خود کلامی شہلا نقوی 07 ستمبر 2020 شیئر کریں کیسی آباد ہے یہ تنہائی کس قدر بولتا ہے سناٹا رات تاریک بحر میں ناؤ خود کلامی کی رو میں بہتی ہوئی زیر لب گفتگو کی لہریں ہیں دھواں فضا میں سیاہی کی ان نقابوں میں نہ جانے کس نے یہ چھیڑی ہیں کون سنتا ہے