ایمائے غزل کرتی ہیں موسم کی ادائیں
ایمائے غزل کرتی ہیں موسم کی ادائیں اک موج ترنم کی ہوس میں ہیں فضائیں نغموں کی زباں میں کوئی سمجھے تو بتائیں کیا چیز ہے یہ طرز یہ طرحیں یہ ادائیں روکے نہ گئے سینۂ خارا سے وہ طوفاں ہیں جن کو کناروں میں لئے ننگ قبائیں آئینے سے ہوتی ہیں صلاحیں کہ کسی کو جب خوب مٹانا ہو تو کس طرح ...