شاعری

ہجر و وصال

خود اپنے دل کا خون فضا میں اچھال کے مضموں لکھے ہیں ہم نے فراق و وصال کے کچھ سانحوں کی یاد ہے عنوان روز و شب کچھ حادثے ہیں نوک زباں ماہ و سال کے اک ناتمام درد شریک چمن رہا شاخوں پہ کونپلوں کی نقابیں اجال کے صحن حرم سے انجمن مے فروش تک دو گام فاصلہ ہے ذرا دیکھ بھال کے پچھتا رہے ہیں ...

مزید پڑھیے

کھیل

یارب ترے بندوں سے قضا کھیل رہی ہے اک کھیل بعنوان دغا کھیل رہی ہے جس کھیل کو صرصر نے بھی کھیلا نہ چمن میں اس کھیل کو اب باد صبا کھیل رہی ہے الجھے ہوئے حالات کے تیور ہیں خطرناک بدلے ہوئے موسم کی ہوا کھیل رہی ہے رندان تہی دست سزاوار سبو ہیں! ٹوٹی ہوئی توبہ سے گھٹا کھیل رہی ہے لغزیدہ ...

مزید پڑھیے

معلوم نہیں کیوں

یوں گردش ایام ہے معلوم نہیں کیوں رندوں کا لہو عام ہے معلوم نہیں کیوں مفلس ہے تو اک جنس فرومایہ ہے لا ریب مخلص ہے تو ناکام ہے معلوم نہیں کیوں تہمت کے سزا وار فقیہان حرم ہیں ملا یہاں بد نام ہے معلوم نہیں کیوں اب خون کے دھبے ہیں مدیروں کی قبا پر خامہ دم صمصام ہے معلوم نہیں کیوں خون رگ ...

مزید پڑھیے

ذرا صبر!

اک نئے دور کی ترتیب کے ساماں ہوں گے دست جمہور میں شاہوں کے گریباں ہوں گے برق خود اپنی تجلی کی محافظ ہوگی! پھول خود اپنی لطافت کے گریباں ہوں گے نغمہ و شعر کا سیلاب امڈ آئے گا وقت کے سحر سے غنچے بھی غزل خواں ہوں گے ناؤ منجدھار سے بے خوف و خطر کھیلے گی ناخدا بربط طوفاں پہ رجز خواں ہوں ...

مزید پڑھیے

گمشدہ خیال کا تذکرہ

بھڑک بھڑک کے صداؤں نے رہ دکھائی مجھے ہزار سنگ سفر ہم سفر بنے بگڑے یہ آرزو ہے کہ خواہش کا کوئی پھل نہ گرے مسافرت کے سمندر میں سب کو تنہا کروں وہ مجھ سے چھپتا پھرے اور میں اس کو دیکھا کروں نمائش غم صحرا میں اس پہ سایا کروں بہ رنگ خواب رکے پانیوں کو چکھا کروں پرائے باغوں پہ ابر رواں ...

مزید پڑھیے

بادۂ عشق سے سرشار گرو نانک تھے

بادۂ عشق سے سرشار گرو نانک تھے عابد و زاہد و دیں دار گرو نانک تھے رہ تاریک ضلالت میں پئے خلق خدا شمع سا مظہر انوار گرو نانک تھے حق پرستی کے تصور سے ہمیشہ خوش تھے کفر اور شرک سے بیزار گرو نانک تھے تربیت خلق کی کرتے تھے بڑی کوشش سے اس کے ہر حال میں غم خوار گرو نانک تھے ابر نیساں ...

مزید پڑھیے

المیہ

زندگی تدبیر درماں کے سوا کچھ بھی نہیں ایک پیہم کاوش جاں کے سوا کچھ بھی نہیں اپنے بس میں روشنی ہے اپنے بس میں تیرگی زندگی خود سعیٔ انساں کے سوا کچھ بھی نہیں عقل لرزاں ہر قدم پر اپنی ناداری سے ہے جذبۂ دل شورش جاں کے سوا کچھ بھی نہیں علم و عرفاں کی ہم آہنگی صبور دل سے ہے عقل و دانش ...

مزید پڑھیے

آدرش

منتخب زیست کے لئے منزل کب سے کی ہے مری نگاہوں نے کب سے بخشی ہے زندگی مجھ کو فکر کی ان حسین راہوں نے میرے ہر سمت راہ میں حائل معصیت کی کشش معیشت کی میری قسمت ہے کاوش ہستی جستجو مجھ کو آدمیت کی یک قدم یک ہزار فرسنگ است

مزید پڑھیے

ویرانی

شب کی تاریک رہ گذاروں میں سوکھتے ہیں امید کے دھارے جل رہا ہے شباب کا خرمن ٹوٹتے ہیں امید کے تارے اس فضا میں مہیب پیکر ہیں دل کی بستی اجڑتی جاتی ہے اب ہوا ان حسین راہوں پر ایک عفریت بن کے آتی ہے

مزید پڑھیے

شعلہ ساز

کیف وصال کی وہی دنیا نصیب ہو ہمدم کبھی کبھی یہ دعا مانگتا ہوں میں مٹ جائے جسم و روح کی جس سے یہ غیریت بیگانۂ وفا یہ وفا مانگتا ہوں میں اس شعلہ ساز گیت کی شدت کو پا کے بھی کیوں مجھ سے پوچھتے ہو کہ کیا مانگتا ہوں میں

مزید پڑھیے
صفحہ 123 سے 960