شاعری

ڈھلتا سورج آنکھ کا ریزہ ہو جاتا ہے

ڈھلتا سورج آنکھ کا ریزہ ہو جاتا ہے جھوٹے خوابوں کا آمیزہ ہو جاتا ہے اپنے فقروں سے ہشیار کہ فقرہ اکثر دشمن کے ہاتھوں کا نیزہ ہو جاتا ہے پہلے شیشہ ٹوٹ کے خنجر بن جاتا تھا لیکن اب تو ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے حسن کی سنگت پھول کی رنگت سے مس ہو کر شبنم کا آنسو آویزہ ہو جاتا ہے

مزید پڑھیے

اپنی مجبوری کو ہم دیوار و در کہنے لگے

اپنی مجبوری کو ہم دیوار و در کہنے لگے قید کا ساماں کیا اور اس کو گھر کہنے لگے درج ہے تاریخ وصل و ہجر اک اک شاخ پر بات جو ہم تم نہ کہہ پائے شجر کہنے لگے خوف تنہائی دکھاتا تھا عجب شکلیں سو ہم اپنے سائے ہی کو اپنا ہم سفر کہنے لگے بستیوں کو بانٹنے والا جو خط کھینچا گیا خط کشیدہ لوگ ...

مزید پڑھیے

شب چراغ کر مجھ کو اے خدا اندھیرے میں

شب چراغ کر مجھ کو اے خدا اندھیرے میں سانپ بن کے ڈستا ہے راستہ اندھیرے میں آئینہ اجالا ہے ذات کا حوالہ ہے پھر بھی کس نے دیکھا ہے آئینہ اندھیرے میں لیکن اب بھی روشن ہیں خواب میری آنکھوں کے چاند تو کہیں جا کر سو گیا اندھیرے میں جب بھی بند کیں آنکھیں کھل گئیں مری آنکھیں روشنی سے ...

مزید پڑھیے

یہی سلوک مناسب ہے خوش گمانوں سے

یہی سلوک مناسب ہے خوش گمانوں سے پٹک رہا ہوں میں سر آج کل چٹانوں سے ہوا کے رحم و کرم پر ہے برگ آوارہ زمین سے کوئی رشتہ نہ آسمانوں سے میں اک رقیب کی صورت ہوں درمیاں میں مگر زمیں کی گود ہری ہے انہی کسانوں سے وہ دور افق میں اڑانیں ہیں کچھ پرندوں کی اتر رہے ہیں نئے لفظ آسمانوں سے ہر ...

مزید پڑھیے

خواب دیکھوں کہ رت جگے دیکھوں

خواب دیکھوں کہ رت جگے دیکھوں وہی گیسو کھلے کھلے دیکھوں رنگ آہنگ روشنی خوشبو گھٹتے بڑھتے سے دائرے دیکھوں کیوں نہ دیکھوں میں روز و شب اپنے کیوں پہاڑوں کے سلسلے دیکھوں میں سمیع و بصیر ہوں ایسا سنوں آنسو تو قہقہے دیکھوں حال اک لمحۂ گریزاں ہے مڑ کے دیکھوں کہ سامنے دیکھوں تجھ کو ...

مزید پڑھیے

سنگ چہرہ نما تو میں بھی ہوں

سنگ چہرہ نما تو میں بھی ہوں دیکھیے آئنہ تو میں بھی ہوں بیعت حسن کی ہے میں نے بھی صاحب سلسلہ تو میں بھی ہوں مجھ پہ ہنستا ہے کیوں ستارۂ صبح رات بھر جاگتا تو میں بھی ہوں کون پہنچا ہے دشت امکاں تک ویسے پہنچا ہوا تو میں بھی ہوں آئینہ ہے سبھی کی کمزوری تم ہی کیا خود نما تو میں بھی ...

مزید پڑھیے

میں نے کس شوق سے اک عمر غزل خوانی کی

میں نے کس شوق سے اک عمر غزل خوانی کی کتنی گہری ہیں لکیریں میری پیشانی کی وقت ہے میرے تعاقب میں چھپا لے مجھ کو جوئے کم آب قسم تجھ کو ترے پانی کی یوں گزرتی ہے رگ و پے سے تری یاد کی لہر جیسے زنجیر چھنک اٹھتی ہے زندانی کی اجنبی سے نظر آئے ترے چہرے کے نقوش جب ترے حسن پہ میں نے نظر ثانی ...

مزید پڑھیے

تمام عمر کی آوارگی پہ بھاری ہے

تمام عمر کی آوارگی پہ بھاری ہے وہ ایک شب جو تری یاد میں گزاری ہے سنا رہا ہوں بڑی سادگی سے پیار کے گیت مگر یہاں تو عبادت بھی کاروباری ہے نگاہ شوق نے مجھ کو یہ راز سمجھایا حیا بھی دل کی نزاکت پہ ضرب کاری ہے مجھے یہ زعم کہ میں حسن کا مصور ہوں انہیں یہ ناز کہ تصویر تو ہماری ہے یہ کس ...

مزید پڑھیے

کون سا رنگ اختیار کریں؟

کون سا رنگ اختیار کریں؟ خود کو چاہیں کہ تجھ سے پیار کریں؟ بھیڑ میں جو بچھڑ گئے ہم سے شام ڈھلنے کا انتظار کریں پتھروں سے معاملہ ٹھہرا سرکشی کیوں نہ اختیار کریں؟ روشنی کا یہی تقاضا ہے میرے سائے مجھی پہ وار کریں گم ہے تنہائیوں میں شہر کا شہر کیسے ان جنگلوں کو پار کریں جب حقیقت ...

مزید پڑھیے

آدھا جیون بیتا آہیں بھرنے میں

آدھا جیون بیتا آہیں بھرنے میں آدھی عمر توازن قائم کرنے میں دنیا تو پتھر ہے پتھر کیا جانے کتنے آنسو چیخ رہے ہیں جھرنے میں اک طوفان اور ایک جزیرہ حائل ہے ڈوبنے اور سمندر پار اترنے میں اک پل جوڑ رہا ہے دو دنیاؤں کو اک پل حائل ہے جینے اور مرنے میں مرنے والا دیکھ رہا تھا سب ناٹک سب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 819 سے 4657