شاعری

ہر تذکرہ کتاب میں تفصیل سے ہوا

ہر تذکرہ کتاب میں تفصیل سے ہوا میرا سفر شروع ہی تکمیل سے ہوا اس خاکداں پہ پھیلنے والا ہے ایک روز جس قہر کا ظہور کبھی نیل سے ہوا ہر سمت گھومتی تھی یہاں رات جا بجا پھر دن تمہارے چہرۂ قندیل سے ہوا اگتے ہیں ساحلوں پہ کسی پھول کی طرح کیسا یہ عشق طائروں کو جھیل سے ہوا یہ جو تمہیں ...

مزید پڑھیے

اک لہر ملی اپنے بہاؤ سے نکل کر

اک لہر ملی اپنے بہاؤ سے نکل کر چوما ہے اسے میں نے بھی ناؤ سے نکل کر روشن ہیں ترے شعلۂ صد رنگ میں ورنہ ہم کب کے بجھے ہوتے الاؤ سے نکل کر میں سوچتا ہوں زخم اگر بھر گیا دل کا یہ درد کہاں جائے گا گھاؤ سے نکل کر بارانی علاقوں کی طرح آنکھوں کی عادت ہم جائیں کہاں اپنے کٹاؤ سے نکل کر میں ...

مزید پڑھیے

چمکتی اوس کی صورت گلوں کی آرزو ہونا

چمکتی اوس کی صورت گلوں کی آرزو ہونا کسی کی سوچ میں رہنا کسی کی جستجو ہونا وہ پتھر ہے پگھلنے میں ذرا سا وقت تو لے گا ابھی ممکن نہیں ہے اس سے کوئی گفتگو ہونا اسے میں دیکھتا جاؤں کہاں یہ بات آنکھوں میں نہیں آسان سورج کے مسلسل روبرو ہونا اسے آتا ہے لمحوں میں بھی اپنے عکس کو ...

مزید پڑھیے

شکم ماہی کبھی طور عطا کرتا ہے

شکم ماہی کبھی طور عطا کرتا ہے تیرگی اس کی وہی نور عطا کرتا ہے زرد موسم وہی دیتا ہے ہری ٹہنی کو خالی پیڑوں کو وہی بور عطا کرتا ہے نار دوزخ بھی ہے مخلوق اسی خالق کی وہی فردوس وہی حور عطا کرتا ہے اس کو کچھ خوف نہیں دہر کے آقاؤں کا وہ کمک ظاہر و مستور عطا کرتا ہے بھید کھلتے ہیں کبھی ...

مزید پڑھیے

فصل خزاں میں شاخ سے پتا نکال دے

فصل خزاں میں شاخ سے پتا نکال دے سوکھے شجر سے کھینچ کے سایہ نکال دے مجھ کو اماں ہو قریۂ وہم و گمان میں دے کر یقین دل سے تو خدشہ نکال دے چاہے شرر سے پھونک دے سارے جہان کو چاہے جسے وہ آگ سے زندہ نکال دے رہبر نہیں ہے اس سا کوئی دو جہان میں بحر رواں کو کاٹ کر رستہ نکال دے بے جان ...

مزید پڑھیے

رواں ان پانیوں پر بلبلے ہیں

رواں ان پانیوں پر بلبلے ہیں صدف گہرے سمندر میں رکھے ہیں شگوفے پھوٹتے ہیں نخل دل پر مرے بچے مجھے جب چومتے ہیں ہوا میں تتلیاں اڑتی ہیں اب بھی ابھی تک لوگ ہنستے بولتے ہیں تمہیں معلوم ہے نا ان لبوں پر مرے حصے کے کچھ بوسے پڑے ہیں ہمارے ساتھ رہتے ہیں ہمیشہ بڑے اچھے ہمارے مسئلے ...

مزید پڑھیے

شب میں طلوع چہرۂ مہتاب کیجئے

شب میں طلوع چہرۂ مہتاب کیجئے آغاز روشنی کا نیا باب کیجئے یہ ملگجی سی رات دھواں اور یہ وصال اس مہربان وقت کو آداب کیجئے میں تشنگی سمیٹ کے لایا ہوں عمر کی یک لمحۂ وصال میں سیراب کیجئے ایسے تو ان میں عکس مرا ڈوب جائے گا آنکھیں نہ اپنی خانۂ سیلاب کیجئے پچھتا رہا ہوں خود کو حقیقت ...

مزید پڑھیے

اندھیرے کو نگلتا جا رہا ہوں

اندھیرے کو نگلتا جا رہا ہوں دیا ہوں اور جلتا جا رہا ہوں مری ہر سمت یہ سائے سے کیوں ہیں میں جیسے دن ہوں ڈھلتا جا رہا ہوں دھواں سا پھیلتا جاتا ہوں بجھ کر حدوں سے اب نکلتا جا رہا ہوں زوال آدمیت دیکھ کر میں کف افسوس ملتا جا رہا ہوں مجھے تو ٹوٹنا ہے حشر بن کر نہ جانے کیوں میں ٹلتا جا ...

مزید پڑھیے

بنتے رہے ہیں دل میں عجب گرد باد سے

بنتے رہے ہیں دل میں عجب گرد باد سے رنگوں کو آزما نہ سکے اعتماد سے یہ اور بات آبلے ہونٹوں پہ پڑ گئے دہلیز چوم لی ہے مگر اعتقاد سے برسوں کی بے زبان تھکاوٹ لپٹ گئی جب شہر دل میں لوٹ کے آئے جہاد سے سرسوں کی چاندنی سے برہنہ درخت تک ہر شے کی دل کشی نکھر آئی تضاد سے کچھ خوش دہن رفیق ...

مزید پڑھیے

لفظ کا کتنا تقدس ہے یہ کب جانتے ہیں

لفظ کا کتنا تقدس ہے یہ کب جانتے ہیں لوگ بس بات بنا لینے کا ڈھب جانتے ہیں اپنی پہچان بھلا ڈولتے لفظوں میں کہاں ضبط کا نشہ لرزتے ہوئے لب جانتے ہیں سب نے گلکارئ دیوار سرا ہی لیکن کتنے دیوار اٹھانے کا سبب جانتے ہیں شہر والے تو ہواؤں میں گھلے زہر کا حال رنگ تصویر سے اڑ جاتے ہیں تب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 981 سے 4657