شاعری

نہ جانے کیسی آندھی چل رہی ہے

نہ جانے کیسی آندھی چل رہی ہے ہے جنگل خوش کہ بستی جل رہی ہے کہیں پانی سے دھوکا کھا نہ جانا یہ ندی مدتوں دلدل رہی ہے ترا سورج بھی ٹھنڈا ہو رہا ہے ہماری عمر بھی اب ڈھل رہی ہے کوئی شکوہ نہیں ہم کو کسی سے خود اپنی ذات ہم کو چھل رہی ہے ہمیں برباد کر کے خوش بہت تھی مگر اب ہاتھ دنیا مل ...

مزید پڑھیے

یہ خلق ساری ہوا میرے نام کر دے گی

یہ خلق ساری ہوا میرے نام کر دے گی مرے چراغوں کا جینا حرام کر دے گی سنا ہے دھوپ کو گھر لوٹنے کی جلدی ہے وہ آج وقت سے پہلے ہی شام کر دے گی کچھ اور دیر جو ٹھہرا میں اس کی آنکھوں میں تو چاند تاروں کو میرا غلام کر دے گی میں اپنے دور سے بد ظن ہوں ابتدا تو کروں کہ اگلی نسل مرا باقی کام کر ...

مزید پڑھیے

ہم سفر ہوتا کوئی تو بانٹ لیتے دوریاں

ہم سفر ہوتا کوئی تو بانٹ لیتے دوریاں راہ چلتے لوگ کیا سمجھیں مری مجبوریاں مسکراتے خواب چنتی گنگناتی یہ نظر کس طرح سمجھیں مری قسمت کی نا منظوریاں حادثوں کی بھیڑ ہے چلتا ہوا یہ کارواں زندگی کا نام ہے لاچاریاں مجبوریاں پھر کسی نے آج چھیڑا ذکر منزل اس طرح دل کے دامن سے لپٹنے آ ...

مزید پڑھیے

غم حیات کا جھگڑا مٹا رہا ہے کوئی

غم حیات کا جھگڑا مٹا رہا ہے کوئی چلے بھی آؤ کہ دنیا سے جا رہا ہے کوئی کہو اجل سے ذرا دو گھڑی ٹھہر جائے سنا ہے آنے کا وعدہ نبھا رہا ہے کوئی وہ آج لپٹے ہیں کس نازکی سے لاشے سے کہ جیسے روٹھے ہوؤں کو منا رہا ہے کوئی کہیں پلٹ کے نہ آ جائے سانس نبضوں میں حسین ہاتھوں سے میت سجا رہا ہے ...

مزید پڑھیے

چلو بانٹ لیتے ہیں اپنی سزائیں

چلو بانٹ لیتے ہیں اپنی سزائیں نہ تم یاد آؤ نہ ہم یاد آئیں سبھی نے لگایا ہے چہرے پہ چہرہ کسے یاد رکھیں کسے بھول جائیں انہیں کیا خبر آنے والا نہ آیا برستی رہیں رات بھر یہ گھٹائیں

مزید پڑھیے

جب کبھی تیرا نام لیتے ہیں

جب کبھی تیرا نام لیتے ہیں دل سے ہم انتقام لیتے ہیں میری بربادیوں کے افسانے میرے یاروں کا نام لیتے ہیں بس یہی ایک جرم ہے اپنا ہم محبت سے کام لیتے ہیں ہر قدم پر گرے ہیں پر سیکھا کیسے گرتوں کو تھام لیتے ہیں ہم بھٹک کر جنوں کی راہوں میں عقل سے انتقام لیتے ہیں

مزید پڑھیے

تیرا میرا جھگڑا کیا جب اک آنگن کی مٹی ہے

تیرا میرا جھگڑا کیا جب اک آنگن کی مٹی ہے اپنے بدن کو دیکھ لے چھو کر میرے بدن کی مٹی ہے غیروں نے کچھ خواب دکھا کر نیند چرا لی آنکھوں سے لوری دے دے ہار گئی جو گھر آنگن کی مٹی ہے سوچ سمجھ کر تم نے جس کے سبھی گھروندے توڑ دیے اپنے ساتھ جو کھیل رہا تھا اس بچپن کی مٹی ہے چل نفرت کو چھوڑ ...

مزید پڑھیے

خطا اس کی معافی سے بڑی ہے

خطا اس کی معافی سے بڑی ہے میں کیا کرتا سزا دینی پڑی ہے نہیں چل پاؤں گا میں ساتھ اس کے یہ دنیا بے سبب ضد پر اڑی ہے ہوا نے پھاڑ دی تصویر لیکن ابھی اک کیل سینے میں گڑی ہے وہ مسجد گھر نہ بن جائے کسی کا نمازیں بند ہیں خالی پڑی ہے نکل آیا اندھیرے میں کہاں میں مری پرچھائیں بستر پر پڑی ...

مزید پڑھیے

یہ لفظ لفظ شعلہ بیانی اسی کی ہے

یہ لفظ لفظ شعلہ بیانی اسی کی ہے ہمت ہے اور کس میں کہانی اسی کی ہے تکمیل ہو رہی ہے بچھڑنے کے باوجود باقی کی زندگی بھی کہانی اسی کی ہے رت آ گئی نئی تو اسے دیکھ کر لگا شاید یہ کوئی یاد پرانی اسی کی ہے منظر میں اور کیا ہے یہ دیکھا نہیں ابھی لیکن یہ ہے جو اوڑھنی دھانی اسی کی ہے میں تو ...

مزید پڑھیے

دل نشیں سی اک سحر اور ارغوانی رنگ

دل نشیں سی اک سحر اور ارغوانی رنگ وصل کے لمحات پر تھے کامرانی رنگ اس کا پہلو اس کا سایہ خواب کیوں ٹوٹا رہ گذاروں میں سجے تھے جاودانی رنگ اک ادائے دلبریں سے پاس سے گزرا تھے لب و رخسار پھر آتش فشانی رنگ تیرے میرے بیچ تھا اتنا تعلق بس شاعری کو چاہیے تھے کچھ کہانی رنگ قرمزی سا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 918 سے 4657