شاعری

طرز اظہار میں کوئی تو نیا پن ہوتا

طرز اظہار میں کوئی تو نیا پن ہوتا درد رنگین بدن شیشے کا برتن ہوتا کس لیے روز بدلتا ہوں میں ملبوس نیا ایسا کچا تو نہ اس نقش کا روغن ہوتا پیر کمرے سے نکالے تو میں بازار میں تھا ہے یہ حسرت کہ مرے گھر کا بھی آنگن ہوتا آنچ مل جاتی جو کچھ اور تو جوہر کھلتے تم جسے راکھ سمجھتے ہو وہ کندن ...

مزید پڑھیے

تجھ کو پانے کے لئے خود سے گزر تک جاؤں

تجھ کو پانے کے لئے خود سے گزر تک جاؤں ایسی جینے کی تمنا ہے کہ مر تک جاؤں اب نہ شیشوں پہ گروں اور نہ شجر تک جاؤں میں ہوں پتھر تو کسی دست ہنر تک جاؤں اک دھندلکا ہوں ذرا دیر میں چھٹ جاؤں گا میں کوئی رات نہیں ہوں جو سحر تک جاؤں جس کے قدموں کے قصیدوں سے ہی فرصت نہ ملے کیسے اس شخص کی ...

مزید پڑھیے

بدن قبول ہے عریانیت کا مارا ہوا

بدن قبول ہے عریانیت کا مارا ہوا مگر لباس نہ پہنیں گے ہم اتارا ہوا وہ جس کے سرخ اجالے میں ہم منور تھے وہ دن بھی شب کے تعاقب میں تھا گزارا ہوا پناہ گاہ شجر فتح کر کے سویا ہے مسافتوں کی تھکن سے یہ جسم ہارا ہوا مجھے زمین کی پرتوں میں رکھ دیا کس نے میں ایک نقش تھا افلاک پہ ابھارا ...

مزید پڑھیے

خواہش تخت نہ اب درہم و دینار کی گونج

خواہش تخت نہ اب درہم و دینار کی گونج وادیٔ چشم میں ہے حسرت دیدار کی گونج زخم در زخم سخن اور بھی ہوتا ہے وسیع اشک در اشک ابھرتی ہے قلم کار کی گونج کاش میری بھی سماعت کو ٹھکانہ دے دے دشت محشر میں ترے سایۂ دیوار کی گونج آہٹیں بھی نہیں کرتے مرے اعمال کبھی ایک آواز نہاں ہے مرے کردار ...

مزید پڑھیے

راستہ چاہئے دریا کی فراوانی کو

راستہ چاہئے دریا کی فراوانی کو ہے اگر زعم تو لے روک لے طغیانی کو آئنہ ٹوٹ گیا شکل کے ذرے بکھرے کیا چھپاتا ہے اب اس دشت کی ویرانی کو آب یاری جو ہوئی ہے تو شجر بھی ہوں گے تو نے سمجھا تھا غلط خون کی ارزانی کو لے یہ طوفاں تری دہلیز تک آ پہنچا ہے برف سمجھا تھا اسی ٹھہرے ہوئے پانی ...

مزید پڑھیے

مت پوچھ حرف درد کی تفسیر کچھ بھی ہو

مت پوچھ حرف درد کی تفسیر کچھ بھی ہو وہ خواب لا جواب تھا تعبیر کچھ بھی ہو ہر نقش کو مٹا کے گزرتی رہی ہوا لوح جہاں پہ وقت کی تحریر کچھ بھی ہو بہتر نہیں کہ تجھ کو ملے کاغذی لباس رنگوں کا امتزاج ہے تصویر کچھ بھی ہو جب حکم ہو گیا ہے کہ نالہ بہ لب رہیں پھر وہم کیا ہے زہر کی تاثیر کچھ ...

مزید پڑھیے

مری تھکن مرے قصد سفر سے ظاہر ہے

مری تھکن مرے قصد سفر سے ظاہر ہے اداس شام کا منظر سحر سے ظاہر ہے نہ کوئی شاخ عبارت نہ کوئی لفظ کا پھول یہ عہد بانجھ ہے قحط ہنر سے ظاہر ہے جو پوچھا کیا ہوئیں شاخیں ثمر بدست جو تھیں کہا کہ دیکھ لو سب کچھ شجر سے ظاہر ہے فقط یہ وحشت اظہار ہے علاج نہیں یہ بوجھ یوں نہیں اترے گا سر سے ...

مزید پڑھیے

یہ فیصلہ بھی مرے دست با کمال میں تھا

یہ فیصلہ بھی مرے دست با کمال میں تھا جو چھیننے میں مزہ ہے وہ کب سوال میں تھا کس آفتاب کی آہٹ سے شہر جاگ اٹھا وگرنہ میں بھی کہیں مست اپنے حال میں تھا ترے بیاں نے دکھایا جو آئنہ تو کھلا کہ ہر شعور مرے گوشۂ خیال میں تھا مرے سفر کے لیے روز و شب بنے ہی نہیں تمہیں کہو کہ میں کب قید ماہ ...

مزید پڑھیے

ابر سرکا چاند کی چہرہ نمائی ہو گئی

ابر سرکا چاند کی چہرہ نمائی ہو گئی اک جھلک دیکھا اسے اور آشنائی ہو گئی سو گیا تو خواب اپنے گھر میں لے آئے مجھے جیسے میری وقت سے پہلے رہائی ہو گئی میرے کمرے میں کوئی تصویر پہلے تو نہ تھی اس کو دیکھا سادے کاغذ پر چھپائی ہو گئی میں کھلی چھت سے اتر آیا بھرے بازار میں سامنے کھڑکی کی ...

مزید پڑھیے

ہوں میں بھی وہی میرا مقابل بھی وہی ہے

ہوں میں بھی وہی میرا مقابل بھی وہی ہے پتھر بھی وہی آئینۂ دل بھی وہی ہے مجبور ہوں میں آب و ہوا ہے مری مختار جو لالہ و گل کی ہے مری گل بھی وہی ہے جیسے وہ کسی آئنہ خانہ میں مکیں ہو پیکر بھی وہی عکس وہی ظل بھی وہی ہے یہ خواب کا عالم ہے کہ لمحات ہیں ساکت میں اب بھی وہیں بیٹھا ہوں محفل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 965 سے 4657