سرخ چمن زنجیر کیے ہیں سبز سمندر لایا ہوں
سرخ چمن زنجیر کیے ہیں سبز سمندر لایا ہوں میں تو دنیا بھر کے منظر آنکھوں میں بھر لایا ہوں جنگل تھے اور لوگ پرانے سوگ پہن کر سوتے تھے ایک انوکھے خواب سے اپنی جان چھڑا کر لایا ہوں میں اتنا محتاج نہیں ہوں تو اتنا مایوس نہ ہو آج برہنہ چشم نہیں اشکوں کی چادر لایا ہوں صرف نشاط انگیز ...