اجنبی راہگزر
اجنبی راہگزر سوچتی ہے کوئی دروازہ کھلے ہر طرف درد کے لمبے سائے راستے پھیل گئے دور گئے دھڑکنیں تیز ہوئیں اور بھی تیز اجنبی راہگزر سوچتی ہے کوئی محجوب نظارہ ابھرے اور مجبور فقیروں کی طرح ہر قدم چلتی ہے دستک دستک ہر نفس ایک نئی راہ ہر اک سمت میں بھاگی لیکن جس طرح وصل کا ہر لمحہ ...