شاعری

مجھ سے بیزار گرنے والی تھی

مجھ سے بیزار گرنے والی تھی سر سے دستار گرنے والی تھی اس نے تصویر ٹانک دی اپنی ورنہ دیوار گرنے والی تھی میری بیساکھیوں نے آہ بھری جب وہ ناچار گرنے والی تھی کتنی خوش تھی وہ جست بھرتی ہوئی جیسے اس پار گرنے والی تھی کھائی تھی کوئی خواب تھوڑی تھا آنکھ بیکار گرنے والی تھی خون ...

مزید پڑھیے

اس انکسار کا ادراک تجھ کو کم ہوگا

اس انکسار کا ادراک تجھ کو کم ہوگا مرے چراغ کی لو میں بھی تھوڑا نم ہوگا لپک پڑوں گا میں تصویر سے تری جانب یہ تیری سمت مرا آخری قدم ہوگا گزشتہ رات مجھے سیڑھیوں میں یاد آیا تری تھکن کا سبب بھی کسی کا غم ہوگا میں جانتا تھا مجھے روشنی ودیعت ہے میں جانتا تھا مرے ہاتھ میں قلم ...

مزید پڑھیے

آنکھیں زمین اور فلک دست کار ہیں

آنکھیں زمین اور فلک دست کار ہیں پانی کے جتنے روپ ہیں سب مستعار ہیں خود کو اکیلا جان کے تنہا نہ جاننا یہ آئنہ نہیں ہیں ترے پہرے دار ہیں مشکل کی اس گھڑی میں کروں کس سے مشورہ کچھ دوست ہیں تو وہ بھی فسانہ نگار ہیں یہ چھاؤں جیسی دھوپ ہمارا مزاج ہے ہم لوگ آفتاب ہیں اور سایہ دار ...

مزید پڑھیے

اب تک جو جی چکا ہوں جنم گن رہا ہوں میں

اب تک جو جی چکا ہوں جنم گن رہا ہوں میں دنیا سمجھ رہی ہے کہ غم گن رہا ہوں میں متروک راستے میں لگا سنگ میل ہوں بھٹکے ہوئے کے سیدھے قدم گن رہا ہوں میں ٹیبل سے گر کے رات کو ٹوٹا ہے اک گلاس بتی جلا کے اپنی رقم گن رہا ہوں میں تعداد جاننا ہے کہ کتنے مرے ہیں آج جو چل نہیں سکے ہیں وہ بم گن ...

مزید پڑھیے

اشک ان سیپیوں میں بھر جائیں

اشک ان سیپیوں میں بھر جائیں تو وہاں ڈوبنے گہر جائیں خامشی اب تری وضاحت کو تیرے منبر سے ہم اتر جائیں دشت سب کے لیے نہیں وحشت کچھ طلب گار اپنے گھر جائیں راستے میرے پاس بیٹھ رہیں فاصلے دور سے گزر جائیں تتلیاں رنگ جھاڑ لیں اپنے پھر ترے ہونٹ پر اتر جائیں ہم بھی دریا کے نا دہندہ ...

مزید پڑھیے

پیکر سے حسن جھانکتے بولا کہ آئیے

پیکر سے حسن جھانکتے بولا کہ آئیے دریا کے ساتھ آپ بھی صحرا بنائیے پھر یوں ہوا ہم اس میں کہیں محو ہو گئے اس نے کہا تھا وقت کو سکتے میں لائیے اے ساکنان چشم چلیں صلح کیجیے اٹھیے ہمارے خواب کو سینے لگائیے اس کاسۂ حروف کی سنتا نہیں کوئی دست دعا سمیٹیے اور لوٹ جائیے وقت سفر خموش ہیں ...

مزید پڑھیے

پیار کی تیرے نشانی ہائے ہائے

پیار کی تیرے نشانی ہائے ہائے میری افسردہ جوانی ہائے ہائے جل رہا ہوں کب سے اپنی آگ میں سوز آلام نہانی ہائے ہائے کہہ رہے ہیں یہ مرے موئے سفید کیا ہوئی تیری جوانی ہائے ہائے ساقیا خالص پلا خالص پلا آگ میں شامل ہو پانی ہائے ہائے تھا کوئی پہلو میں گردش میں تھا جام کیا تھا دور ...

مزید پڑھیے

اب وہ ہم سے ملا نہیں کرتے

اب وہ ہم سے ملا نہیں کرتے ہم بھی کوئی گلہ نہیں کرتے زخم دل بھرتے بھرتے بھرتے ہیں اتنی جلدی بھرا نہیں کرتے لوگ وہ شاخ کاٹ دیتے ہیں پھول جس پر کھلا نہیں کرتے مت بجھاؤ دیے امیدوں کے یہ دیے پھر جلا نہیں کرتے ایک مدت سے وہ نہیں آئے ہم بھی اب حوصلہ نہیں کرتے آگ بجھتی ہے دل کی رونے ...

مزید پڑھیے

کوشش بھی کی تو دل سے نہ اس کو بھلا سکے

کوشش بھی کی تو دل سے نہ اس کو بھلا سکے اور اس میں راز کیا ہے ابھی تک نہ پا سکے میری سنو کہ چاہ نہیں بے دلوں کا کام وہ جائے اس گلی میں جو خوں میں نہا سکے قید قفس میں طاقت پرواز مٹ گئی چھٹ تو گئے پہ سوئے نشیمن نہ جا سکے آہوں سے کچھ ہوا نہ تڑپنے سے کچھ بنا آنسو بھی دل کی آگ نہ اب تک ...

مزید پڑھیے

شکست دل کا فسانہ سنا کے دیکھوں گا

شکست دل کا فسانہ سنا کے دیکھوں گا میں ظرف حسن کو بھی آزما کے دیکھوں گا عجب نہیں کہ اسی طرح نام رہ جائے تمہاری راہ میں خود کو مٹا کے دیکھوں گا نہ جانے کیوں نہیں بدلے ابھی مرے حالات شریک حال اب ان کو بنا کے دیکھوں گا سنا یہ ہے کہ ہر اک شے میں ہے ترا جلوہ میں اب حجاب نظر کو اٹھا کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 920 سے 4657