شاعری

آگہی عذاب ہے

مجھے آواز نا دینا پلٹ کر میں نہ آ جاؤں مجھے سب یاد ہیں رستے میں تجھ تک آ بھی سکتا ہوں اگر وہ سحر کی نگری جہاں دروازے جادو کے جو میرے چھونے سے کھلتے ہیں گر پھر چھو لیا میں نے انہی میں سے کسی کو تو میں اندر آ بھی سکتا ہوں مجھے تم راستہ نا دو

مزید پڑھیے

وقفہ

میرے دست مقدر پہ یہ گامزن مدتوں آفتوں سے گزرتی رہیں میرے دکھ درد میں یہ بھی شامل رہیں انگلیاں تھام کر میرے خوابوں کی یہ سنگ چلتی رہیں منزلوں کی طرف میری آنکھوں نے جو کچھ نہ دیکھا ابھی مثل آئینہ مجھ کو دکھاتی ہیں یہ وہ سبھی گیت جو میں نے لکھے نہیں وہ مجھے گنگنا کر سناتی ہیں یہ بھید ...

مزید پڑھیے

نقاب پوش

اے میرے بد نصیب باپ چیخ چیخ کر رونا کچھ بھی ثابت نہیں کرتا وقت کچھ بھی نہیں ہے اور حیرت زدہ دروازے یہ تو روز کا معاملہ ہے انجن کے کوئلے کی طرح جل نہ اٹھنا ورنہ راکھ کی طرح انڈیل دئے جاؤ گے اے میرے بد نصیب باپ زندگی کی چھوٹی بندرگاہوں پر بڑے جہاز لنگر انداز نہیں ہوتے کچھ عجیب ...

مزید پڑھیے

تابوت نگر

مجھے پتہ بھی نہ چلا اور میں تابوت نگر آ گیا یہ اتنا مبہم بھی نہ تھا تابوت نگر جس کی گلیوں میں انسان اپنی پرچھائیوں سے کٹ جاتے ہیں تابوت نگر کے چار چوب دروازے اور دریچے انسانوں کے منتظر ہیں جو اپنے گھروں میں دفن ہیں جب یخ بستہ ہوائیں ٹکراتی ہیں ان گھروں سے تو یہ لوگ اپنی بدبو دار ...

مزید پڑھیے

الگنی

الگنی جو دھوپ میں لٹک رہی تھی ٹوٹ کے اسی کو پھر سے باندھ کے سبز رنگ کا ریشمی لباس اس پہ ٹانگ کے وہ خوش ہوئی ہے اس قدر کہ جیسے اس نے پا لیے ہوں گر سبھی حیات کے مگر اسے نہیں پتہ یہ الگنی جو ٹوٹ کے لٹک رہی تھی دھوپ میں یہ اب بہت اداس ہے

مزید پڑھیے

مصرعے

مصرعے دم پہ رکھ دیتی ہوں چاول قاب میں بھیگ چکے ہیں روٹی بیلن کے نیچے ہے پیاز کا تڑکا دال پہ ڈال کے چاول پکنے رکھے ہیں کیٹل میں ہے چائے چڑھائی جب تک چائے میں بھانپ بنے میں مصرعے دم پہ رکھ دیتی ہوں اور اسی اثنا میں برتن دسترخوان پہ چن دیتی ہوں دسترخوان پہ کپ پلیٹوں اور چمچوں کے شور ...

مزید پڑھیے

لکڑہاری

سفینہ ساز تھا وہ لکڑیاں میں کاٹ لاتی تھی سو بس اک دن کہا اس نے لکڑہاری انوکھے اک سفینے کی ہی اب تخلیق باقی ہے مجھے درکار ہے جس کے لئے نادیدہ جنگل کی کھنکتی سرمئی لکڑی اگر تو ڈھونڈ لائے تو بنا سکتا ہوں میں نادر سفینہ اک میں اس کی بات سنتے ہی یکایک چونک اٹھی پھر نظر بھر کر اسے دیکھا ...

مزید پڑھیے

ٹیوشن

چنتی ہوں میں لمحہ لمحہ ساحل سے تابندہ موتی اور باغوں سے پھول موتی اور پھولوں کی جب پازیب بنا کر پہنوں گی چڑھتا سورج وجد میں آ کے میری ایڑی چومے گا اور سمندر شام کنارے پیاس کا دامن کھولے گا

مزید پڑھیے

خطیب اعظم (سید عطاء اللہ شاہ بخاری)۔

خطیب اعظم عرب کا نغمہ عجم کی لے میں سنا رہا ہے سر چمن چہچہا رہا ہے سر وغا مسکرا رہا ہے حدیث سرو و سمن نچھاور زبان شمشیر اس پہ قرباں مسیلمہ ایسے جعل سازوں کی بیخ و بنیاد ڈھا رہا ہے قرون اولی کی رزم گاہوں سے مرتضیٰ کا جلال لے کر دبیز نیندیں جھنجھوڑتا ہے مجاہدوں کو جگا رہا ہے ہیں اس ...

مزید پڑھیے

اقبال سے ہم کلامی

کل اذان صبح سے پہلے فضائے قدس میں میں نے دیکھا کچھ شناسا صورتیں ہیں ہم نشیں تھے حکیم شرق سے شیخ مجدد ہم کلام گوش بر آواز سب دانش وران علم و دیں بوالکلام آزاد سے غالبؔ تھے مصروف سخن میرؔ و مومنؔ دور حاضر کی غزل پہ نکتہ چیں اس سے کچھ ہٹ کر گلابی شاخچوں کی چھاؤں میں تھے ولی اللہ کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 122 سے 960