شاعری

گزر چلی ہے شب دل فگار آخری بار

گزر چلی ہے شب دل فگار آخری بار بچھڑنے والے ہیں یاروں سے یار آخری بار دمک رہا ہے سحر کی جبیں پہ بوسۂ شب تھپک رہی ہے صبا روئے یار آخری بار ذرا سی دیر کو ہے پتیوں پہ شیشۂ نم گزر رہی ہے کرن آر پار آخری بار یہ بات خیموں کے جلتے دیے بھی جانتے تھے کہ ہم کو بجھنا ہے ترتیب وار آخری ...

مزید پڑھیے

متاع حرف بھی خوشبو کے ماسوا کیا ہے

متاع حرف بھی خوشبو کے ماسوا کیا ہے ہوا کے رخ پہ نہ جاؤں تو راستا کیا ہے میں زرد بیج ہوں اور سبز ہونا چاہتا ہوں مری زمیں تری مٹی کا مشورہ کیا ہے یہ میری کاغذی کشتی ہے اور یہ میں ہوں خبر نہیں کہ سمندر کا فیصلہ کیا ہے بکھر رہا ہوں تری طرح میں بھی اے زر گل سو تجھ سے پوچھتا ہوں تیرا ...

مزید پڑھیے

نظر کے بھید سب اہل نظر سمجھتے ہیں

نظر کے بھید سب اہل نظر سمجھتے ہیں جو بے خبر ہیں انہیں بے خبر سمجھتے ہیں نہ ان کی چھاؤں میں برکت نہ برگ و بار میں فیض وہ خود نمود جو خود کو شجر سمجھتے ہیں انھوں نے جھکتے ہوئے پیڑ ہی نہیں دیکھے جو اپنے کاغذی پھل کو ثمر سمجھتے ہیں حصار جاں در و دیوار سے الگ ہے میاں ہم اپنے عشق کو ہی ...

مزید پڑھیے

بادل کی طرح رنج فشانی کریں ہم بھی

بادل کی طرح رنج فشانی کریں ہم بھی شاید کبھی اس آگ کو پانی کریں ہم بھی اب سلسلۂ قصۂ شب ٹوٹ رہا ہے اب اذن عطا ہو تو کہانی کریں ہم بھی ہم کو بھی کبھی دیکھ ہواؤں کے سفر میں صحرا کی طرح نقل مکانی کریں ہم بھی ایسا ہے کہ سکوں کی طرح ملک سخن میں جاری کوئی اک یاد پرانی کریں ہم بھی اس لمحۂ ...

مزید پڑھیے

عجیب ڈھنگ سے میں نے یہاں گزارا کیا

عجیب ڈھنگ سے میں نے یہاں گزارا کیا کہ دل کو برف کیا ذہن کو شرارہ کیا مزاج درد کو سب لفظ بھی قبول نہ تھے کسی کسی کو ترے غم کا استعارہ کیا پھر اس کے اشک بھی اس کو ادا نہ کر پائے وہ دکھ جو اس کے تبسم نے آشکارا کیا کہ جیسے آنکھ کے لگتے ہی کھل گئیں آنکھیں نگاہ جاں نے بہت دور تک نظارہ ...

مزید پڑھیے

دل میں رکھے ہوئے آنکھوں میں بسائے ہوئے شخص

دل میں رکھے ہوئے آنکھوں میں بسائے ہوئے شخص پاس سے دیکھ مجھے دور سے آئے ہوئے شخص جانتا ہوں یہ ملاقات ذرا دیر کی ہے تپتی راہوں میں خنک چھاؤں کھلائے ہوئے شخص تیرے لب پر ترے رخسار کی لو پڑتی ہے تاب خورشید سے مہتاب جلائے ہوئے شخص یہ تو دنیا بھی نہیں ہے کہ کنارا کر لے تو کہاں جائے گا ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں ایک خواب پس خواب اور ہے

آنکھوں میں ایک خواب پس خواب اور ہے اک موج تند و تیز تہہ آب اور ہے ان سے بھی میری دوستی ان سے بھی رنجشیں سینے میں ایک حلقۂ احباب اور ہے شاید کبھی کھلے یہ مرے نغمہ گر پہ بھی یہ ساز جسم اور ہے مضراب اور ہے چلیے کہیں زمیں کی کشش کچھ تو کم ہوئی خشکی پہ جسم اور تہہ آب اور ہے پھر آ نہ ...

مزید پڑھیے

نمو پزیر ہے اک دشت بے نمو مجھ میں

نمو پزیر ہے اک دشت بے نمو مجھ میں ظہور کرنے کو ہے پھر شہر آرزو مجھ میں یہ زخم وہ ہے کہ جس کو دکھانا مشکل ہے ٹپک رہا ہے مسلسل مرا لہو مجھ میں رگوں میں چاپ سی کوئی سنائی دیتی ہے یہ کون ہے کہ جو پھرتا ہے کو بہ کو مجھ میں میں اپنے لہجے سے ہر لمحہ خوف کھاتا ہوں چھپا ہوا ہے کوئی شخص تند ...

مزید پڑھیے

کہاں سے ڈھونڈھ کے لاؤں پرانے خواب آنکھوں میں

کہاں سے ڈھونڈھ کے لاؤں پرانے خواب آنکھوں میں کوئی منظر نہیں ٹکتا مری سیراب آنکھوں میں نہ نیندیں تھیں نہ آنسو تھے نہ خوشیاں تھیں مگر تو تھا کہ اب تو بھی نہیں آتا ہے ان بے خواب آنکھوں میں کسی بھی آئنے میں اب مرا چہرہ نہیں دکھتا مرا چہرہ نکلتا ہے انہیں بیتاب آنکھوں میں جسے تعمیر ...

مزید پڑھیے

سر بسر بدلا ہوا دیکھا تھا کل یار کا رنگ

سر بسر بدلا ہوا دیکھا تھا کل یار کا رنگ خوب پہنا ہے نیا اس نے بھی اس بار کا رنگ سوکھے پتوں کی طرح اڑتا ہوا دور تلک میں نے جاتے ہوئے دیکھا مرے کردار کا رنگ اب جو آیا ہوں تو خاموش تو جاؤں گا نہیں اب اڑا کر کے ہی جاؤں گا میں دو چار کا رنگ کوئی کہہ دے کہ جھکا دو تو جھکا دوں میں سر اتنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 889 سے 4657