شاعری

یہ کوئی بات ہوئی مل کے جدا ہو جانا

یہ کوئی بات ہوئی مل کے جدا ہو جانا کاش آئے تمہیں پابند وفا ہو جانا اس تصور ہی سے دل کانپ رہا ہے میرا میرے محبوب کا اور مجھ سے جدا ہو جانا یہ سر عرش معلیٰ بھی پہنچ جائے تو کیا نہیں ممکن کبھی انساں کا خدا ہو جانا اہل محفل نے تو سمجھا تھا حقیقت اس کو اک دکھاوا تھا ترا مجھ سے خفا ہو ...

مزید پڑھیے

آپ سے عرض حال کرتے ہیں

آپ سے عرض حال کرتے ہیں واقعی ہم کمال کرتے ہیں آئنہ دل کا ٹوٹ جاتا ہے لاکھ ہم دیکھ بھال کرتے ہیں اسی ظالم سے ہے امید وفا اپنے دل سے سوال کرتے ہیں آپ کے حرف تلخ بھی اکثر زخم کا اندمال کرتے ہیں ذکر ہوتا ہے جب حسینوں کا پیش تیری مثال کرتے ہیں ہم تو عادی ہیں غم اٹھانے کے آپ یوں ہی ...

مزید پڑھیے

محبت کرنے والے کب کسی کا نام لیتے ہیں

محبت کرنے والے کب کسی کا نام لیتے ہیں زباں خاموش رہتی ہے نظر سے کام لیتے ہیں وہ کیسے لوگ ہیں یا رب گراتے ہیں جو انساں کو یقیناً وہ فرشتے ہیں جو بڑھ کر تھام لیتے ہیں تعجب خیز ہے دستور یا رب تیری دنیا کا مٹاتے ہیں جو دنیا کو وہی انعام لیتے ہیں یہی اپنی عبادت ہے یہی ہے بندگی ...

مزید پڑھیے

بندھنوں سے رہائی مت کرنا

بندھنوں سے رہائی مت کرنا یوں کبھی بھی جدائی مت کرنا لاکھ دنیا کہے برا مجھ کو آپ میری برائی مت کرنا جو دیا دل مری نشانی ہے چیز اپنی پرائی مت کرنا اس قدر دور کر مجھے خود سے جان یہ جگ ہنسائی مت کرنا مجھ سے یہ بوجھ اب نہیں اٹھتا دیکھو تم آشنائی مت کرنا

مزید پڑھیے

دکھنے میں ہیں سیدھی لڑکی

دکھنے میں ہیں سیدھی لڑکی لیکن ہے وہ ضدی لڑکی مجھ کو ہر دم تڑپاتی ہے اپنی ماں کی بگڑی لڑکی اس پر لکھتا غزلیں پیاری سب کچھ ہے وہ پگلی لڑکی ہم کو چھوڑا گھر کی خاطر یعنی ہے وہ اصلی لڑکی وعدہ تھا اک سنگ جینے کا مجبوری میں بدلی لڑکی

مزید پڑھیے

غموں کے یہ بادل برستے رہیں گے

غموں کے یہ بادل برستے رہیں گے محبت کی خاطر ترستے رہیں گے میرے اشک بن کے وفاؤں کے موتی یوں آنکھوں سے میری چھلکتے رہیں گے اگر جو مرے آپ ہو نہ سکیں تو یہاں سے وہاں ہم بھٹکتے رہیں گے بھلے ہی جلیں گے بھلے ہی مریں گے سنو آپ خاطر تڑپتے رہیں گے کمی سے تمہاری کریں خودکشی گر تو ہر روز ...

مزید پڑھیے

چھپ کے ملنے آ جائے روشنی کی جرأت کیا

چھپ کے ملنے آ جائے روشنی کی جرأت کیا روح کے اندھیرے میں چاند کی ضرورت کیا تو مری محبت کے قتل میں ملوث ہے اور مجھی سے کہتا ہے خون کی شہادت کیا کون میری آنکھوں کے بند توڑ دیتا ہے دل کے قید خانے میں قید ہے قیامت کیا ایک دوسرے کو ہم بھول جائیں گے اک دن اتنی بے قراری کیوں اس قدر بھی ...

مزید پڑھیے

یوں مرے پاس سے ہو کر نہ گزر جانا تھا

یوں مرے پاس سے ہو کر نہ گزر جانا تھا بول اے شخص تجھے کون نگر جانا تھا روح اور جسم جہنم کی طرح جلتے ہیں اس سے روٹھے تھے تو اس آگ کو مر جانا تھا راہ میں چھاؤں ملی تھی کہ ٹھہر سکتے تھے اس سہارے کو مگر ننگ سفر جانا تھا خواب ٹوٹے تھے کہ آنکھوں میں ستارے ناچے سب کو دامن کے اندھیرے میں ...

مزید پڑھیے

خاک نیند آئے اگر دیدۂ بیدار ملے

خاک نیند آئے اگر دیدۂ بیدار ملے اس خرابے میں کہاں خواب کے آثار ملے اس کے لہجے میں قیامت کی فسوں کاری تھی لوگ آواز کی لذت میں گرفتار ملے اس کی آنکھوں میں محبت کے دیے جلتے رہیں اور پندار میں انکار کی دیوار ملے میرے اندر اسے کھونے کی تمنا کیوں ہے جس کے ملنے سے مری ذات کو اظہار ...

مزید پڑھیے

زمانوں کے خرابوں میں اتر کر دیکھ لیتا ہوں

زمانوں کے خرابوں میں اتر کر دیکھ لیتا ہوں پرانے جنگلوں میں بھی سمندر دیکھ لیتا ہوں جو طوفانوں کے ڈر سے پانیوں میں سر چھپاتی ہیں میں ایسی سیپیوں میں کوئی گوہر دیکھ لیتا ہوں ہمیشہ خوف کے نرغے میں رہتا ہوں مگر پھر بھی ابابیلوں کی منقاروں میں لشکر دیکھ لیتا ہوں وہ دیہاتوں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 922 سے 4657