شاعری

حیرت سے تکتا ہے صحرا بارش کے نذرانے کو

حیرت سے تکتا ہے صحرا بارش کے نذرانے کو کتنی دور سے آئی ہے یہ ریت سے ہاتھ ملانے کو سات سروں کی لہروں پہ ہلکورے لیتے پھول سے ہیں اک مدہوش فضا سنتی ہے اک چڑیا کے گانے کو بولتی ہو تو یوں ہے جیسے پھول پہ تتلی ڈولتی ہو تم نے کیسا سبز کیا ہے اور کیسے ویرانے کو لیکن ان سے اور طرح کی ...

مزید پڑھیے

عشق سامان بھی ہے بے سر و سامانی بھی

عشق سامان بھی ہے بے سر و سامانی بھی اسی درویش کے قدموں میں ہے سلطانی بھی ہم بھی ویسے نہ رہے دشت بھی ویسا نہ رہا عمر کے ساتھ ہی ڈھلنے لگی ویرانی بھی وہ جو برباد ہوئے تھے ترے ہاتھوں وہی لوگ دم بخود دیکھ رہے ہیں تری حیرانی بھی آخر اک روز اترنی ہے لبادوں کی طرح تن ملبوس! یہ پہنی ...

مزید پڑھیے

ہر روز امتحاں سے گزارا تو میں گیا

ہر روز امتحاں سے گزارا تو میں گیا تیرا تو کچھ نہیں گیا مارا تو میں گیا جب تک میں تیرے پاس تھا بس تیرے پاس تھا تو نے مجھے زمیں پہ اتارا تو میں گیا یہ طاق یہ چراغ مرے کام کے نہیں آیا نہیں نظر وہ دوبارہ تو میں گیا شل انگلیوں سے تھام رکھا ہے چٹان کو چھوٹا جو ہاتھ سے یہ کنارا تو میں ...

مزید پڑھیے

آنکھوں کا بھرم نہیں رہا ہے

آنکھوں کا بھرم نہیں رہا ہے سرمایۂ نم نہیں رہا ہے ہر شے سے پلٹ رہی ہیں نظریں منظر کوئی جم نہیں رہا ہے برسوں سے رکے ہوئے ہیں لمحے اور دل ہے کہ تھم نہیں رہا ہے یوں محو غم زمانہ ہے دل جیسے ترا غم نہیں رہا ہے

مزید پڑھیے

یہ کب کہا تھا مجھے ہم نوا نہیں دینا

یہ کب کہا تھا مجھے ہم نوا نہیں دینا مگر ہاں پھر سے وہی بے وفا نہیں دینا میں ٹوٹ جاؤں تو آ کر گلے لگا لینا کوئی دلیل کوئی مشورہ نہیں دینا خدا کے نام پہ آپس میں بانٹنے والو خدا کے واسطے یہ واسطہ نہیں دینا بنانے والے سے اتنی مراد جائز ہے بس اب کے اور کوئی حادثہ نہیں دینا یہ خط ...

مزید پڑھیے

درد مندوں سے چمن مت چھینیے

درد مندوں سے چمن مت چھینیے یا الٰہی ہم سخن مت چھینیے ہے ہمارے پاس بس دیوانگی ہو سکے تو یہ لگن مت چھینیے اپنی عریانی چھپانے کے لیے دوسروں کا پیرہن مت چھینیے روح جاوداں ہے لیکن اے خدا اتنی جلدی تو بدن مت چھینیے اب تو سب لیلا دکھا دی شیام نے اب تو رادھا سے کشن مت چھینیے

مزید پڑھیے

دل جلانا ہمیں بھی آتا ہے

دل جلانا ہمیں بھی آتا ہے مسکرانا ہمیں بھی آتا ہے دیکھیے آپ باز آ جائیں یاد آنا ہمیں بھی آتا ہے چھوڑ جانے میں آپ ماہر ہیں بھول جانا ہمیں بھی آتا ہے تیغ بازی کے آپ عادی ہیں سر کٹانا ہمیں بھی آتا ہے

مزید پڑھیے

عجب ہی حال تھا آواز کا تو

عجب ہی حال تھا آواز کا تو یہ مر جاتی اگر میں بولتا تو مرا سایہ نہیں بڑھتا ہے آگے یہ کہتا ہے اگر میں گر گیا تو میں جیسا تھا مری تصویر میں کل تمہیں ویسا اگر میں نہ ملا تو تمہارے تبصرے سے تنگ آ کر ہمارے حال نے کچھ کر لیا تو دبا کر تو رکھوں گا راز تیرے مجھے پھر بھی کسی نے پڑھ لیا ...

مزید پڑھیے

پریشاں تھا مگر ایسا نہیں تھا

پریشاں تھا مگر ایسا نہیں تھا کہ مجھ میں کوئی تجھ جیسا نہیں تھا تباہ ہونے لگی ہر وقت وہ بھی اکیلا میں ہی دیوانہ نہیں تھا جفا غم ہجر خواہش یاد باتیں اگر دیکھو تو اس میں کیا نہیں تھا غضب جلوہ نما تھا وصل اس کا ابھی تک سوچتا ہوں تھا نہیں تھا تمہارے عشق کے ہاتھوں سے مرنے ہمیں آنا ...

مزید پڑھیے

تم سمجھ لیتے گر پریشانی

تم سمجھ لیتے گر پریشانی ہم کو ہو جاتی تھوڑی آسانی کیسا مارا تھا اس نے حرفوں کو لفظ بھاگے اٹھا اٹھا معنی آپ کی بات کو رقم کر کے ہم نے پانی پہ لکھ دیا پانی کوئی پاگل ہے آ کے پوچھے گا آپ سے آپ کی پریشانی ڈال دو کچھ ہواؤں کے سر پہ اتنی اچھی نہیں ہے عریانی ہم کو آنا ہے بیچ میں ان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 890 سے 4657