شاعری

جگر کے خون سے روشن گو یہ چراغ رہا

جگر کے خون سے روشن گو یہ چراغ رہا مثال ماہ چمکتا تو دل کا داغ رہا بدل گیا ہے زمانہ چلی وہ باد سموم نہ گل رہے نہ وہ بلبل رہی نہ باغ رہا حضور حسن سے خوشیاں نہ مل سکیں نہ سہی متاع غم سے تو صد شکر با فراغ رہا وہ ڈال دی غلط انداز اک نظر تو نے کہ میں زمیں پہ رہا عرش پر دماغ رہا نہ ہوگی ...

مزید پڑھیے

کچھ بھی نہ اب کہیں گے قفس میں زباں سے ہم

کچھ بھی نہ اب کہیں گے قفس میں زباں سے ہم صیاد کو رلائیں گے آہ و فغاں سے ہم مایوسیوں کے شہر میں لگتا نہیں ہے دل لے جائیں اپنے دل کو کہاں اس جہاں سے ہم گلشن جہاں جہاں ہیں وہیں بجلیاں بھی ہیں جائیں نکل کے دور کہاں آسماں سے ہم امشب مزاج یار میں کچھ برہمی سی ہے گزرے ہیں بار بار اسی ...

مزید پڑھیے

لوٹ آئے گا کسی شام یہی لگتا ہے

لوٹ آئے گا کسی شام یہی لگتا ہے جگمگائیں گے در و بام یہی لگتا ہے زیست کی راہ میں تنہا جو بھٹکتی ہوں میں یہ وفاؤں کا ہے انعام یہی لگتا ہے ایک مدت سے مسلسل ہوں سفر میں لیکن منزل شوق ہے دو گام یہی لگتا ہے اک کلی بر سر پیکار خزاؤں سے ہے یہ نہیں واقف انجام یہی لگتا ہے میرے آنے کی خبر ...

مزید پڑھیے

اک مہکتے گلاب جیسا ہے

اک مہکتے گلاب جیسا ہے خوبصورت سے خواب جیسا ہے میں اسے پڑھتی ہوں محبت سے اس کا چہرہ کتاب جیسا ہے بے یقینی ہی بے یقینی ہے ہر سمندر سراب جیسا ہے میں بھٹکتی ہوں کیوں اندھیروں میں وہ اگر آفتاب جیسا ہے ڈوبتی جائے زیست کی ناؤ ہجر لمحہ چناب جیسا ہے میں حقائق بیان کر دوں گی یہ گنہ بھی ...

مزید پڑھیے

یہ میرا شہر صحرا ہو گیا ہے

یہ میرا شہر صحرا ہو گیا ہے نہیں ہونا تھا ایسا ہو گیا ہے خوشی میں بھی کمی کچھ آ گئی ہے غموں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے میں اتنا ٹوٹ کر اس سے ملا ہوں مرا دشمن بھی میرا ہو گیا ہے وہ دریا تھا رواں رہتا تھا پل پل سمٹ کر اب کنارہ ہو گیا ہے اسی کے دم سے زندہ تھی محبت وہی اک شخص کیسا ہو گیا ...

مزید پڑھیے

مکاں سے لا مکاں ہوتے ہوئے بھی

مکاں سے لا مکاں ہوتے ہوئے بھی کہاں ہم ہیں کہاں ہوتے ہوئے بھی بہت کچھ اب بھی باقی ہے زمیں پر بہت کچھ رائیگاں ہوتے ہوئے بھی سرے سے ہم ہی غائب ہو گئے ہیں سبھی کے درمیاں ہوتے ہوئے بھی بھنور کی سمت بڑھتی جا رہی ہے یہ کشتی بادباں ہوتے ہوئے بہت ہی مختصر ہوتے گئے ہیں مکمل داستاں ہوتے ...

مزید پڑھیے

رہبر بھی کرے کیا کوئی دعویٰ مرے آگے

رہبر بھی کرے کیا کوئی دعویٰ مرے آگے بن جاتا ہے جنگل میں بھی رستہ مرے آگے میں تجھ کو سمیٹوں یہی کوشش رہی ہر دم اتنا نہ بکھر اے مری دنیا مرے آگے تیری ہی طرح میں نے لٹایا ہے سبھی کچھ شرمندہ نہ کر ہاتھ نہ پھیلا مرے آگے کل تک جو بھرم تھا وہ بھرم ٹوٹ گیا ہے شیطان ہے کوئی نہ فرشتہ مرے ...

مزید پڑھیے

جو ہونا ہے وہی ہوتا رہے گا

جو ہونا ہے وہی ہوتا رہے گا کبھی ہنستا کبھی روتا رہے گا بچا کوئی مکافات عمل سے وہی کاٹے گا جو بوتا رہے گا کچھ اپنا ہی بگاڑے گا اگر تو بھرم اپنا میاں کھوتا رہے گا ترے اعدا نکل جائیں گے آگے اگر تو رات دن سوتا رہے گا تو اپنا بار عصیاں کم سے کم کر کہاں تک بوجھ یہ ڈھوتا رہے گا کوئی ...

مزید پڑھیے

کبھی تو عشق میں ان کے صداقت آ ہی جائے گی

کبھی تو عشق میں ان کے صداقت آ ہی جائے گی کبھی تو ان کے دل میں میری چاہت آ ہی جائے گی ابھی تو میرے ارماں خون کے آنسو بہاتے ہیں کبھی تو دل کے ان زخموں کو راحت آ ہی جائے گی مرے گلشن کا ہر اک پھول مرجھایا ہوا سا ہے کبھی کلیوں کے لب پر مسکراہٹ آ ہی جائے گی یہ ڈر ہے بے رخی کا وہ گلہ شکوہ ...

مزید پڑھیے

شمع روشن کوئی کر دے مرے غم خانے میں

شمع روشن کوئی کر دے مرے غم خانے میں جانے کب سے یہاں بیٹھا ہوں صنم خانے میں لذت سوزش غم جان وفا آہ نہ پوچھ کتنی تسکین ملی آپ کو تڑپانے میں خرمن دل پہ گری ہے تو کوئی بات نہیں ڈر ہے کوندی نہ ہو بجلی ترے کاشانے میں دل میں اب کوئی بھی حسرت نہیں ارمان نہیں کچھ نہیں کچھ بھی نہیں اب مرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 840 سے 4657