شاعری

زندگی تجھ سے ہمیں اب کوئی شکوہ ہی نہیں

زندگی تجھ سے ہمیں اب کوئی شکوہ ہی نہیں اب تو وہ حال ہے جینے کی تمنا ہی نہیں انتہا عشق کی ہے آئنۂ دل پہ مرے ماسوا اس کے کوئی عکس ابھرتا ہی نہیں میرے افکار کو دیتی ہے جلا اس کی جفا غم نہ ہوتے تو یہ قرطاس سنورتا ہی نہیں مجھ کو حق بات کے کہنے میں تأمل کیوں ہو میں وہ دیوانہ ہوں جو دار ...

مزید پڑھیے

کب سے اس دنیا کو سرگرم سفر پاتا ہوں میں

کب سے اس دنیا کو سرگرم سفر پاتا ہوں میں پھر بھی ہر منزل کو پہلی رہ گزر پاتا ہوں میں مرشد مے خانہ کے قدموں پہ سر پاتا ہوں میں اب دماغ مے پرستی عرش پر پاتا ہوں میں ہر طرف ساقی ترا فیض نظر پاتا ہوں میں خانقاہوں میں بھی مستی کا اثر پاتا ہوں میں دم بدم اس رخ پہ اک حسن دگر پاتا ہوں ...

مزید پڑھیے

کوئی ٹوٹی ہوئی کشتی کا تختہ بھی اگر ہے لا

کوئی ٹوٹی ہوئی کشتی کا تختہ بھی اگر ہے لا ابھی ساحل پہ ہے تو اور پیش از مرگ واویلا اندھیری رات سے ڈرتا ہے میر کارواں ہو کے اندھیرا ہے تو اپنے داغ دل کی روشنی پھیلا نہ گھبرا تیرگی سے تو قسم ہے سنگ اسود کی کہ تاریکی ہی میں سوئی ہے شام گیسوئے لیلا مذاق شادی و غم تا کجا اے خاک کے ...

مزید پڑھیے

موسم گل ہے نہ دور جام و صہبا رہ گیا

موسم گل ہے نہ دور جام و صہبا رہ گیا لے گئی سب کو جوانی میں اکیلا رہ گیا جانے کیا ہو کر نگاہوں سے اشارہ رہ گیا ہائے خون آرزو جب ہل کے پردا رہ گیا عشق کی رسوائیاں وہ حسن کی بد نامیاں ہم بھلا بیٹھے مگر دنیا میں چرچا رہ گیا اک سراپا ناز تنہائی مزار عاشقاں ہائے وہ عالم کہ جب خود حسن ...

مزید پڑھیے

جینے کا مزہ ہے نہ ہے مرنے میں سکوں اب

جینے کا مزہ ہے نہ ہے مرنے میں سکوں اب لے جائے کہاں دیکھیے صحرا کو جنوں اب ہو جائے نہ یہ شہر بیاباں کبھی اک دن جلوہ نہ ترے حسن کا باقی نہ فسوں اب شکوہ ہے غم دل کا گلہ دہر کا تھوڑا گزری جو شب ہجر میں کیسے نہ کہوں اب برباد ہر اک شہر فسردہ گل و غنچے کل جام تھا ہاتھوں میں مگر سر ہے نگوں ...

مزید پڑھیے

میں بھی روشن دماغ رکھتا ہوں

میں بھی روشن دماغ رکھتا ہوں چاند جیسا چراغ رکھتا ہوں میرے ہونٹوں پہ مسکراہٹ ہے گرچہ سینے میں داغ رکھتا ہوں کیا مرے پاس کام پت جھڑ کا دل میں سر سبز باغ رکھتا ہوں مجھ سے کچھ تم چھپا نہ پاؤ گے اہتمام سراغ رکھتا ہوں پیاس کیسے مجھے لگے ناقدؔ اک لبالب ایاغ رکھتا ہوں

مزید پڑھیے

بھوکی ہے زمیں بھوک اگلتی ہی رہے گی

بھوکی ہے زمیں بھوک اگلتی ہی رہے گی یہ بھوک مرے پیٹ میں پلتی ہی رہے گی جیون بھی مرا دشت ہے مسکن بھی مرا دشت ہونٹوں پہ مرے پیاس مچلتی ہی رہے گی دل میں نہیں اب پاس رہا چین سکوں کا اک آگ سی دل میں ہے ابلتی ہی رہے گی ہستی کے اجڑنے کا بھلا دکھ مجھے کیوں ہو یہ ٹھوکریں کھا کھا کے سنبھلتی ...

مزید پڑھیے

بہت کچھ لکھا ہے بہت کچھ لکھیں گے

بہت کچھ لکھا ہے بہت کچھ لکھیں گے یہ طے ہے کہ اہل قلم ہی رہیں گے نہیں ہم نصیبوں سے مایوس بالکل جو ہم بن نہ پائے وہ بچے بنیں گے گنوائے ہیں اوقات اپنے جنہوں نے وہی عمر بھر ہاتھ ملتے رہیں گے رہے گا جو یونہی ستم کا تسلسل تو تنگ آ کے ہم بھی بغاوت کریں گے اگر عدل سے نسل محروم ہوگی تو ...

مزید پڑھیے

کلی پر مسکراہٹ آج بھی معلوم ہوتی ہے

کلی پر مسکراہٹ آج بھی معلوم ہوتی ہے مگر بیمار ہونٹوں پر ہنسی معلوم ہوتی ہے اسیری کی خوشی کس کو خوشی معلوم ہوتی ہے چراغاں ہو رہا ہے تیرگی معلوم ہوتی ہے بظاہر روئے گل پر تازگی معلوم ہوتی ہے مگر برباد چہرے کی خوشی معلوم ہوتی ہے نسیم صبح تو کیا سونے والوں کو جگائے گی ابھی تو صبح ...

مزید پڑھیے

پردہ پڑا ہوا تھا خودی نے اٹھا دیا

پردہ پڑا ہوا تھا خودی نے اٹھا دیا اپنی ہی معرفت نے تمہارا پتہ دیا در در کی ٹھوکروں نے شرف کو مٹا دیا قدرت نے کیوں غریب کو انساں بنا دیا اپنے وجود کا بھی تو کوئی ثبوت ہو میں تھا کہاں کہ مجھ کو کسی نے مٹا دیا اللہ رے جبہہ سائی خاک حریم دوست بندے کو بندہ سجدے کو سجدا بنا دیا حس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 821 سے 4657