے بھی حل ڈھونڈوں جو کچھ میرے ہیں اور کچھ دوسروں نے مجھ سے پوچھے ہے کسی کو ...

مزید پڑھیے

تصویر

ہوں اک عرصے سے کوشش میں کہ میری ادھ بنی تصویر اپنے پایۂ تکمیل تک پہنچے کئی خط کھینچ رکھے ہیں بنانا چاہتی ہوں کچھ حسیں چہرے اچھلتے کودتے ہنستے ہوئے بچوں کے بھی خاکے مگر جب ان کے ہونٹوں پر تبسم کھینچنا چاہوں تو کچھ چہرے ابھرتے ہیں کہ ان کی جلتی آنکھیں جن میں آمیزش دکھوں کی ہے سوال ...

مزید پڑھیے

نمو

خزاں کے دور میں پھیلی برہنہ شاخوں نے جڑوں کی طرح سے رنگ شفق کو چوسا تھا سنہری دھوپ کی تابانیوں کو جذب کیا سفید برف کی نرمی کو یوں سمویا تھا کہ اب بہار کے آنے پہ وہ گلابی شفق گلوں کے روپ میں شاخوں پہ پھوٹ آئی ہے سفید برف نے پھولوں کی پنکھڑی کا بدن سنہری دھوپ نے پیلے گلوں کو ڈھالا ...

مزید پڑھیے

رات کا راہی

رات کی کالی سڑک پر روشنی کا دائرہ ایک تنہا چاپ جیسے ہو مسافر کی صدا یہ قدم پر عزم تھے اس روشنی کی سمت میں پر حصار روشنی میں سست یوں پڑتے گئے تیرگی کے اس سفر میں روشنی کا یہ پڑاؤ راہرو کے واسطے اک دعوت آرام ہو روشنی کی حد پہ جا کر اس طرح ٹھٹکے قدم تیرگی میں ڈوبنا ان کو گوارا پھر نہ ...

مزید پڑھیے

نخل مریم

ٹاٹ کے اک پردے کے پیچھے گھٹی ہوئی گلیوں کی فضا میں ایک کشیدہ کرنے والی گلکاری کی شائق لڑکی کرتی ہے ایسے گل باری ململ ہو جیسے اک کیاری حبس اور گرمی میں یہ مالن بیل چڑھائے پھول لگائے چکن کے ٹانکوں سے کھل جائیں ڈھیر چنبیلی کے لگ جائیں گجرے بیلے کے لہرائیں لمس سے دوشیزہ ہاتھوں ...

مزید پڑھیے

ریشم جال

پیار کے ریشم لچھوں کو خود ہی الجھاتی ہوں پہروں بیٹھ دھنک رنگوں کو پھر سلجھاتی ہوں میری چاہت نے کاتے ہیں ریشم کے یہ سار ان میں الجھ جانے سے میں پھر کیوں گھبراتی ہوں اپنے خول میں ریشم کا کیڑا بھی خوش تو نہیں میں بھی تتلی بن کر موقع پا اڑ جاتی ہوں

مزید پڑھیے

خود کلامی

کیسی آباد ہے یہ تنہائی کس قدر بولتا ہے سناٹا رات تاریک بحر میں ناؤ خود کلامی کی رو میں بہتی ہوئی زیر لب گفتگو کی لہریں ہیں دھواں فضا میں سیاہی کی ان نقابوں میں نہ جانے کس نے یہ چھیڑی ہیں کون سنتا ہے

مزید پڑھیے

میں انتظار کروں گی

میں انتظار کروں گی اس وقت کا جب کسی جنگ میں محبت جدا نہ ہوگی جب محبت کا دائرہ لا محدود ہو جائے گا جب محبت جسم کی محتاج نہیں رہے گی جب تم مجھے اپنا استعارہ بنا دو گے اور میں خود کو تمہاری تشبیہ بنا لوں گی

مزید پڑھیے

پسند

دن بھرتے ہیں دکھ بڑھتے ہیں خوشیاں کتنی کم ہیں آسمان کتنا اونچا اور زمیں کتنی چھوٹی چاند زمین کے گرد چکر لگاتا ہے پھر بھی زمین سورج ہی کے گرد گھومتی ہے شاید اسے بھی پسند ہے تپش میں پگھلنا

مزید پڑھیے
صفحہ 127 سے 960