شاعری

دل تڑپ جائے نہ کیوں سن کر فغان‌ اہل درد

دل تڑپ جائے نہ کیوں سن کر فغان‌ اہل درد ان سے پوچھو جو سمجھتے ہیں زبان‌ اہل درد ایک سے اک بڑھ کے ہے دلچسپ دل کش دل ستاں حال دل افسانۂ غم داستان اہل درد یہ تو کہئے منہ سے اک اف تک کسی نے کی کبھی لے چکے ہیں آپ اکثر امتحان اہل درد ہاتھ دھو لے جان سے کوئی تو جی بھر کر سنے جاں ستان‌ ...

مزید پڑھیے

محبت کی کرشمہ سازیاں آواز دیتی ہیں

محبت کی کرشمہ سازیاں آواز دیتی ہیں تری یادوں کی الھڑ شوخیاں آواز دیتی ہیں مسافر لوٹنا چاہو تو لمحوں میں پلٹ جاؤ تمہیں ساحل پہ ٹھہری کشتیاں آواز دیتی ہیں ذرا سی دیر میں موسم بدلنے کا زمانہ ہے ہوا کے بازوؤں کی چوڑیاں آواز دیتی ہیں خزاں کے خوف سے سہمے پرندو لوٹ بھی آؤ تمہیں پھر ...

مزید پڑھیے

اگر وہ ہم سفر ٹھہریں تو ہم کو ڈر میں رکھتے ہیں

اگر وہ ہم سفر ٹھہریں تو ہم کو ڈر میں رکھتے ہیں بکھر جائیں نہ ہم خود کو مقید گھر میں رکھتے ہیں ہمیں سیارگاں کی گردشیں معلوم ہیں لیکن ہم اپنی گردشوں کو اپنے ہی محور میں رکھتے ہیں سفر کے بعد رہتے ہیں تسلسل میں سفر کے ہم تلاش رزق کا جذبہ شکستہ پر میں رکھتے ہیں ہمارا حال دل اب تک کسی ...

مزید پڑھیے

خلش خار ہو وحشت میں کہ غم ٹوٹ پڑے

خلش خار ہو وحشت میں کہ غم ٹوٹ پڑے پر پھپھولوں میں الٰہی نہ مرے پھوٹ پڑے دن دو پہرے ہی شفق شام جہاں میں پھولے آسماں پر لب لعلیں کے اگر چھوٹ پڑے دم نکل جائے خفا ہو کے غم کاکل میں جو پڑے حلق میں پھندا وہ گلا گھوٹ پڑے ہجر ساقی میں دہن سے مرے اچھو ہو کر جو پیوں آب بقا بھی وہ نکل گھوٹ ...

مزید پڑھیے

نظروں سے گلوں کی نونہالو

نظروں سے گلوں کی نونہالو شبنم کی طرح گرا سنبھالو مانو رہ سرکشی نکالو پگڑی مہ و مہر کی اچھالو صیاد خفا ہے بلبل و کبک خاموش رہو نہ بولو چالو اصنام میں شان حق عیاں ہے آنکھیں ہیں تو ان کو دیکھو بھالو ٹھہرو کوئی دم کے مہمان ہیں چلتے تو ہیں ہم بھی چلنے والو مشتاق لقا ہے اک خدائی اب ...

مزید پڑھیے

دیکھ کر روئے صنم کو نہ بہل جاؤں گا

دیکھ کر روئے صنم کو نہ بہل جاؤں گا مرتے دم لے کے سنبھالا تو سنبھل جاؤں گا تن کفن پوش تو ہو اور ہی پیراہن میں اجلے کپڑے میں بدلتے ہی بدل جاؤں گا چمن دہر میں وہ برگ خزانی ہوں میں گر نہ برباد ہوا آگ میں جل جاؤں گا ہوں وہ ثابت قدم اے چرخ جو بھونچال بھی آئے چاہے ٹل جائے زمیں میں نہیں ...

مزید پڑھیے

شب میں جو زلف رخ پہ بکھر کر سمٹ گئی

شب میں جو زلف رخ پہ بکھر کر سمٹ گئی وہ نور بن کے دن کے اجالے میں بٹ گئی اتنی حسین آئی نہ آئے گی عمر بھر اک تیرے انتظار میں جو عمر کٹ گئی کھویا ہوا تھا تیرے تصور میں جس گھڑی تاریکی جتنی ذہن پہ چھائی تھی چھٹ گئی ہونٹوں پہ رقص کرتا رہا نام جب ترا ہر کامیابی بڑھ کے قدم سے لپٹ ...

مزید پڑھیے

رہ گزر شیشے کی ہے نہ اس کا در شیشے کا ہے

رہ گزر شیشے کی ہے نہ اس کا در شیشے کا ہے در حقیقت اپنا ہی رخت سفر شیشے کا ہے چلتا پھرتا بولتا سنتا سمجھتا ہے مگر لگنے کو کچھ بھی لگے ہر اک بشر شیشے کا ہے آدم و ابلیس کا کردار دیتا ہے سبق خیر ہے فولاد کی مانند شر شیشے کا ہے بے سبب ٹکراؤ مت تہذیب کے رسم و رواج کچھ ادھر شیشے کا ہے تو ...

مزید پڑھیے

تخت چاہا نہ کبھی مسند شاہی چاہی

تخت چاہا نہ کبھی مسند شاہی چاہی ہم نے ظالم سے فقط خیر نگاہی چاہی دار کا خوف نہیں پھر بھی زمیں والوں سے جو صداقت پہ ہو مبنی وہ گواہی چاہی جھوٹ کے بل پہ کوئی وقت کا فرزند ہوا ہم نے سچ بول کہ بس اپنی تباہی چاہی عشق کی رہ میں ظفر یابی کی حسرت لے کر ہم نے ہر دور میں تائید الٰہی ...

مزید پڑھیے

اس نے افشاں جو چنی رات کو تنہا ہو کر

اس نے افشاں جو چنی رات کو تنہا ہو کر آسماں ٹوٹ پڑا مجھ پہ ستارہ ہو کر بھوکیں محلوں پہ نہ منعم سگ دنیا ہو کر ہڈیاں قبر میں رہ جائیں گی چونا ہو کر وہ جلے تن ہوں مرے پر بھی جو مٹی میں ملوں گرد باد اٹھنے لگیں آگ بگولا ہو کر مے کشی میں جو ہوا چشم خماری کا خیال رہ گیا جام ہتھیلی کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 810 سے 4657