خود کلامی

کیسی آباد ہے یہ تنہائی
کس قدر بولتا ہے سناٹا
رات تاریک بحر میں ناؤ
خود کلامی کی رو میں بہتی ہوئی
زیر لب گفتگو کی لہریں ہیں
دھواں فضا میں
سیاہی کی ان نقابوں میں
نہ جانے کس نے یہ چھیڑی ہیں
کون سنتا ہے