شاعری

ایک ہنگامہ بپا ہے عرصۂ افلاک پر

ایک ہنگامہ بپا ہے عرصۂ افلاک پر خامشی پھیلا رکھی ہے آج میں نے خاک پر اب مرا سارا ہنر مٹی میں مل جانے ہے ہاتھ اس نے رکھ دئے ہیں دیدۂ نمناک پر روز بڑھتی ہی چلی جاتی ہے بینائی مری روز رکھ دیتا ہوں آنکھوں کو تیری پوشاک پر

مزید پڑھیے

بجھی بجھی ہوئی آنکھوں میں گوشوارۂ خواب

بجھی بجھی ہوئی آنکھوں میں گوشوارۂ خواب سو ہم اٹھائے ہوئے پھرتے ہیں خسارۂ خواب وہ اک چراغ مگر ہم سے دور دور جلا ہمیں نے جس کو بنایا تھا استعارۂ خواب چمک رہی ہے اک آواز میرے حجرے میں کلام کرتا ہے آنکھوں سے اک ستارۂ خواب میں اہل دنیا سے مصروف جنگ ہو جاؤں کہ پچھلی رات ملا ہے ...

مزید پڑھیے

سکوت ارض و سما میں خوب انتشار دیکھوں

سکوت ارض و سما میں خوب انتشار دیکھوں خلا میں اپنی صدا کا پھیلا غبار دیکھوں عجب نہیں ہے کہ آ ہی جائے وہ خوش سماعت دیار دل سے میں کیوں نہ اس کو پکار دیکھوں کھڑی ہے دیوار آنسوؤں کی مرے برابر تو کس طرح میں تری تمنا کے پار دیکھوں بکھرتا جاتا ہوں جیسے تسبیح کے ہوں دانے جب اس کے آنسو ...

مزید پڑھیے

ہر ایک سانس کے پیچھے کوئی بلا ہی نہ ہو

ہر ایک سانس کے پیچھے کوئی بلا ہی نہ ہو میں جی رہا ہوں تو جینا مری سزا ہی نہ ہو جو ابتدا ہے کسی انتہا میں ضم تو نہیں جو انتہا ہے کہیں وہ بھی ابتدا ہی نہ ہو مری صدائیں مجھی میں پلٹ کے آتی ہیں وہ میرے گنبد بے در میں گونجتا ہی نہ ہو بجھا رکھے ہیں یہ کس نے سبھی چراغ ہوس ذرا سا جھانک کے ...

مزید پڑھیے

دالان میں کبھی کبھی چھت پر کھڑا ہوں میں

دالان میں کبھی کبھی چھت پر کھڑا ہوں میں سایوں کے انتظار میں شب بھر کھڑا ہوں میں کیا ہو گیا کہ بیٹھ گئی خاک بھی مری کیا بات ہے کہ اپنے ہی اوپر کھڑا ہوں میں پھیلا ہوا ہے سامنے صحرائے بے کنار آنکھوں میں اپنی لے کے سمندر کھڑا ہوں میں سناٹا میرے چاروں طرف ہے بچھا ہوا بس دل کی ...

مزید پڑھیے

کچھ بھی نہیں ہے باقی بازار چل رہا ہے

کچھ بھی نہیں ہے باقی بازار چل رہا ہے یہ کاروبار دنیا بے کار چل رہا ہے وہ جو زمیں پہ کب سے اک پاؤں پر کھڑا تھا سنتے ہیں آسماں کے اس پار چل رہا ہے کچھ مضمحل سا میں بھی رہتا ہوں اپنے اندر وہ بھی بہت دنوں سے بیمار چل رہا ہے شوریدگی ہماری ایسے تو کم نہ ہوگی دیکھو وہ ہو کے کتنا تیار چل ...

مزید پڑھیے

نہ چھین لے کہیں تنہائی ڈر سا رہتا ہے

نہ چھین لے کہیں تنہائی ڈر سا رہتا ہے مرے مکاں میں وہ دیوار و در سا رہتا ہے کبھی کبھی تو ابھرتی ہے چیخ سی کوئی کہیں کہیں مرے اندر کھنڈر سا رہتا ہے وہ آسماں ہو کہ پرچھائیں ہو کہ تیرا خیال کوئی تو ہے جو مرا ہم سفر سا رہتا ہے میں جوڑ جوڑ کے جس کو زمانہ کرتا ہوں وہ مجھ میں ٹوٹا ہوا ...

مزید پڑھیے

مرے ٹھہراؤ کو کچھ اور بھی وسعت دی جائے

مرے ٹھہراؤ کو کچھ اور بھی وسعت دی جائے اب مجھے خود سے نکلنے کی اجازت دی جائے موت سے مل لیں کسی گوشۂ تنہائی میں زندگی سے جو کسی دن ہمیں فرصت دی جائے بے خدوخال سا اک چہرا لیے پھرتا ہوں چاہتا ہوں کہ مجھے شکل و شباہت دی جائے بھرے بازار میں بیٹھا ہوں لیے جنس وجود شرط یہ ہے کہ مری خاک ...

مزید پڑھیے

حدود شہر طلسمات سے نہیں نکلا

حدود شہر طلسمات سے نہیں نکلا میں اپنے دائرۂ ذات سے نہیں نکلا ابھی تو خود پہ مرا اختیار باقی ہے ابھی تو کچھ بھی مرے ہاتھ سے نہیں نکلا وہ وقت بن کے مرے سامنے رہا ہر دن تمام عمر میں اوقات سے نہیں نکلا

مزید پڑھیے

نئے جہانوں کا اک استعارہ کر کے لاؤ

نئے جہانوں کا اک استعارہ کر کے لاؤ بدن کی خاک اٹھاؤ ستارہ کر کے لاؤ وگرنہ عشق میں اک آنچ کی کمی ہوگی یہ دل ہے جاؤ اسے پارہ پارہ کر کے لاؤ تمہارے پاس ہی ہم خود کو چھوڑ آئے ہیں کبھی تم آؤ تو ہم کو ہمارا کر کے لاؤ ہوس کے گہرے سمندر سے ہیں گھرے ہوئے ہم ہمارے سامنے خود کو کنارا کر کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 973 سے 4657