امکان کھلے در کا ہر آن بہت رکھا
امکان کھلے در کا ہر آن بہت رکھا اس گنبد بے در نے حیران بہت رکھا آباد کیا دل کو ہنگامۂ حسرت سے صحرائے تگ و دو کو ویران بہت رکھا اک موج فنا تھی جو روکے نہ رکی آخر دیوار بہت کھینچی دربان بہت رکھا تاروں میں چمک رکھی پھولوں میں مہک رکھی اور خاک کے پتلے میں امکان بہت رکھا جلتی ہوئی ...