شاعری

تو نے دیکھا ہے جس نظر سے مجھے

اس نظر بس اسی نظر کی قسم جو مجھے یہ بتا کے لوٹ گئی کیوں رگ جاں میں پھول کھلتے ہیں پھول کیوں پیرہن بدلتے ہیں پیراہن کیوں حسین ہوتے ہیں دل کو کب عقل آنے لگتی ہے عقل کب سو قیاس بنتی ہے کب قیاسوں میں گھر سنورتے ہیں چاند کے ہر طواف کے معانی خوشبوؤں کے حصار کا مطلب کیوں ہے باد نسیم کی ...

مزید پڑھیے

یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو

یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو بھلے چھین لو مجھ سے سے میری جوانی مگر مجھ کو لوٹا دو وہ بچپن کا ساون وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی مگر مجھ کو لوٹا دو بچپن کا ساون وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی محلے کی سب سے ...

مزید پڑھیے

تصور ٹوٹ جاتا ہے

سبھی کو یوں تو دنیا میں ہزاروں لوگ ملتے ہے مگر اس بھیڑ میں مجھ کو نظر تم ہی نہیں آتے تمہیں میں ڈھونڈتی پھرتی ہوں صحراؤں میں گلشن میں چمن میں اور بیاباں میں جہاں تک روشنی سورج کی پہونچی ہے وہاں تک بھی جہاں تک فکر کی پرواز پہنچی ہے وہاں تک بھی تمہیں ڈھونڈا ندی کے پانیوں کی ان رواں ...

مزید پڑھیے

اجنمی بیٹی

تو نے آنے نہ دیا دنیا میں میں ترے جسم کا ہی حصہ تھی اس طرح کیوں مٹا دیا مجھ کو میں محبت کا تیرے قصہ تھی مجھ کو حصوں میں بانٹ ڈالا تھا کتنے ٹکڑوں میں کاٹ ڈالا تھا میرے ہونے سے ہوتا کیا نقصان نوچ لی کیوں یہ تم نے ننھی جان میرے ہونے سے کیا کمی ہوتی میں ترے گھر کی لکشمی ہوتی کچھ مقدر ...

مزید پڑھیے

ذمہ داری

کاش تو آ کے دیکھ سکتا کبھی آج کتنی بدل گئی ہوں میں چار دن کی تری جدائی میں کس قدر اب سنبھل گئی ہوں میں اک زمانہ تھا جب ترا سایہ میرے سر پر تھا برگدوں کی طرح کتنی بے فکر زندگی تھی مری ہوش اپنا نہ تھا کسی کا خیال اپنے کمرے میں بس پڑے رہنا رات دن صرف شاعری کرنا وقت سے سونا جاگنا ...

مزید پڑھیے

بے معنی رشتے

جیسے ماحول میں انساں کا گزر ہوتا ہے اس کے کردار میں ویسا ہی اثر ہوتا ہے جن کو قابو نہیں ہوتا ہے زباں پر اپنی پار کرتے ہیں حدیں وہم و گمان پر اپنی صرف لفظوں پہ وفا کا جو بھرم رکھتے ہیں عملی دنیا میں وہ کب اپنے قدم رکھتے ہیں حق کے اظہار پہ ہر وقت جو انکار کریں ہر کسی بات پہ جو طنز ...

مزید پڑھیے

تمہاری یاد

کہاں ہے نیند آنکھوں میں پٹکتی سر اداسی ہے ستم کی خاک سے لپٹی تھکن ہے بد حواسی ہے مرے آنسو بھگوتے ہیں مرا تکیہ مرا بستر تمہارے بعد سے اب تک یہ میرا حال ہے بد تر چلے یہ نبض بھی مدھم توازن میں نہیں دھڑکن لگے یہ سانس بھی بھاری کی اب دنیا لگے بندھن نہیں ہو ساتھ تم میرے مجھے ہر پل لگے ...

مزید پڑھیے

جو ممکن ہو اگر ایسا

مجھے لوٹا سکو گے تم مری چھوٹی سی وہ دنیا مرے احساس کی شدت مرے الفاظ کی حرمت گزارے سنگ جو لمحے مری خواہش مرے سپنے وہ بے چینی وہ بیتابی مری آنکھوں کی بے خوابی لبوں کی وہ ہنسی میری نگاہوں کی چمک میری امنگوں سے بھری باتیں حسیں وہ دن جواں راتیں وہ رنگوں سے بھری شامیں بس اک دوجے کو ہم ...

مزید پڑھیے

نا سازگار حالات

تن پہ اوڑھے ہوئے چادر غم تنہائی کی آج بیمار میں بستر پہ پڑی سوچتی ہوں حال ناساز ہے میرا یہ بتاؤں کس کو اپنی تکلیف پریشانی سناؤں کس کو جب سہا جاتا نہیں درد تو اٹھ جاتی ہوں اور پھر اٹھ کے دوا زہر سی میں کھاتی ہوں کوئی ہم درد تو ہوتا کہیں نزدیک میرے دیکھ کر درد مرا وہ بھی پریشاں ...

مزید پڑھیے

درد سانسو کے ساتھ چلتا ہے

تم کو سچی یہ بات سمجھاتی درد کچھ کم تمہارا کر پاتی اس جہاں میں سبھی پریشاں ہیں سب کے جیون میں غم کے طوفاں ہیں لوگ دنیا میں کیسے جیتے ہے غم نگلتے ہیں اشک پیتے ہیں درد سانسو کے ساتھ چلتا ہے غم کا موسم کہاں بدلتا ہے غم ضروری ہے دل کو سمجھاؤ تھوڑے مضبوط دل کے ہو جاؤ

مزید پڑھیے
صفحہ 112 سے 960