شاعری

مال و متاع کوچہ و بازار بک گئے

مال و متاع کوچہ و بازار بک گئے عہد ہوس میں سب در و دیوار بک گئے قصر شہی میں جبہ و دستار بک گئے نیلام گھر میں قافلہ سالار بک گئے جنس وفا کے چاؤ میں آئے تھے صبح دم بولی لگی تو خود بھی خریدار بک گئے شب بھر رہی فضا میں وفاداریوں کی گونج سورج چڑھا تو سارے وفادار بک گئے وہ زور تھا ...

مزید پڑھیے

ہے ترا انتظار گلشن میں

ہے ترا انتظار گلشن میں رو رہی ہے بہار گلشن میں آج پھر دامن امید مرا ہو گیا تار تار گلشن میں پتیاں کب بکھیر دیں جھونکے کس کو ہے اعتبار گلشن میں کس قدر سخت جان تھا انجمؔ جو رہا سوگوار گلشن میں

مزید پڑھیے

خوشبو کی قندیل جلائی اور سجائی شام

خوشبو کی قندیل جلائی اور سجائی شام شب نے دھیرے سے دستک دی اور بجھائی شام تیرے خیال سے خود کو سوچا جگ مگ دیپ جلے تیری آنکھ سے خود کو دیکھا اور مسکائی شام تیرے دھیان کا کنگن چھنکا ڈھیروں ساز بجے تیری یاد کا کاجل پہنا اور شرمائی شام بانہیں تن کا ہار ہوئیں سب لمحے بنے گلاب بلبل نے ...

مزید پڑھیے

اے مسیحا مرے کیسی یہ مسیحائی ہے

اے مسیحا مرے کیسی یہ مسیحائی ہے اتنی قربت میں بھی اک ہجر ہے تنہائی ہے مجھ کو آباد کرو مجھ میں کوئی رنگ بھرو دل مضطر بھی بہاروں کا تمنائی ہے اس نے جاتے ہوئے دیکھا نہ پلٹ کر تجھ کو تو ہے دیوانی کہ جیون ہی لٹا آئی ہے سر فہرست ہوں اغیار کی فہرست میں میں اور کہنے کو مری تجھ سے ...

مزید پڑھیے

حذر کی آخری حد کا عذاب ہونا پڑا

حذر کی آخری حد کا عذاب ہونا پڑا ہمیں بھی مصلحتاً بازیاب ہونا پڑا ترے حواس پہ طاری تھا اب بچھڑ جانا میں ہوش میں تھی مگر نیم خواب ہونا پڑا ہمیں کوئی تو سنے ایک آرزو میں فقط کسی کے ہاتھ میں کھیلے رباب ہونا پڑا تری کتاب کا ہر لفظ جس کا چہرہ تھا یہ کیا ستم کہ اسے صرف باب ہونا پڑا تو ...

مزید پڑھیے

ترا رستہ بدلنا دیکھتے ہیں

ترا رستہ بدلنا دیکھتے ہیں سو دریا کا اترنا دیکھتے ہیں تمہاری آنکھ میرا آئنہ ہے سو تم میں ہم زمانہ دیکھتے ہیں تری آنکھوں میں حیرت تھی نمی تھی وہ کیسا تھا فسانہ دیکھتے ہیں پڑاؤ داستاں میں آ گیا یہ کوئی کٹیا ٹھکانہ دیکھتے ہیں تمہیں رنجش ملال عشق ہے گر چلو پھر سوچنا کیا دیکھتے ...

مزید پڑھیے

پانی میں اگر عکس کی حالت میں بہوں میں

پانی میں اگر عکس کی حالت میں بہوں میں ممکن ہے کنارے کا کنارہ ہی رہوں میں اے خامہ‌ گر وقت مجھے اذن سخن دے تجھ سے تری رفعت کے توسل سے ملوں میں چلتی ہوئی باتوں میں اسے کام پڑے یاد ٹھہرے ہوئے لفظوں میں اجازت کا کہوں میں بینائی کو ترسی ہوئی بے رنگی کے در پر آنکھوں کی اسیری میں لکھی ...

مزید پڑھیے

اپنی وحشت پہ رو رہا ہوں میں

اپنی وحشت پہ رو رہا ہوں میں کس پرندے کا گھونسلہ ہوں میں تیری بینائی ڈھونڈھتی ہے مجھے تیری آنکھوں کا مسئلہ ہوں میں مختلف گیت مجھ سے مروی ہیں مختلف خواب دیکھتا ہوں میں تیرے لفظوں میں نور بھرتا ہوں تیری آواز کا دیا ہوں میں کل میں بیدار خواب گاہ میں تھا آج چوکھٹ پہ جاگتا ہوں ...

مزید پڑھیے

ہر شخص بد حواس خبر کے سبب سے تھا

ہر شخص بد حواس خبر کے سبب سے تھا کشتی میں انتشار بھنور کے سبب سے تھا آنکھیں بدن بغیر اور آنکھوں میں ایک خواب محرومی‌ٔ مآل سفر کے سبب سے تھا بینائی کے غبار سے منظر میں دھول تھی وہ آئنہ سراب نظر کے سبب سے تھا اتنا قلیل بوسہ کہ احساس لمس بھی خود ساختہ نشے کے اثر کے سبب سے ...

مزید پڑھیے

نہ کوئی ممنوعہ دانہ کھانا نہ خوف دل میں اتارنا تھا

نہ کوئی ممنوعہ دانہ کھانا نہ خوف دل میں اتارنا تھا جو ہم نے پہلا گنہ کیا تھا کسی کی نقلیں اتارنا تھا جدید دنیا میں آنے والوں کی پہلی مڈبھیڑ ہم سے ہوتی ہمارے یونٹ کا کام ان کے بدن سے مہریں اتارنا تھا خدا نہ ہوتا تو کاروان جہاں میں اپنی جگہ نہ بنتی کہ ان دنوں میں ہمارا پیشہ سفر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 919 سے 4657