سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزری
سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزری نہ جانے میں نے توبہ کی تو مے خانے پہ کیا گزری ملیں تو فائزان منزل مقصود سے پوچھوں گزر گاہ محبت سے گزر جانے پہ کیا گزری کسی کو میرے کاشانے سے ہمدردی نہیں شاید ہر اک یہ پوچھتا ہے میرے کاشانے پہ کیا گزری نہ ہو جو زندگی انجام وہ وجدان ناقص ...