شاعری

تنہائی کا علاج یہ مہنگا بہت پڑا

تنہائی کا علاج یہ مہنگا بہت پڑا اکتا کے میں نے نیوز کا چینل لگایا تھا بس یہ کہ وجہ ترک تعلق ہی کچھ رہے اس نے ذرا سی بات پہ جھگڑا کھڑا کیا بگڑیل ہو چلے تھے کئی دن سے میرے خواب سچ کی چھڑی سے شام انہیں سیدھا کر دیا کھولا تھا رات ماضی کا ایک البم کہ اف یادوں کا میرے ذہن میں تانتا ...

مزید پڑھیے

یقین مر گیا مرا گمان بھی نہیں بچا

یقین مر گیا مرا گمان بھی نہیں بچا کہیں کسی خیال کا نشان بھی نہیں بچا خموشیاں تمام غرق ہو گئیں خلاؤں میں وہ زلزلہ تھا صاحبو بیان بھی نہیں بچا ندی کے سر پہ جیسے انتقام سا سوار تھا کہ باندھ فصل پل بہے مکان بھی نہیں بچا ہجوم سے نکل کے بچ گیا ادھر وہ آدمی ادھر ہجوم کے میں درمیان بھی ...

مزید پڑھیے

اک طاق میں ہوں جیسے رکھا ہوا اکیلا

اک طاق میں ہوں جیسے رکھا ہوا اکیلا جلتا ہوا اکیلا بجھتا ہوا اکیلا کب تک کرے گا مجھ میں آباد اک جہاں کو شاخوں میں اک پرندہ بیٹھا ہوا اکیلا بڑھتا رہا میں آگے ہٹتا رہا میں پیچھے دن بھر یوں ہی ہوا سے لڑتا ہوا اکیلا آنکھوں سے اس کی ٹپکا کب تک وہاں میں رہتا بن جاؤں گا سمندر بہتا ہوا ...

مزید پڑھیے

کبھی اندھیرا کبھی اجالا سنو غزالہ

کبھی اندھیرا کبھی اجالا سنو غزالہ کوئی کنایہ کوئی کنارہ سنو غزالہ ہم اپنے رستے سے ہٹ گئے ہیں بھٹک گئے ہیں نہ کوئی صحرا نہ کوئی دریا سنو غزالہ مرے بدن میں دھڑک رہا ہے تڑپ رہا ہے فراق لمحوں کا درد سارا سنو غزالہ بدلتے موسم کے رنگ سارے نہ تم ہمارے نہ اب یہ سورج نہ چاند ہالہ سنو ...

مزید پڑھیے

آساں تو نہ تھا دھوپ میں صحرا کا سفر کچھ

آساں تو نہ تھا دھوپ میں صحرا کا سفر کچھ با فیض مگر ملتے رہے مجھ کو شجر کچھ پرسش نہ کرو مجھ سے مرا حال نہ پوچھو اکھڑا سا ذرا رہتا ہے جی میرا ادھر کچھ سیلاب نہ ہو تو نہ ہو دل میں بھی تلاطم پانی تو رہے ڈوب کے مرنے کو مگر کچھ اتنا ہی غنی ہے جو سمندر تو کہو وہ ساحل پہ بہا لائے کبھی لعل ...

مزید پڑھیے

خرابے میں بوچھار ہو کر رہے گی

خرابے میں بوچھار ہو کر رہے گی گلی دل کی گلزار ہو کر رہے گی حکومت غموں کی نہیں چلنے والی مسرت کی یلغار ہو کر رہے گی کہ شاخوں پہ پھولوں کے گچھے تو دیکھو یہ بغیا ثمر دار ہو کر رہے گی بھرے جائیں گے غار پربت گرا کر یہ دھرتی تو ہموار ہو کر رہے گی لکیریں فقط کھینچتا جا ورق پر کوئی شکل ...

مزید پڑھیے

گھر کے باہر بھی تو جھانکا جا سکتا ہے

گھر کے باہر بھی تو جھانکا جا سکتا ہے اور کسی کا رستہ دیکھا جا سکتا ہے رات گزاری جا سکتی ہے تارے گن کر دن میں چادر تان کے سویا جا سکتا ہے شکوے دور کیے جا سکتے ہیں یاروں سے اس سنڈے کو فون گھمایا جا سکتا ہے اس کے جیسا ہی اب کچھ حاصل ہے مجھ کو اب اس کی خواہش کو چھوڑا جا سکتا ہے ویسے ...

مزید پڑھیے

وفا کے شہر میں مقبول تھی صدا کتنی

وفا کے شہر میں مقبول تھی صدا کتنی مگر نہ پہنچی یہ ان تک تھی نارسا کتنی تمام عمر جلے آتش ندامت میں ملی ہے پیار کے اظہار کی سزا کتنی نکل کے صحن چمن سے نہ پھر کبھی پلٹی حسین پھولوں کی خوشبو تھی بے وفا کتنی میں بن کے تیز ہوا چل رہا ہوں مدت سے ذرا نگاہ تو ڈالو چھٹی گھٹا کتنی وفا ...

مزید پڑھیے

وارفتگئ شوق چھپائی نہ جا سکی

وارفتگئ شوق چھپائی نہ جا سکی چہرے سے دل کی بات مٹائی نہ جا سکی آنکھوں میں آ گئیں سبھی دل کی کہانیاں صد حیف ان سے آنکھ ملائی نہ جا سکی ایسے حواس گم ہوئے کچھ ان کے سامنے کہنے کی بات لب پہ بھی لائی نہ جا سکی مرنے کے بعد میرے بنی بھی تو کیا بنی جو زندگی میں بات بنائی نہ جا سکی محویت ...

مزید پڑھیے

راز دل جو آدمی دل میں چھپا سکتا نہیں

راز دل جو آدمی دل میں چھپا سکتا نہیں وہ کسی کو راز داں اپنا بنا سکتا نہیں دور گردوں لاکھ چاہے امتحاں لیتا رہے چشم تر سے میں حدیث غم سنا سکتا نہیں اس طرح مجھ کو مٹایا اس ستم ایجاد نے اب زمانہ بھی نشاں میرا مٹا سکتا نہیں کیوں نہ اپنی ہی حدوں میں رہ کے جینا سیکھ لیں کوئی اپنے آپ سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 879 سے 4657