اتفاقاً ہوئی ساقی تری گفتار غلط
اتفاقاً ہوئی ساقی تری گفتار غلط جیسے کہنے لگا ہر بات کو مے خوار غلط تم کو ہوتا ہے یقیں ہوتی ہے تکرار غلط روز اک بات کہا کرتے ہیں اغیار غلط دل مرا تاکا تھا اور زخم جگر پر مارا کیا ترا ہاتھ پڑا آج ستم گار غلط سر مرا کاٹ لے جلاد نہ اف نکلے گی کبھی کہنے کا نہیں تیرا وفادار غلط ہوش ...