شاعری

اثر نہ ہو تو اسی نطق بے اثر سے کہہ

اثر نہ ہو تو اسی نطق بے اثر سے کہہ چھپا نہ درد محبت جہان بھر سے کہہ جو کہہ چکا ہے تو انداز تازہ تر سے کہہ خبر کی بات ہے اک گوش بے خبر سے کہہ چمن چمن سے اکھڑ کر رہے گا پائے خزاں روش روش کو جتا دے شجر شجر سے کہہ بیان شوق نہیں قیل و قال کا محتاج کبھی فغاں میں ادا کر کبھی نظر سے ...

مزید پڑھیے

نغمہ یوں ساز میں تڑپا مری جاں ہو جیسے

نغمہ یوں ساز میں تڑپا مری جاں ہو جیسے میرا دم ہو مرے سینے کی فغاں ہو جیسے یک بیک روح میں اٹھا ہے وہ طوفان خموش وادئ گل میں نسیم گزراں ہو جیسے نغمہ‌‌ و رقص ہوئی جاتی ہے ہر موج خیال چاندنی رات میں دریا کا سماں ہو جیسے کیا سناتی ہے یہ سازوں کی صدائے دل سوز کچھ ہمیں درد نصیبوں کا ...

مزید پڑھیے

فتنے جو کئی شکل کرشمات اٹھے ہیں

فتنے جو کئی شکل کرشمات اٹھے ہیں کچھ دل میں انوکھے سے خیالات اٹھے ہیں محفل میں وہ جب بہر ملاقات اٹھے ہیں ہم راز سے کرتے ہوئے کچھ بات اٹھے ہیں آندھی تو ابھی صحن‌ چمن تک نہیں پہنچی اک جھونکے سے سوکھے ہوئے کچھ پات اٹھے ہیں ہر پھر کے وہی سامنے تھا پردۂ اوہام کہنے ہی کو آنکھوں سے ...

مزید پڑھیے

ہے اب کی فصل میں رنگ بہار اور ہی کچھ

ہے اب کی فصل میں رنگ بہار اور ہی کچھ ہوا ہے نقشۂ شہر و دیار اور ہی کچھ نہ شہسوار نہ غزنی نہ کارواں کوئی افق کے پار اٹھا تھا غبار اور ہی کچھ شگوفے آج بھی کھلتے ہیں کل بھی کھلتے تھے ہے اس چمن کی خزاں اور بہار اور ہی کچھ ہمارے واسطے ہمدم قرار دل مت ڈھونڈ کہ پا گیا ہے دلوں میں قرار ...

مزید پڑھیے

اک تمنا کہ سحر سے کہیں کھو جاتی ہے

اک تمنا کہ سحر سے کہیں کھو جاتی ہے شب کو آ کر مرے آغوش میں سو جاتی ہے یہ نگاہوں کے اندھیرے نہیں چھٹنے پاتے صبح کا ذکر نہیں صبح تو ہو جاتی ہے رشتۂ جاں کو سنبھالے ہوں کہ اکثر تری یاد اس میں دو چار گہر آ کے پرو جاتی ہے دل کی توفیق سے ملتا ہے سراغ منزل آنکھ تو صرف تماشوں ہی میں کھو ...

مزید پڑھیے

چپ ہے وہ مہر بہ لب میں بھی رہوں اچھا ہے

چپ ہے وہ مہر بہ لب میں بھی رہوں اچھا ہے ہلکا ہلکا یہ محبت کا فسوں اچھا ہے موسم گل نہ سہی شغل جنوں اچھا ہے ہمدمو! تیز رہے گردش خوں، اچھا ہے تم بھی کرتے رہے تلقین سکوں کی خاطر میں بھی آوارہ و سرگشتہ رہوں اچھا ہے وہ بھی کیا خون کہ ہو جبر کی بنیاد میں جذب جو یوں ہی مفت میں بہہ جائے وہ ...

مزید پڑھیے

نظر چرا گئے اظہار مدعا سے مرے

نظر چرا گئے اظہار مدعا سے مرے تمام لفظ جو لگتے تھے آشنا سے مرے رفیقو راہ کے خم صبح کچھ ہیں شام کچھ اور ملے گی تم کو نہ منزل نقوش پا سے مرے لگی ہے چشم زمانہ اگرچہ وہ دامن بہت ہے دور ابھی دست نارسا سے مرے یہیں کہیں وہ حقیقت نہ کیوں تلاش کروں جسے گریز ہے اوہام ماورا سے مرے کسی پہ ...

مزید پڑھیے

نکلے تری دنیا کے ستم اور طرح کے

نکلے تری دنیا کے ستم اور طرح کے درکار مرے دل کو تھے غم اور طرح کے تم اور طرح کے سہی ہم اور طرح کے ہو جائیں بس اب قول و قسم اور طرح کے بت خانے کا منظر بخدا آج ہی دیکھا تھے میرے تصور میں صنم اور طرح کے کرتی ہیں مرے دل سے وہ خاموش نگاہیں کچھ رمز اشاروں سے بھی کم اور طرح کے غم ہوتے ...

مزید پڑھیے

پائی نہ کوئی منزل پہنچیں نہ کہیں راہیں

پائی نہ کوئی منزل پہنچیں نہ کہیں راہیں بھٹکا کے رہیں مجھ کو آوارہ گزر گاہیں آلام زمانہ سے چھوٹیں تو تجھے چاہیں مصروف مشقت ہیں حسرت سے بھری بانہیں صحرا ہی سے گزری تھیں کھوئی گئیں جو راہیں بتلائیں گے یہ چشمے یہ بن یہ چراگاہیں شمشیر کی زد پر ہیں کچھ اور ہمیں جیسے ہنگام تقاضا کیا ...

مزید پڑھیے

امید کے افق سے نہ اٹھا غبار تک

امید کے افق سے نہ اٹھا غبار تک دیکھی اگرچہ راہ خزاں سے بہار تک رکھنے کو تیرے وعدۂ نا معتبر کی لاج جھیلی ہے دل نے زحمت صبر و قرار تک دیکھا ہے کس نے منہ سحر جلوہ ساز کا سب ولولے ہیں ایک شب انتظار تک صیاد کے ستم سے رہائی کا ذکر کیا سو دام تھے قفس سے سر شاخسار تک ماتم یہ ہے کہ ذوق ...

مزید پڑھیے
صفحہ 852 سے 4657