رنگ ہونے لگے ظاہر میرے
رنگ ہونے لگے ظاہر میرے دھیان رکھ کچھ تو مصور میرے یوں نہ آنکھوں سے ہوا کر اوجھل بجھنے لگتے ہیں مناظر میرے کام آئی نہ خموشی میری راز کھل ہی گئے آخر میرے گونج اٹھا نغموں سے آنگن میرا لوٹ آئے سبھی طائر میرے
رنگ ہونے لگے ظاہر میرے دھیان رکھ کچھ تو مصور میرے یوں نہ آنکھوں سے ہوا کر اوجھل بجھنے لگتے ہیں مناظر میرے کام آئی نہ خموشی میری راز کھل ہی گئے آخر میرے گونج اٹھا نغموں سے آنگن میرا لوٹ آئے سبھی طائر میرے
ہر ایک ڈوبتا منظر دکھائی دیتا ہے ہمارے گھر سے سمندر دکھائی دیتا ہے میں جس کے سائے سے بچ کر نکلنا چاہتا ہوں وہ مجھ کو راہ میں اکثر دکھائی دیتا ہے اسے کبھی بھی نہ اس بات کی خبر ہو پائے وہ اپنے آپ سے بہتر دکھائی دیتا ہے ہمارے بیچ یہ نزدیکیاں ہی کافی ہیں تمہارے گھر سے مرا گھر ...
دھوپ میں بیٹھنے کے دن آئے پھر اسے سوچنے کے دن آئے بند کمروں میں جھانکتی کرنیں کھڑکیاں کھولنے کے دن آئے دھان کی کھیتیاں سنہری ہیں گاؤں میں لوٹنے کے دن آئے بعد مدت وہ شہر میں آیا آئنہ دیکھنے کے دن آئے پھر کوئی یاد تازہ ہونے لگی رات بھر جاگنے کے دن آئے
سنہری دھوپ کھلی ہے کئی دنوں کے بعد پھر ان سے بات ہوئی ہے کئی دنوں کے بعد سروں میں شام سجی ہے کئی دنوں کے بعد غزل کو راہ ملی ہے کئی دنوں کے بعد کرن کرن ترا چہرہ زمیں میں اترا ہے کہ ایسی صبح ہوئی ہے کئی دنوں کے بعد یہ کس نے چار دشاؤں میں عطر چھڑکا ہے فضا مہک سی گئی ہے کئی دنوں کے ...
پیار کا درد کا مذہب نہیں ہوتا کوئی کعبہ و دیر سے مطلب نہیں ہوتا کوئی سچ تو یہ ہے کہ میں ہر بزم میں تنہا ہی رہا یوں مگر پاس مرے کب نہیں ہوتا کوئی جان و ایماں سہی سب کچھ سہی تو مرے لیے ہائے کس منہ سے کہوں سب نہیں ہوتا کوئی ایک سایہ تھا جسے میں نے پکڑنا چاہا وہ جو ہوتا تھا کوئی اب ...
اپنے ہی آپ میں اسیر ہوں میں اپنے زنداں میں بے نظیر ہوں میں ایک شہر خیال ہے میرا اپنے اس شہر کا امیر ہوں میں بڑھتا جاتا ہے زندگی کا خط ایک گھٹتی ہوئی لکیر ہوں میں کیوں بلاتے ہو اب جہاں والو ایک گوشہ نشیں فقیر ہوں میں قرض اس دل پہ الفتوں کے ہیں دوستوں کا کرم امیر ہوں میں کھچ کے ...
وہ مزاج دل کے بدل گئے کہ وہ کاروبار نہیں رہا مری جان تیرے فراق میں کوئی سوگوار نہیں رہا تری آرزو کہیں کھو گئی مری جستجوئے فضول میں مجھے عین وقت وصال میں ترا انتظار نہیں رہا نہ خرد رہی نہ جنوں بچا دل پر غرور یہ کیا ہوا تجھے اپنے آپ پہ خود بھی اب ذرا اعتبار نہیں ہے دم اولیں کے وہ ...
ذوق پہ شوق پہ مٹ جانے کو تیار اٹھا عشق کا درد لیے پھر ترا بیمار اٹھا ہم نے میخانے میں جانی نہیں کرنی تفریق جو بھی بیٹھا مری محفل میں گنہ گار اٹھا وصل محبوب اٹھا رکھیں گے کب تک کہ پھر آج فرہاد ہے تیشہ کا طلب گار اٹھا گم شدہ لیلیٰ کو کب تک وہ چھپا رکھیں گے جب کہ دیوانے کو سودائے رخ ...
روشنی کیا پڑی ہے کمرے میں دھول اڑنے لگی ہے کمرے میں مجھ کو گھیرے ہوئے ہے میرا وجود یہ حقیقت کھلی ہے کمرے میں مجھ کو باہر کہیں نکلنا ہے رات ہونے لگی ہے کمرے میں اپنی سانسوں کو سن رہا ہوں میں کس قدر خامشی ہے کمرے میں اک ذرا سا ترا خیال آیا روشنی ہو گئی ہے کمرے میں
ہر ایک سمت اشارے تھے اور رستہ بھی ملال یہ ہے کہ آیا نہ ہم کو چلنا بھی ہماری پیاس مکمل ہو تو قدم بھی اٹھیں رکھے ہیں سامنے دریا بھی اور صحرا بھی بجھے چراغ تو حیرانیاں کچھ اور بڑھیں ہمارے ساتھ ہے اب تک ہمارا سایا بھی اک ایسی لہر اٹھی ڈوبنے کا خوف اٹھا اب ایک جیسے ہیں منجدھار بھی ...