رات کا راہی

رات کی کالی سڑک پر روشنی کا دائرہ
ایک تنہا چاپ جیسے ہو مسافر کی صدا
یہ قدم پر عزم تھے اس روشنی کی سمت میں
پر حصار روشنی میں سست یوں پڑتے گئے
تیرگی کے اس سفر میں روشنی کا یہ پڑاؤ
راہرو کے واسطے اک دعوت آرام ہو
روشنی کی حد پہ جا کر اس طرح ٹھٹکے قدم
تیرگی میں ڈوبنا ان کو گوارا پھر نہ ہو
ایک سسکی کی طرح رکتے ہوئے پھر چل پڑے
اک تھکے لہجے میں بڑھ کر کھو گئی قدموں کی چاپ