شاعری

جدھر وہ ہیں ادھر ہم بھی اگر جائیں تو کیا ہوگا

جدھر وہ ہیں ادھر ہم بھی اگر جائیں تو کیا ہوگا ارادے حشر میں یہ کام کر جائیں تو کیا ہوگا کسی نے آج تک اس کا پتہ پایا جو ہم پاتے مکان و لا مکاں سے بھی گزر جائیں تو کیا ہوگا یہ کلیوں کا تبسم اور یہ پھولوں کی رعنائی بہاروں میں اگر وہ بھی سنور جائیں تو کیا ہوگا یقیں وعدے کا ان کے خود ...

مزید پڑھیے

لہو پکار کے چپ ہے زمین بولتی ہے

لہو پکار کے چپ ہے زمین بولتی ہے میں جھومتا ہوں کہ یہ کائنات ڈولتی ہے ابھی زمین پہ اترے گی اس دریچے سے وہ روشنی جو مسافر کی راہ کھولتی ہے مزا تو یہ ہے کہ وہ زہر میں بجھی آواز کبھی کبھی مرے کانوں میں شہد گھولتی ہے عجیب ربط ہے گونگی رفاقتوں سے مجھے وہ سوچتا ہے تو میری زبان بولتی ...

مزید پڑھیے

شعور قیس نے صحرا میں خود کشی کر لی

شعور قیس نے صحرا میں خود کشی کر لی کہا گیا غم لیلیٰ میں خود کشی کر لی غم حیات کے آتش کدے سے آیا تھا وہ جس نے کود کے دریا میں خود کشی کر لی ہمارے قتل کا شاہد تو ہے ہر اک لمحہ مگر یہ شور ہے دنیا میں خود کشی کر لی ملا نہ جب کوئی اوتار مجھ کو کل یگ میں نئے جنم کی تمنا میں خود کشی کر ...

مزید پڑھیے

کچھ تغافل ہے تو کچھ ناز و ادا کاری ہے

کچھ تغافل ہے تو کچھ ناز و ادا کاری ہے قہر کا قہر ہے دل داری کی دل داری ہے التفات نگہ ناز سے بچ کر رہنا جذبۂ عشق ترے قتل کی تیاری ہے شفقتیں زندہ ہیں اخلاص کی بنیادوں پر اب بھی کچھ لوگوں میں پہلے سی رواداری ہے یہی تہذیب تو ورثے میں ملی ہے مجھ کو تم انا سمجھے ہو جس کو مری خودداری ...

مزید پڑھیے

میں اگر فکر کے شہ پر سے الگ ہو جاؤں

میں اگر فکر کے شہ پر سے الگ ہو جاؤں اپنے اندر کے سخنور سے الگ ہو جاؤں آئنہ گرد سے باطل کی نکل آئے گا حق کی تائید میں لشکر سے الگ ہو جاؤں آسماں بھی نہیں روئے گا لہو کے آنسو میں اگر شام کے منظر سے الگ ہو جاؤں تپتے صحرا کی زمیں کو بھی ضرورت ہے مری لیکن اب کیسے سمندر سے الگ ہو ...

مزید پڑھیے

کوئی تو کام اچھا رہ گیا ہے

کوئی تو کام اچھا رہ گیا ہے ہمیں بس یاد اتنا رہ گیا ہے ہمیں ڈھونا ہے لاشوں کو مسلسل یہی اک کام اپنا رہ گیا ہے محبت کم مروت ہے زیادہ وہاں بس آنا جانا رہ گیا ہے جو ہے سب کچھ پلٹ سکتا ہے پل میں کسی کا اک اشارہ رہ گیا ہے بہت کچھ کام ہم سب کر چکے ہیں دلوں میں گھر بنانا رہ گیا ہے سبھی ...

مزید پڑھیے

نئے سرے سے نئی روانی میں جا رہا تھا

نئے سرے سے نئی روانی میں جا رہا تھا مکاں سے اپنے میں لا مکانی میں جا رہا تھا مجھے تو ایسا لگا کہ صحرا بھی اک گلی ہے میں اپنی وحشت کی بے کرانی میں جا رہا تھا مجھے جو روکا تھا نفرتوں نے رکا میں پل بھر محبتوں کی میں سرگرانی میں جا رہا تھا سفر تھا آساں اسی نے اس کو بنایا مشکل وہ ...

مزید پڑھیے

منتشر جب ذہن میں لفظوں کا شیرازہ ہوا

منتشر جب ذہن میں لفظوں کا شیرازہ ہوا مجھ کو اک سادہ ورق کے دکھ کا اندازہ ہوا یوں تو اک چبھتا ہوا احساس تھی اس کی نظر چوٹ ہی ابھری نہ کوئی زخم ہی تازہ ہوا موڑنا چاہا تھا میں نے سرپھرے لمحوں کا رخ دیر میں اجڑی ہوئی شاخوں کو اندازہ ہوا اپنی پلکوں پر لیے پھرتا رہا نیندوں کا ...

مزید پڑھیے

یہی بس ایک دعا مانگنا نہیں آتا

یہی بس ایک دعا مانگنا نہیں آتا وفا کے بدلے وفا مانگنا نہیں آتا ہمارا کام محبت سے پیش آنا ہے کسی کا نام پتا مانگنا نہیں آتا دریچہ کھول دیا ہے گھٹن سے بچنے کو مگر زباں سے ہوا مانگنا نہیں آتا کہیں ملے تو یہ کہنا مرے مسیحا سے مریض غم کو دوا مانگنا نہیں آتا یہ خامشی کوئی طوفاں ضرور ...

مزید پڑھیے

سب کہیں پیچھے چھوٹ چھاٹ گئے

سب کہیں پیچھے چھوٹ چھاٹ گئے وہ زمانے وہ ٹھاٹ باٹ گئے کون تولے گا تجھ کو پھولوں میں وہ ترازو گئی وہ باٹ گئے ہم سے اچھے رہے ہمارے بزرگ زندگی سادگی سے کاٹ گئے اب رہا کیا ہے ان کتابوں میں کام کی باتیں لوگ چاٹ گئے پھر کہیں بھی یہ جی لگا ہی نہیں ہم تو جانے کو گھاٹ گھاٹ گئے پیاس اپنی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 841 سے 4657