شاعری

امکان کھلے در کا ہر آن بہت رکھا

امکان کھلے در کا ہر آن بہت رکھا اس گنبد بے در نے حیران بہت رکھا آباد کیا دل کو ہنگامۂ حسرت سے صحرائے تگ و دو کو ویران بہت رکھا اک موج فنا تھی جو روکے نہ رکی آخر دیوار بہت کھینچی دربان بہت رکھا تاروں میں چمک رکھی پھولوں میں مہک رکھی اور خاک کے پتلے میں امکان بہت رکھا جلتی ہوئی ...

مزید پڑھیے

دنیا کے کچھ نہ کچھ تو طلب گار سے رہے

دنیا کے کچھ نہ کچھ تو طلب گار سے رہے ہم اپنی ہی نظر میں خطا کار سے رہے اک مرحلہ تھا ختم ہوا دشت خواب کا پھر عمر بھر جہاں رہے بیزار سے رہے جرأت کسی نے وادئ وحشت کی پھر نہ کی ہم خستہ حال آہنی دیوار سے رہے اک عکس ہے جو ساتھ نہیں چھوڑتا کبھی ہم تا حیات آئینہ بردار سے رہے ہر صبح اپنے ...

مزید پڑھیے

فقیہ شہر سے رشتہ بنائے رہتا ہوں

فقیہ شہر سے رشتہ بنائے رہتا ہوں شریف گھر کا ہوں عزت بچائے رہتا ہوں مگر یہ راہ تو اس طرح طے نہیں ہوگی میں دونوں پاؤں زمیں پر جمائے رہتا ہوں اکیلے شخص پہ دشمن دلیر ہوتے ہیں تو ساتھ میں کوئی قصہ لگائے رہتا ہوں بنائے کچھ نہیں بنتی زمیں پہ جب مجھ سے تو آسمان کو سر پر اٹھائے رہتا ...

مزید پڑھیے

آنکھوں کو میسر کوئی منظر ہی نہیں تھا

آنکھوں کو میسر کوئی منظر ہی نہیں تھا سر میرا گریبان سے باہر ہی نہیں تھا بے فیض ہوائیں تھیں نہ سفاک تھا موسم سچ یہ ہے کہ اس گھر میں کوئی در ہی نہیں تھا سر چین سے رکھا نہ رکے پاؤں کے دل میں اک بات بھی پیوست تھی خنجر ہی نہیں تھا ہم ہار تو جاتے ہی کہ دشمن کے ہمارے سو پیر تھے سو ہاتھ ...

مزید پڑھیے

کچھ دفن ہے اور سانس لیے جاتا ہے

کچھ دفن ہے اور سانس لیے جاتا ہے اک سانپ ہے جو قلب میں لہراتا ہے اک گونج ہے جو خون میں چکراتی ہے اک راز ہے پر پیچ ہوا جاتا ہے اک شور ہے جو کچھ نہیں سننے دیتا اک گھر تھا جو بازار ہوا جاتا ہے اک نرم کلی ہے جو کھلی پڑتی ہے اک دشت بلا ہے کہ جلا جاتا ہے اک خوف ہے جو کچھ نہیں کرنے دیتا اک ...

مزید پڑھیے

تمنا دل میں گھر کرتی بہت ہے

تمنا دل میں گھر کرتی بہت ہے ہوا اس دشت میں چلتی بہت ہے جمانا رنگ اس دنیا سے سیکھے کہ ہے تو کچھ نہیں بنتی بہت ہے اسے اک پل کبھی رہنے نہ دینا پھپھوندی قلب پر جمتی بہت ہے کہ ساری عمر انگارے چنے ہیں ہتھیلی ہاتھ کی جلتی بہت ہے سہیلؔ احمد سمجھ کر صرف کرنا ذرا سی زندگی لگتی بہت ہے

مزید پڑھیے

میں کھو گیا تو شہر فن میں دستیاب ہو گیا

میں کھو گیا تو شہر فن میں دستیاب ہو گیا یہاں جو حرف مٹ گیا وہاں کتاب ہو گیا وہ اک نظر تو کچھ نہ تھی کہ راہ سے بھٹک گئی پلٹ کے اس کو دیکھنا یہی عذاب ہو گیا ہماری فہم نارسا کے واسطے بچا ہی کیا کہ حسن کائنات تو ترا نقاب ہو گیا گناہ میرے یاد کر کے زخم سارے ہنس پڑے لہو لہو بدن مرا کھلا ...

مزید پڑھیے

سب تماشے ہو چکے اب گھر چلو

سب تماشے ہو چکے اب گھر چلو دیدہ و دل کھو چکے اب گھر چلو کر چکے سیراب اشکوں سے زمیں درد دانہ بو چکے اب گھر چلو کر چکے ٹوپی میں جگنو کو اسیر سانپ کا من کھو چکے اب گھر چلو خواہشیں تھک ہار کے رخصت ہوئیں بوجھ سارے ڈھو چکے اب گھر چلو منتظر ہوگا کوئی دہلیز پر اس سرا میں سو چکے اب گھر ...

مزید پڑھیے

پیڑ اونچا ہے مگر زیر زمیں کتنا ہے

پیڑ اونچا ہے مگر زیر زمیں کتنا ہے لب پہ ہے نام خدا دل میں یقیں کتنا ہے ہم نے تو موند لیں آنکھیں ہی تری دید کے بعد بوالہوس جانتے ہیں کوئی حسیں کتنا ہے دیکھتا ہے وہ مجھے لطف سے گاہے گاہے آنکتا ہے کہ غنی خاک نشیں کتنا ہے ایک تخئیل کے جنگل پہ تصرف تھا پہ اب یہ علاقہ بھی مرے زیر نگیں ...

مزید پڑھیے

جیسا ہمیں گمان تھا ویسا نہیں رہا

جیسا ہمیں گمان تھا ویسا نہیں رہا قصہ بھی اختتام پہ قصہ نہیں رہا اک خوف ساتھ ساتھ ہے اونچے مکان کا ایسا نہیں کہ شہر میں سایہ نہیں رہا سیلاب اپنے ساتھ بہا لے گیا اسے نیلا سبک خرام وہ دریا نہیں رہا کشتی کے بادبان میں سمٹی رہی ہوا لطف سفر کہ میں تھا اکیلا نہیں رہا ملتی ہے بیچ بیچ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 97 سے 4657