شاعری

اجنبی راہگزر

اجنبی راہگزر سوچتی ہے کوئی دروازہ کھلے ہر طرف درد کے لمبے سائے راستے پھیل گئے دور گئے دھڑکنیں تیز ہوئیں اور بھی تیز اجنبی راہگزر سوچتی ہے کوئی محجوب نظارہ ابھرے اور مجبور فقیروں کی طرح ہر قدم چلتی ہے دستک دستک ہر نفس ایک نئی راہ ہر اک سمت میں بھاگی لیکن جس طرح وصل کا ہر لمحہ ...

مزید پڑھیے

فریب نظر

سوز الفت کا آسرا لے کر عمر اتنی گزار دی میں نے حسن کی جاں گداز راہوں پر دل کی دنیا نثار کی میں نے زندگی کے حسین لمحوں میں میری محبوب گیت گاتی تھی چاندنی آبشار میں دھل کر ہدیۂ شوق لے کے آتی تھی تلخی زیست کا وجود نہ تھا پاس وادی میں تھی رہ تکمیل سرمدی زیست طوف کرتی تھی اپنی تخئیل ...

مزید پڑھیے

ماضی

زندگی کے حسن کا پیغام تھا پیغام شوق دیدۂ حیراں میں رقصاں تھی محبت کی بہار اس ہجوم کشمکش سے بے خبر تھی بزم ذوق مجھ کو تھا سب نو بہ نو رنگینیوں پر اختیار جب سحر کے پھوٹتے ہی شام کا تھا انتظار اک ہجوم شوق سے تھا جب ہمارا دل گداز ان دنوں کب زندگی کی تلخیاں تھیں آشکار کیف زا تھا دو ...

مزید پڑھیے

اندھیارا

اندھیارا اور خاموشی مل جاتے ہیں درد بہت بڑھ جاتا ہے دنیا پر وحشت چھا جاتی ہے کہنے کو باتیں ہیں با معنی بھی بے معنی بھی جب بات کا مطلب اڑ جائے الفاظ پریشاں ہو جائیں کیا جانے کیا کہنا کس سے کہنا کیا ہے پتھر پتھر ٹھوکر لگتی ہے رشتہ غائب ہو جاتا ہے اپنے سے یا اور کسی سے بندھن ...

مزید پڑھیے

جدائی

وہ سوز و ساز محبت وہ پر فسوں راتیں وہ ہلکا ہلکا ترنم وہ جاں فزا باتیں وہ ندیوں کا تلاطم وہ پتھروں کا خروش وہ ماہتاب جواں زرد پر سکوں خاموش وہ بہکے بہکے مناظر فسوں نواز ہوا وہ نیل کنٹھ وہ چشمے پہ شارکوں کی صدا طلسم عہد محبت کی مد بھری راہیں وفور کیف و جنوں کی حسیں جلو گاہیں مرے ...

مزید پڑھیے

تجسس

کائنات زیست پر افسردگی سی چھا گئی فرط غم سے دل مرا ویرانیوں میں کھو گیا اور میری بے بسی افسون دل کو پا گئی دیکھتے ہی دیکھتے کیا جانے یہ کیا ہو گیا اپنی حیرانی میں کوئی راہ جیسے کھو گیا جادۂ منزل سے کوسوں دور بے بزم خیال بیٹھے بیٹھے میں جہاں میں اک فسانہ ہو گیا کر دیا ہے اس ہجوم ...

مزید پڑھیے

ایشیا جاگ اٹھا

ایشیا جاگ اٹھا خواب گراں سے کیسے دل نشیں جسم میں اک زہر کا طوفان لئے کینچلی بدلے ہوئے سانپ کی پھنکار لئے ہر شقاوت کے لئے موت کا سامان لئے ایشیا جاگ اٹھا اہل مشرق کو نئی زیست کی پھر سے ہے تلاش یہ تڑپتے ہوئے گونگے یہ بلکتے حیواں اپنے آقاؤں کے دیرینہ غلاموں کی یہ لاش ظلم توڑا کیا ...

مزید پڑھیے

گیت خوشی کا گاؤ

پیار کی منزل دور ہے پیارے رگ رگ جاگے خون کا دھارا جب تک آس ہے باقی ساز پر رقص سناؤ گیت خوشی کا گاؤ ناحق درد لبادہ اوڑھے کب کب دکھ کا تحفہ دو گے دل خوں ہو جائے گا جو بھی ہے لے آؤ گیت خوشی کا گاؤ اونچا اونچا اڑنے والو پگلے پن سے حاصل کیا ہے دیکھو نیچے نیچے دیکھو جلدی جلدی آؤ گیت خوشی ...

مزید پڑھیے

آرزو

نہ جانے میرے دل کی خود فریبی کیوں نہیں جاتی تخیل سے حسیں خوابوں کے منظر گم نہیں ہوتے مری جاں سے فسون سوز و غم چھن کیوں نہیں جاتا نہ جانے میرے دل کی خود فریبی کیوں نہیں جاتی وہی غربت وہی مشکل وہی ویراں فضائیں ہیں وہی مظلوم انساں ہیں وہی بے بس دعائیں ہیں نظام بزم انساں میں وہی ظالم ...

مزید پڑھیے

ترے اعجاز سے

ترے اعجاز سے قائم مری دنیا کی رونق ہے تری دل بستگی سے شورشیں ہیں بزم ہستی میں ترے دم سے جہاں میں سرفرازی مجھ کو حاصل ہے میں تیرے گیت گاتا ہوں جہان کیف و مستی میں جنوں انگیز موسم کی قیامت خیز راتوں میں تبسم زا ستاروں کی قطاریں جب بکھرتی ہیں ردائے نیلگوں پر چاندنی جب کھیت کرتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 124 سے 960