شاعری

طوفان کا ہواؤں کا پانی کا کیا بنا

طوفان کا ہواؤں کا پانی کا کیا بنا کشتی بھنور میں تھی تو روانی کا کیا بنا کردار تو شروع میں مارا گیا مگر یہ تو بتا کے جاؤ کہانی کا کیا بنا اس نے خبر یہ دی مرا آنگن اجڑ گیا میں سوچتی ہوں رات کی رانی کا کیا بنا اب پیڑ تو نہیں ہیں پرندے کہاں گئے اور یہ کہ ان کی نقل مکانی کا کیا ...

مزید پڑھیے

جس کی خاطر گئی وہ تھا ہی نہیں

جس کی خاطر گئی وہ تھا ہی نہیں پھر مرا دل وہاں لگا ہی نہیں خود کو میں نے کبھی نہیں دیکھا میرے کمرے میں آئنہ ہی نہیں کیوں میں تعبیر ڈھونڈھتی پھرتی خواب آنکھوں میں کوئی تھا ہی نہیں اب ہواؤں کو تیز چلنے دو اب مرے ہاتھ میں دیا ہی نہیں وہ کہیں ہے بھی یا نہیں موجود راز یہ آج تک کھلا ...

مزید پڑھیے

محبتوں کو بھی وعدوں میں رکھ دیا گیا ہے

محبتوں کو بھی وعدوں میں رکھ دیا گیا ہے کہ جیسے پھول کتابوں میں رکھ دیا گیا ہے چراغ گھر کی منڈیروں پہ رکھ دئے گئے ہیں اور انتظار چراغوں میں رکھ دیا گیا ہے کبھی جو یاد پرانی سجی تھی کمرے میں اسے بھی اب تو درازوں میں رکھ دیا گیا ہے صدائیں سرد ہواؤں کو سونپ دی گئی تھیں پھر اس ہوا کو ...

مزید پڑھیے

اک قیامت کا گھاؤ آنکھیں تھیں

اک قیامت کا گھاؤ آنکھیں تھیں عشق طوفاں میں ناؤ آنکھیں تھیں راستہ دل تلک تو جاتا تھا اس کا پہلا پڑاؤ آنکھیں تھیں ایک تہذیب تھا بدن اس کا اس پہ اک رکھ رکھاؤ آنکھیں تھیں جن کو اس نے چراغ سمجھا تھا اس کو یہ تو بتاؤ آنکھیں تھیں دل میں اترا وہ دیر سے لیکن میرا پہلا لگاؤ آنکھیں ...

مزید پڑھیے

ہمارے سانحے ہم کو سنا رہے کیوں ہو

ہمارے سانحے ہم کو سنا رہے کیوں ہو تم اتنا بوجھ بھی دل پر اٹھا رہے کیوں ہو تمہاری چھاؤں میں بیٹھے اٹھا دیا تم نے پھر اب پکار کے واپس بلا رہے کیوں ہو جو بات سب سے چھپائی تھی عمر بھر ہم نے وہ بات سارے جہاں کو بتا رہے کیوں ہو جب ایک پل بھی گزرنا محال ہوتا ہے پھر اتنی دیر بھی ہم سے جدا ...

مزید پڑھیے

سانس کی مہلت کیا کر لے گی

سانس کی مہلت کیا کر لے گی اب یہ سہولت کیا کر لے گی بے بس کر کے رکھ دے گی نا اور محبت کیا کر لے گی کیا کر لے گا چارہ گر بھی درد کی شدت کیا کر لے گی ایک جہنم کاٹ لیا ہے اب یہ قیامت کیا کر لے گی میں ہی اپنے ساتھ نہیں جب اس کی رفاقت کیا کر لے گی میرا آنگن صحرا جیسا دشت کی وحشت کیا کر لے ...

مزید پڑھیے

بارش تھی اور ابر تھا دریا تھا اور بس

بارش تھی اور ابر تھا دریا تھا اور بس جاگی تو میرے سامنے صحرا تھا اور بس آیا ہی تھا خیال کہ پھر دھوپ ڈھل گئی بادل تمہاری یاد کا برسا تھا اور بس ایسا بھی انتظار نہیں تھا کہ مر گئے ہاں اک دیا دریچے میں رکھا تھا اور بس تم تھے نہ کوئی اور تھا آہٹ نہ کوئی چاپ میں تھی اداس دھوپ تھی رستہ ...

مزید پڑھیے

برتر سماج سے کوئی فن کار بھی نہیں

برتر سماج سے کوئی فن کار بھی نہیں فن کار کیا جو صاحب کردار بھی نہیں ہر چند جاں بلب ہیں ستم سے شریف لوگ لڑنے کو ظلم سے کوئی تیار بھی نہیں نسل جواں سوار ہے خوابوں کی ناؤ میں اس پر ستم کہ ہاتھ میں پتوار بھی نہیں کھوٹا ٹکا ہوں پھر بھی کبھی کام آؤں گا مجھ کو نہ پھینک اتنا میں بے کار ...

مزید پڑھیے

شجر یہ چار سو باد خزاں کے مارے ہوئے

شجر یہ چار سو باد خزاں کے مارے ہوئے سپاہی جیسے نہتے عدو سے ہارے ہوئے اب آ بھی جا مری جاں اک زمانہ بیت گیا بٹھا کے پہلو میں تیری نظر اتارے ہوئے ضرور میری کسی بات پر خفا ہو تم وگرنہ کیوں مرے دشمن مرے ستارے ہوئے یہ سرد رات دسمبر کی کاٹ دی میں نے ترے بدن کی تپش روح میں اتارے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 846 سے 4657