شاعری

مائل ہوا جفا پہ وہ ترک وفا کے بعد

مائل ہوا جفا پہ وہ ترک وفا کے بعد باد سموم آئی ہے موج صبا کے بعد دیکھا جسے بغور وہی سر کشیدہ تھا جیسے کہ مشت خاک ہو سب کچھ خدا کے بعد چاہا یہ تھا کچھ اور بھی حاصل ہو قرب یار وہ اور کھنچ گیا یہ اثر تھا دعا کے بعد اب تو مریض عشق سے مایوس ہے طبیب درماں ہے موت ہی مرض لا دوا کے بعد صرف ...

مزید پڑھیے

مرحلے آسان سارے ہو گئے

مرحلے آسان سارے ہو گئے تم ہمارے ہم تمہارے ہو گئے آپ سے ملنا خوشی کی بات ہے آپ تو آنکھوں کے تارے ہو گئے مٹ گئیں محرومیاں اور فاصلے سب سے چھٹ کر وہ ہمارے ہو گئے آپ کے آتے ہی تاریکی گئی دل میں روشن چاند تارے ہو گئے آئی جب گرداب میں کشتی مری دور نظروں سے کنارے ہو گئے اشک تھے ...

مزید پڑھیے

میرے افکار و خیالات کا محور تم ہو

میرے افکار و خیالات کا محور تم ہو الغرض میری ہر اک بات کا محور تم ہو میرے دن رات ہیں منسوب تمہیں سے بخدا دن کا محور بھی ہو تم رات کا محور تم ہو کیوں نہ مقبول زمانہ ہوں حکایات مری میری تابندہ حکایات کا محور تم ہو یہ حقیقت وہی سمجھیں گے جو ہیں اہل نظر میرے سب کشف و کرامات کا محور ...

مزید پڑھیے

ہم کسی کی بھی کبھی آنکھ کے تارے نہ ہوئے

ہم کسی کی بھی کبھی آنکھ کے تارے نہ ہوئے جن کو چاہا تھا بہت وہ بھی ہمارے نہ ہوئے ڈوبتے ناؤ کو دیکھیں مری جن کو تھی یہ فکر ہائے افسوس وہ دریا کے کنارے نہ ہوئے جو نکو کار تھے دنیا سے وہ اٹھتے ہی گئے تھے جو بد کار وہ اللہ کو پیارے نہ ہوئے کون سی صبح وہ بن کر نہ لب بام آئی کون سی شام کو ...

مزید پڑھیے

شکوۂ گردش تقدیر سے کیا ہوتا ہے

شکوۂ گردش تقدیر سے کیا ہوتا ہے کارساز اہل محبت کا خدا ہوتا ہے شکوہ ہوتے ہیں محبت میں گلہ ہوتا ہے کوئی اپنوں سے بھی اس طرح خفا ہوتا ہے مسکرائے وہ مرے غم کی حکایت سن کر شاید اب ان کو بھی احساس جفا ہوتا ہے آ ہی جاتا ہے محبت میں اک ایسا لمحہ مدعا دل کا جب آنکھوں سے ادا ہوتا ہے اک ...

مزید پڑھیے

آنکھ میں آنسو لبوں پر آہ دل میں درد ہے

آنکھ میں آنسو لبوں پر آہ دل میں درد ہے تیرے سودائی کی نظروں میں تو دنیا گرد ہے اک جھلک دیکھی تھی اس نے ان کی اوج چرخ پر رشک سے مہتاب کا چہرہ ابھی تک زرد ہے خوش نصیبان رہ الفت تو منزل پا گئے اپنے حصے میں جو آئی وہ سفر کی گرد ہے میری بربادی نے ان کو اور رسوا کر دیا اب تو دنیا کہہ رہی ...

مزید پڑھیے

دیکھ کر آپ نے مایوس تمنا مجھ کو

دیکھ کر آپ نے مایوس تمنا مجھ کو پردہ ہائے مہ و انجم سے پکارا مجھ کو جب بھی لغزش ہوئی قدموں کو سر راہ طلب آپ کے غم نے دیا بڑھ کے سہارا مجھ کو بے خودی کر گئی کونین سے بیگانہ مجھے اب نہ ساحل کی نہ طوفاں کی تمنا مجھ کو میں نے دنیا کی ہر اک شے میں تجھے یوں دیکھا اپنا دیوانہ سمجھنے لگی ...

مزید پڑھیے

جو سہی نئیں حضور کرتے ہو

جو سہی نئیں حضور کرتے ہو آپ کتنا غرور کرتے ہو جان پہلے قریب آئے اب خود کو مجھ سے ہی دور کرتے ہو نام میرا لیا نہیں جاتا پیار یعنی ضرور کرتے ہو ساتھ جینے کا وعدہ تھا لیکن خواب کیوں چور چور کرتے ہو

مزید پڑھیے

بڑی ان میں نزاکت ہے تو ہے

بڑی ان میں نزاکت ہے تو ہے مگر ہم کو شکایت ہے تو ہے جو بھی چاہے سزا ہم کو وہ دیں ہمیں ان سے محبت ہے تو ہے بنا دیکھے صنم کو چین نئیں وہ آنکھوں کی ضرورت ہے تو ہے لڑیں گے ہم زمانے بھر سے یوں کوئی کہتا بغاوت ہے تو ہے

مزید پڑھیے

تیرا وہ کرم تیری جفا یاد ہے اب تک

تیرا وہ کرم تیری جفا یاد ہے اب تک سب کچھ مجھے اے جان حیا یاد ہے اب تک آیا تھا زباں پر مری کیوں حرف تمنا کیوں ہو گیا تھا کوئی خفا یاد ہے اب تک شانوں پہ مرے وصل کی شب خاص ادا سے رہتی تھی تری زلف رسا یاد ہے اب تک کہنے پہ مرے آؤ مرے پاس تو بیٹھو وہ ان کے بگڑنے کی ادا یاد ہے اب تک آ جاؤ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 921 سے 4657