نمو
خزاں کے دور میں پھیلی برہنہ شاخوں نے
جڑوں کی طرح سے رنگ شفق کو چوسا تھا
سنہری دھوپ کی تابانیوں کو جذب کیا
سفید برف کی نرمی کو یوں سمویا تھا
کہ اب بہار کے آنے پہ وہ گلابی شفق
گلوں کے روپ میں شاخوں پہ پھوٹ آئی ہے
سفید برف نے پھولوں کی پنکھڑی کا بدن
سنہری دھوپ نے پیلے گلوں کو ڈھالا ہے
بہار کا یہ تصور جوان رکھتا ہے
خزاں و یاس کے پھیلائے یخ نظاروں میں
خیال زیست خوشی کامرانیوں کو مری