شاعری

ایمائے غزل کرتی ہیں موسم کی ادائیں

ایمائے غزل کرتی ہیں موسم کی ادائیں اک موج ترنم کی ہوس میں ہیں فضائیں نغموں کی زباں میں کوئی سمجھے تو بتائیں کیا چیز ہے یہ طرز یہ طرحیں یہ ادائیں روکے نہ گئے سینۂ خارا سے وہ طوفاں ہیں جن کو کناروں میں لئے ننگ قبائیں آئینے سے ہوتی ہیں صلاحیں کہ کسی کو جب خوب مٹانا ہو تو کس طرح ...

مزید پڑھیے

وہی اک فریب حسرت کہ تھا بخشش نگاراں

وہی اک فریب حسرت کہ تھا بخشش نگاراں سو قدم قدم پہ کھایا بہ طریق پختہ کاراں وہ چلے خزاں کے ڈیرے کہ ہے آمد بہاراں شب غم کے رہ نشینوں کہو اب صلاح یاراں مرے آشیاں کا کیا ہے مرا آسماں سلامت ہیں مرے چمن کی رونق یہی برق و باد و باراں نہ سہی پسند حکمت یہ شعار اہل دل ہے کبھی سر بھی دے ...

مزید پڑھیے

وہ مزا رکھتے ہیں کچھ تازہ فسانے اپنے

وہ مزا رکھتے ہیں کچھ تازہ فسانے اپنے بھولتے جاتے ہیں سب درد پرانے اپنے کر کے اک بار تری چشم فسوں گر کے سپرد پھر نہ پوچھا کبھی بندوں کو خدا نے اپنے بزم یاراں میں وہ اب کیف کہاں ہے باقی روز جاتے ہیں کہیں جی کو جلانے اپنے حال میں اپنے کچھ اس طرح مگن ہیں گویا ہم نے دیکھے ہی نہیں ...

مزید پڑھیے

دنیا ہی کی راہ پہ آخر رفتہ رفتہ آنا ہوگا

دنیا ہی کی راہ پہ آخر رفتہ رفتہ آنا ہوگا درد بھی دے گا ساتھ کہاں تک بیدل ہی بن جانا ہوگا حیرت کیا ہے ہم سے بڑھ کر کون بھلا بیگانہ ہوگا خود اپنے کو بھول چکے ہیں تم نے کیا پہچانا ہوگا دل کا ٹھکانا ڈھونڈ لیا ہے اور کہاں اب جانا ہوگا ہم ہوں گے اور وحشت ہوگی اور یہی ویرانہ ہوگا بیت ...

مزید پڑھیے

اتنا ہی نہیں ہے کہ ترے بن نہ رہا جائے

اتنا ہی نہیں ہے کہ ترے بن نہ رہا جائے وہ جاں پہ بنی ہے کہ جیے بن نہ رہا جائے اب دسترس شوق ہے بس نام تک اس کے اکثر جسے سو طرح لکھے بن نہ رہا جائے غم بردہ سہی غنچۂ افسردہ سہی دل تم پیار سے دیکھو تو کھلے بن نہ رہا جائے ہے دل ہی وہ ناداں کہ ہو تدبیر سے نومید اور پھر کوئی تدبیر کئے بن نہ ...

مزید پڑھیے

رو بھی عکس رو بھی میں

رو بھی عکس رو بھی میں میں بھی میں ہوں تو بھی میں خود سے بچ کر جاؤں کہاں ہوں گویا ہر سو بھی میں لے کر رخ پر اتنے کلنک لگتا ہوں خوش رو بھی میں شامل مے پیمانہ بھر پیتا ہوں آنسو بھی میں صدقے میں ان آنکھوں کے سیکھ گیا جادو بھی میں اس کی بزم ناز سے دور اس کے ہم پہلو بھی میں دید سے بے ...

مزید پڑھیے

ہر چند کہ ساغر کی طرح جوش میں رہئے

ہر چند کہ ساغر کی طرح جوش میں رہئے ساقی سے ملے آنکھ تو پھر ہوش میں رہئے کچھ اس کے تصور میں وہ راحت ہے کہ برسوں بیٹھے یوں ہی اس وادیٔ گل پوش میں رہئے اک سادہ تبسم میں وہ جادو ہے کہ پہروں ڈوبے ہوئے اک نغمۂ خاموش میں رہئے ہوتی ہے یہاں قدر کسے دیدہ وری کی آنکھوں کی طرح اپنے ہی آغوش ...

مزید پڑھیے

بکھر جائے گی شام آہستہ بولو

بکھر جائے گی شام آہستہ بولو تڑک جائیں گے جام آہستہ بولو نہ دو داغوں کے بھید آہوں کو روکو نہ لو نالوں کا نام آہستہ بولو نہ لے تنہائی کی راتوں میں اک دن خموشی انتقام آہستہ بولو یہی ہوتے ہیں آداب محبت کہ جب لو اس کا نام آہستہ بولو نہ جانے کون بیٹھا ہو کمیں میں اندھیری ہے یہ شام ...

مزید پڑھیے

پھر آ گیا زباں پہ وہی نام کیا کریں

پھر آ گیا زباں پہ وہی نام کیا کریں تو ہی بتا اے گردش ایام کیا کریں اک پل کو لب پہ آئی ہنسی پھر پلٹ گئی یاد آ گیا ہو جیسے کوئی کام کیا کریں ہر آرزو کے ہونٹ زمانے نے سی دئے بجھنے لگا چراغ سر شام کیا کریں ڈر ہے کہ تیرے ہاتھ سے ساغر نہ چھین لیں ہم تشنہ لب اے ساقیٔ گلفام کیا کریں آؤ ...

مزید پڑھیے

آنگن سے ہی خوشی کے وہ لمحے پلٹ گئے

آنگن سے ہی خوشی کے وہ لمحے پلٹ گئے صحرائے دل سے برسے بغیر ابر چھٹ گئے رشتوں کا اک ہجوم تھا کہنے کو آس پاس جب وقت آ پڑا تو تعلق سمٹ گئے اک سمت تم کھڑے تھے زمانہ تھا ایک سمت ہم تم سے مل گئے تو زمانے سے کٹ گئے رسم و رہ جہاں کا تو تھا دائرہ وسیع اپنی حدوں میں آپ ہی ہم لوگ بٹ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 853 سے 4657