شاعری

ہم زاد

وہ اک شخص جس کی شباہت سے مجھ کو بہت خوار و شرمندہ ہونا پڑا تھا قبا روح کی ملگجی ہو گئی تھی کئی بار دامن کو دھونا پڑا تھا وہ مجھ جیسی آنکھیں جبیں ہونٹ ابرو کہ باقی نہ تھا کچھ بھی فرق من و تو وہی چال آواز قد رنگ مدھم وہی طرز گفتار ٹھہراؤ کم کم خدا جانے کیا کیا مشاغل تھے اس کے مرے پاس ...

مزید پڑھیے

بے ننگ و نام

رات ڈھلتے ہی اک آواز چلی آتی ہے بھول بھی جاؤ کہ میں نے تمہیں چاہا کب تھا کس صنوبر کے تلے میں نے قسم کھائی تھی کوئی طوفاں کسی پونم میں اٹھایا کب تھا میری راتوں کو کسی درد سے نسبت کیا تھی میری صبحوں کو دعاؤں سے علاقہ کب تھا ایک محمل کے سرہانے کوئی رویا تھا ضرور پس محفل کسی لیلیٰ نے ...

مزید پڑھیے

آب و گل

مجھے یاد پڑتا ہے اک عمر گزری لگاوٹ کی شبنم میں لہجہ ڈبو کر کوئی مجھ کو آواز دیتا تھا اکثر بلاوے کی معصومیت کے سہارے میں آہستہ آہستہ پہنچا یہاں تک بہ ہر سمت انبوہ آوارگاں تھا بڑے چاؤ سے میں نے اک اک سے پوچھا ''کہو کیا تم ہی نے پکارا تھا مجھ کو کہو کیا تم ہی نے پکارا تھا مجھ کو'' مگر ...

مزید پڑھیے

ترک تعلق

پا بہ گل رات ڈھلے گی نہ سحر آئے گی کوئی سورج کسی مشرق سے نہ نکلے گا کبھی ریزہ ریزہ ہوئے مہتاب زمانے گزرے بجھ گئے وعدۂ موہوم کے سارے جگنو اب کوئی برق ہی چمکے گی نہ ابر آئے گا چار سو گھور اندھیرا ہے گھنا جنگل ہے تو کہاں جائے گی پھنکارتے سناٹے میں سرحد یاد گزشتہ سے پرے کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

قید حیات و بند غم

آخر شب کی اداسی نم فضاؤں کا سکوت زخم سے مہتاب کے رستا ہے کرنوں کا لہو دل کی وادی پر ہے بے موسم گھٹاؤں کا سکوت کاش کوئی غم گسار آئے مداراتیں کرے موم بتی کی پگھلتی روشنی کے کرب میں دکھ بھرے نغمے سنائے دکھ بھری باتیں کرے کوئی افسانہ کسی ٹوٹی ہوئی مضراب کا فصل گل میں رائیگاں عرض ہنر ...

مزید پڑھیے

در گذر

کون وہ لوگ تھے اب یاد نہیں آتا ہے پھینک آئے تھے مجھے یوسف کنعاں کی طرح کھینچ لائے تھے مجھے شہر کے بازاروں میں سب کو دکھلاتے تھے آئینہ حیراں کی طرح لوگ کہتے ہیں کہ کوئی بھی خریدار نہ تھا کون وہ لوگ تھے اب یاد نہیں آتا ہے چھوڑ آئے تھے سلگتے ہوئے میداں میں مجھے ایڑیاں رگڑیں مگر چشمۂ ...

مزید پڑھیے

سانپ سیڑھی

وہ سانپ سیڑھی کا کھیل تھا جو ہم عہد طفلی میں کھیلتے تھے اگرچہ سانپوں سے گھر بھی جاتے جو کوئی ان میں سے ڈس بھی لیتا تو واپس اپنی جگہ پہ جاتے وہ زہر ہوتا تھا اتنا ہلکا کہ مر نہ پاتے پھر اپنی جد و جہد کی خاطر ہم اٹھ کے قسمت کو آزماتے اور ایسا ہوتا بھی تھا کہ اکثر ہمیں وہ سیڑھی ملی ہے جس ...

مزید پڑھیے

عید

چلو ہم عید منائیں کہ جشن کا دن ہے خوشی کے گیت سنائیں کہ جشن کا دن ہے رخوں پہ پھول کھلائیں کہ جشن کا دن ہے دلوں میں پریت جگائیں کہ جشن کا دن ہے مگر رکو ذرا ٹھہرو یہ سسکیاں کیسی خوشی کہ رت میں دکھوں کی یہ بدلیاں کیسی سنو یہ غور سے مائیں بلک رہی ہیں کہیں یہ دیکھو بچوں کی آنکھیں چھلک ...

مزید پڑھیے

خودداری

کسی چراغ سے ہنس کر کہا یہ آندھی نے کہ میرے سامنے اوقات کیا تمہاری ہے بڑے ہی فخر سے بولا چراغ اے آندھی جو بجھ گیا تو شہیدوں میں نام ہوگا مرا جلا رہا تو اندھیرا غلام ہوگا مرا

مزید پڑھیے

قتل چراغاں

آج پھر قتل چراغاں کا یہ منظر دیکھو آج پھر خاک سی اڑتی ہے چمن زاروں میں پھوٹا پھر خون کا سوتا کہیں کوہساروں میں آج پھر مقتل انساں پہ بڑی رونق ہے آج پھر صورت‌ شیطاں پہ بڑی رونق ہے کچھ دھماکوں نے جو تصویر بدل ڈالی ہے خاک بھی خاک نہیں ہے یہاں اب لالے ہے بن کے کون آیا ہے اب نوع بشر کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 126 سے 960