ریشم جال
پیار کے ریشم لچھوں کو خود ہی الجھاتی ہوں
پہروں بیٹھ دھنک رنگوں کو پھر سلجھاتی ہوں
میری چاہت نے کاتے ہیں ریشم کے یہ سار
ان میں الجھ جانے سے میں پھر کیوں گھبراتی ہوں
اپنے خول میں ریشم کا کیڑا بھی خوش تو نہیں
میں بھی تتلی بن کر موقع پا اڑ جاتی ہوں