شاعری

آگ پانی بھی ہے مٹی ہے ہوا ہے مجھ میں

آگ پانی بھی ہے مٹی ہے ہوا ہے مجھ میں میرے خالق کا کوئی راز چھپا ہے مجھ میں ہو نہ جائے تہہ و بالا کہیں دنیا ساری ایک طوفان بلا خیز بپا ہے مجھ میں روک لیتی ہوں قدم خود ہی غلط راہوں سے ایسا لگتا ہے کوئی مجھ سے بڑا ہے مجھ میں ایک مدت سے وہ خاموش ہے سیماؔ لیکن ایک مدت سے وہی چیخ رہا ہے ...

مزید پڑھیے

ذات کی دیوار بیچوں بیچ اک در وا ہوا

ذات کی دیوار بیچوں بیچ اک در وا ہوا آخری لمحوں میں گر ہو بھی گیا تو کیا ہوا رقص میں مدہوش غوغائے سرود و لے میں گم کون ہے یہ شدت‌ آزار سے ہنستا ہوا تیری میری آنکھ کی مٹی ہمیشہ نم رہے ہو ابد سے بھی پرے رخصت کا پل پھیلا ہوا بعد از یک ساعت خاموش ماتم ختم شد کیوں کسی کے سوگ میں رکتا ...

مزید پڑھیے

حصار ذات میں سارا جہان ہونا تھا

حصار ذات میں سارا جہان ہونا تھا قریب ایسے تجھے میری جان ہونا تھا تری جبیں پہ شکن کیوں وصال لمحے میں محبتوں کا یہاں تو نشان ہونا تھا تمہارے چھونے سے کچھ روشنی بدن کو ملی وگرنہ اس کو فقط راکھ دان ہونا تھا تمہاری نفرتوں نے مٹی میں ملا ڈالا جو خواب تارا سا پلکوں کی شان ہونا ...

مزید پڑھیے

یہ تو سوچا ہی نہیں اس کو جدا کرتے ہوئے

یہ تو سوچا ہی نہیں اس کو جدا کرتے ہوئے چن لیا ہے غم بھی خوشیوں کو رہا کرتے ہوئے جن چراغوں پر بھروسہ تھا انھوں نے آخرش سازشیں کر لیں ہواؤں سے دغا کرتے ہوئے آنکھ کے صندوقچے میں بند ہے اک سیل درد ڈر رہی ہوں قفل ان پلکوں کے وا کرتے ہوئے جانتی تھی کب بھٹکتی ہی رہے گی در بہ در ہم سفر ...

مزید پڑھیے

اسی کے قرب میں رہ کر ہری بھری ہوئی ہے

اسی کے قرب میں رہ کر ہری بھری ہوئی ہے سہارے پیڑ کے یہ بیل جو کھڑی ہوئی ہے ابھی سے چھوٹی ہوئی جا رہی ہیں دیواریں ابھی تو بیٹی ذرا سی مری بڑی ہوئی ہے بنا کے گھونسلہ چڑیا شجر کی بانہوں میں نہ جانے کس لیے آندھی سے ڈری ہوئی ہے ابھی تو پہلے سفر کی تھکن ہے پاؤں میں کہ پھر سے جوتی پہ ...

مزید پڑھیے

ہم اگر سچ کے انہیں قصے سنانے لگ جائیں

ہم اگر سچ کے انہیں قصے سنانے لگ جائیں لوگ تو پھر ہمیں محفل سے اٹھانے لگ جائیں یاد بھی آج نہیں ٹھیک طرح سے جو شخص ہم اسے بھولنا چاہیں تو زمانے لگ جائیں شام ہوتے ہی کوئی خوشبو دریچہ کھولے اور پھر بیتے ہوئے لمحے ستانے لگ جائیں خود چراغوں کو اندھیروں کی ضرورت ہے بہت روشنی ہو تو ...

مزید پڑھیے

یہ اپنے آپ پہ تعزیر کر رہی ہوں میں

یہ اپنے آپ پہ تعزیر کر رہی ہوں میں کہ اپنی سوچ کو زنجیر کر رہی ہوں میں ہواؤں سے بھی نبھانی ہے دوستی مجھ کو دئے کا لفظ بھی تحریر کر رہی ہوں میں نہ جانے کب سے بدن تھے ادھورے خوابوں کے تمھاری آنکھ میں تعبیر کر رہی ہوں میں دریچہ کھولے ہوئے رنگ اور خوشبو کا سہانی شام کو تصویر کر رہی ...

مزید پڑھیے

عشق کی بات تو پرانی ہے

عشق کی بات تو پرانی ہے روز لیکن نئی کہانی ہے پیار کے قصے میں ہیں دو ہی لفظ ایک ہے عشق اک جوانی ہے راہبر بن گیا ہے خود رہزن کس قدر دکھ بھری کہانی ہے تیرے خط عمر بھر کا حاصل ہیں چوڑی اک کانچ کی نشانی ہے ٹوٹتی سانس کی حکایت کیا جیسے صحرا میں بوند پانی ہے

مزید پڑھیے

مجھے مشکل میں یوں اندازۂ مشکل نہیں ہوتا

مجھے مشکل میں یوں اندازۂ مشکل نہیں ہوتا کبھی میں کثرت افکار سے بد دل نہیں ہوتا اگر ہونا پڑے منت کش امواج بھی مجھ کو تو پھر میری خودی کو کچھ غم ساحل نہیں ہوتا نہیں کچھ پاس غیرت جس کو اس کا ذکر ہی کیا ہے جو غیرت مند ہے وہ در بدر سائل نہیں ہوتا جھکا کرتی ہیں وہ شاخیں جو ہوتی ہیں ثمر ...

مزید پڑھیے

بربادیوں کا اپنی گلہ کیا کریں گے ہم

بربادیوں کا اپنی گلہ کیا کریں گے ہم آئے گی ان کی یاد تو رویا کریں گے ہم ہم زندگی سے اپنی بچھڑ کر بھی جی رہے کیا خاک اب قضا کی تمنا کریں گے ہم سب کچھ انہیں دیا جو ہمیں کچھ نہ دے سکے اے حاصل خلوص بتا کیا کریں گے ہم تھی جن سے کچھ امید وفا وہ بدل گئے ہرگز نہ اب کسی کی تمنا کریں گے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 839 سے 4657