شاعری

کیجیے اور سوالات نہ ذاتی مجھ سے

کیجیے اور سوالات نہ ذاتی مجھ سے اتنی شہرت بھی سنبھالی نہیں جاتی مجھ سے نام اشیا کے بتائے مگر اے حکمت غیب کاش تو میری حقیقت نہ چھپاتی مجھ سے دل شکن عہد شکن صبر شکن قدر شکن پوچھ لے اپنے سب القاب صفاتی مجھ سے ہار جاتا میں خوشی سے کہ وفا کا تھا سوال جیت جاتی وہ اگر شرط لگاتی مجھ ...

مزید پڑھیے

اب انہیں مجھ سے کچھ حجاب نہیں

اب انہیں مجھ سے کچھ حجاب نہیں اب ان آنکھوں میں کوئی خواب نہیں میری منزل ہے روشنی لیکن میری قدرت میں آفتاب نہیں تجھ کو ترتیب دے رہا ہوں میں میری غزلوں کا انتخاب نہیں اب سنا ہے کہ میرے دل کی طرح ایک صحرا ہے ماہتاب نہیں شام اتنی کبھی اداس نہ تھی کیوں تری زلف میں گلاب نہیں یوں نہ ...

مزید پڑھیے

بے وفا گر ہے وہ تجدید وفا ہو کیسے

بے وفا گر ہے وہ تجدید وفا ہو کیسے درد ہی دل کی دوا ہو تو دوا ہو کیسے وہ کبھی میرؔ ہے لکھتا کبھی خود کو غالبؔ حرف آ جائے گا تنقید روا ہو کیسے جلوہ گر ہر سو فروزاں جو درخشاں مجھ میں ہو نہ گر دور نگاہوں سے خدا ہو کیسے عشق کب کھیل تماشہ ہے یہ کوئی دل کا قرض ہے سر پہ میرے کوئی ادا ہو ...

مزید پڑھیے

دشت جو آج ہے کل قریۂ جاں بھی ہوگا

دشت جو آج ہے کل قریۂ جاں بھی ہوگا دل میں جب خوں ہے تو آنکھوں سے رواں بھی ہوگا ہو گئے غیر بھی کیا کیجے اسی کے آخر دل کبھی دے کے نہ سوچا تھا زیاں بھی ہوگا خوں بہا دیکھیے اب جائے یہ کس کے سر پر بات نکلے گی تو کچھ ذکر پتا بھی ہوگا بزم ہے رقص میں جگنو بھی چمکتے سر پر شمع گل ہوتی تو ہر ...

مزید پڑھیے

گلوں کی بات چلی ذکر نو بہار چلا

گلوں کی بات چلی ذکر نو بہار چلا سکوں گیا تو کبھی چھوڑ کر قرار چلا ملا نہ چین جنوں کو کہیں ٹھہرنے میں فراز دار پہ بھی اس کا کاروبار چلا رہا ہے غم سے عجب ربط اپنی ہستی کا کہیں گیا میں یہ ہم راہ غم گسار چلا جنوں کا رقص کہیں رقص مہ جبینوں کا کہیں اداس کہیں کوئی اشک بار چلا سکوں ملا ...

مزید پڑھیے

تیری جستجو میں جہاں دیکھ آئے

تیری جستجو میں جہاں دیکھ آئے کہاں دیکھنا تھا کہاں دیکھ آئے چلے صبح دم شام گھر لوٹ آئے زمیں آسماں کہکشاں دیکھ آئے رہے رہ گزر پر کھڑے شام تک ہم گزرتے رہے کارواں دیکھ آئے قدم دیکھنا خود یہ چومیں گی موجیں زمیں بوس ہم آسماں دیکھ آئے نہ موسم نہ باد صبا راس آئی چمن میں تھا رقص خزاں ...

مزید پڑھیے

دل کی لگی اگر ہے تو سود و زیاں میں کیا

دل کی لگی اگر ہے تو سود و زیاں میں کیا رہنا جنوں کے ساتھ ٹھہرنا مکاں میں کیا منظر کوئی نہیں ہے تو دیکھے کہاں کوئی پھر خوف کیوں دلوں میں ہے پنہاں دھواں میں کیا رکھ آئے ہم ہیں پیش نظر اس کے مدعا اب دیکھنا کہ بات ہے شیریں زباں میں کیا چہرہ ہی بس کمال کا ورنہ میں کیا کہوں پکوان ...

مزید پڑھیے

تو کسی راستے کا مسافر رہے تیری ایک ایک ٹھوکر اٹھا لاؤں گی

تو کسی راستے کا مسافر رہے تیری ایک ایک ٹھوکر اٹھا لاؤں گی اپنی بے چین پلکوں سے چن چن کے میں تیرے رستے کے پتھر اٹھا لاؤں گی میں ورق پیار کا موڑ سکتی نہیں زندگی میں تجھے چھوڑ سکتی نہیں تو اگر میرے گھر تک نہیں آئے گا میں ترے پاس ہی گھر اٹھا لاؤں گی آنسوؤں کا یہ موسم چلا جائے گا میرے ...

مزید پڑھیے

ایسی نیند آئی کہ پھر موت کو پیار آ ہی گیا

ایسی نیند آئی کہ پھر موت کو پیار آ ہی گیا رات بھر جاگنے والے کو قرار آ ہی گیا خاک میں یوں نہ ملانا تھا مری جاں تم کو اک وفادار کے دل میں بھی غبار آ ہی گیا یاد گیسو نے تسلی تو بہت دی لیکن سامنے رات مآل دل زار آ ہی گیا کشتۂ ناز کی میت پہ نہ آنے والا پھول دامن میں لیے سوئے مزار آ ہی ...

مزید پڑھیے

یوں تصور میں بسر رات کیا کرتے تھے

یوں تصور میں بسر رات کیا کرتے تھے لب نہ کھلتے تھے مگر بات کیا کرتے تھے ہائے وہ رات کہ سوتی تھی خدائی ساری ہم کسی در پہ مناجات کیا کرتے تھے یاد ہے بندگی اہل محبت جس پر آپ بھی فخر و مباہات کیا کرتے تھے ہم کبھی معتکف کنج حرم ہو کر بھی سجدۂ پیر خرابات کیا کرتے تھے یاد کرتا ہے اسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 820 سے 4657