شاعری

سرخ چمن زنجیر کیے ہیں سبز سمندر لایا ہوں

سرخ چمن زنجیر کیے ہیں سبز سمندر لایا ہوں میں تو دنیا بھر کے منظر آنکھوں میں بھر لایا ہوں جنگل تھے اور لوگ پرانے سوگ پہن کر سوتے تھے ایک انوکھے خواب سے اپنی جان چھڑا کر لایا ہوں میں اتنا محتاج نہیں ہوں تو اتنا مایوس نہ ہو آج برہنہ چشم نہیں اشکوں کی چادر لایا ہوں صرف نشاط انگیز ...

مزید پڑھیے

آگ ہو دل میں تو آنکھوں میں دھنک پیدا ہو

آگ ہو دل میں تو آنکھوں میں دھنک پیدا ہو روح میں روشنی لہجے میں چمک پیدا ہو ایک شعلہ میری آواز میں لہراتا ہے خون میں لہر خیالوں میں للک پیدا ہو قتل کرنے کا ارادہ ہے مگر سوچتا ہوں تو اگر آئے تو ہاتھوں میں جھجک پیدا ہو اس طرح اپنی ہی سچائی پر اصرار نہ کر یہ نہ ہو اور تری بات میں شک ...

مزید پڑھیے

جو تیرے دل میں ہے وہ بات میرے دھیان میں ہے

جو تیرے دل میں ہے وہ بات میرے دھیان میں ہے تری شکست تری لکنت زبان میں ہے ترے وصال کی خوش بو سے بڑھتی جاتی ہے نہ جانے کون سی دیوار درمیان میں ہے ہمیں تباہ کیا آب و گل کی سازش نے کہ ایک دوست ہمارا بھی آسمان میں ہے مگر یہ لوگ بھلا کس لیے اداس ہوئے یہ کیا طلسم بہاروں کی داستان میں ...

مزید پڑھیے

خامشی چھیڑ رہی ہے کوئی نوحہ اپنا

خامشی چھیڑ رہی ہے کوئی نوحہ اپنا ٹوٹتا جاتا ہے آواز سے رشتہ اپنا یہ جدائی ہے کہ نسیاں کا جہنم کوئی راکھ ہو جائے نہ یادوں کا ذخیرہ اپنا ان ہواؤں میں یہ سسکی کی صدا کیسی ہے بین کرتا ہے کوئی درد پرانا اپنا آگ کی طرح رہے آگ سے منسوب رہے جب اسے چھوڑ دیا خاک تھا شعلہ اپنا ہم اسے بھول ...

مزید پڑھیے

ہیں سحر مصور میں قیامت نہیں کرتے

ہیں سحر مصور میں قیامت نہیں کرتے رنگوں سے نکلنے کی جسارت نہیں کرتے افسوس کے جنگل میں بھٹکتے ہیں خیالات رم بھول گئے خوف سے وحشت نہیں کرتے تم اور کسی کے ہو تو ہم اور کسی کے اور دونوں ہی قسمت کی شکایت نہیں کرتے مدت ہوئی اک شخص نے دل توڑ دیا تھا اس واسطے اپنوں سے محبت نہیں کرتے یہ ...

مزید پڑھیے

یہیں کہیں پہ کبھی شعلہ کار میں بھی تھا

یہیں کہیں پہ کبھی شعلہ کار میں بھی تھا شب سیاہ میں اک چشم مار میں بھی تھا بہت سے لوگ تھے سقراط کار و عیسیٰ دم اسی ہجوم میں اک بے شمار میں بھی تھا یہ چاند تارے مرے گرد رقص کرتے تھے لکھا ہوا ہے زمیں کا مدار میں بھی تھا سنا ہے زندہ ہوں حرص و ہوس کا بندہ ہوں ہزار پہلے محبت گزار میں ...

مزید پڑھیے

وہ سخی ہے تو کسی روز بلا کر لے جائے

وہ سخی ہے تو کسی روز بلا کر لے جائے اور مجھے وصل کے آداب سکھا کر لے جائے میرے اندر کسی افسوس کی تاریکی ہے اس اندھیرے میں کوئی آگ جلا کر لے جائے یہ مری روح میں ندی کی تھکن کیسی ہے وہ سمندر کی طرح آئے بہا کر لے جائے ہجر میں جسم کے اسرار کہاں کھلتے ہیں اب وہی سحر کرے پیار سے آ کر لے ...

مزید پڑھیے

باہر کے اسرار لہو کے اندر کھلتے ہیں

باہر کے اسرار لہو کے اندر کھلتے ہیں بند آنکھوں پر کیسے کیسے منظر کھلتے ہیں اپنے اشکوں سے اپنا دل شق ہو جاتا ہے بارش کی بوچھار سے کیا کیا پتھر کھلتے ہیں لفظوں کی تقدیر بندھی ہے میرے قلم کے ساتھ ہاتھ میں آتے ہی شمشیر کے جوہر کھلتے ہیں شام کھلے تو نشے کی حد جاری ہوتی ہے تشنہ کاموں ...

مزید پڑھیے

ہراس پھیل گیا ہے زمین دانوں میں

ہراس پھیل گیا ہے زمین دانوں میں قیامتیں نظر آتی ہیں آسمانوں میں نہ جانے کس کی نظر لگ گئی ان آنکھوں پر جو خواب دیکھتی تھیں خوف کے زمانوں میں یہاں خیال کے سوتوں سے خون پھوٹے گا سراب کے لیے جنگیں ہیں ساربانوں میں یہ کون ہیں کہ خدا کی لگام تھامے ہوئے پڑے ہوئے ہیں قناعت کے شامیانوں ...

مزید پڑھیے

وحشت دیواروں میں چنوا رکھی ہے

وحشت دیواروں میں چنوا رکھی ہے میں نے گھر میں وسعت صحرا رکھی ہے مجھ میں سات سمندر شور مچاتے ہیں ایک خیال نے دہشت پھیلا رکھی ہے روز آنکھوں میں جھوٹے اشک بلوتا ہوں غم کی ایک شبیہ اتروا رکھی ہے جاں رہتی ہے پیپر ویٹ کے پھولوں میں ورنہ میری میز پہ دنیا رکھی ہے خوف بہانہ ہے ساقیؔ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 923 سے 4657