شاعری

میں وہ بے چارہ ہوں جس سے بے کسی مانوس ہے

میں وہ بے چارہ ہوں جس سے بے کسی مانوس ہے جو ہتھیلی ہاتھ میں ہے اک کف افسوس ہے اس قدر رنج سیہ بختی سے ہوں زار و نحیف دو قدم چلنا بھی جس کو ایک کالے کوس ہے آسماں نان جویں بھی دے تو نعمت جانیے پاؤ روٹی بھی جو ہاتھ آئے سمجھے توس ہے غیر کے خاطر دھرا جاتا ہوں میں مفت خدا کوئی ملزم ہو ...

مزید پڑھیے

کیا یہ بت بیٹھیں گے خدا بن کر

کیا یہ بت بیٹھیں گے خدا بن کر اللہ اللہ اے برہمن کر ہوگا برباد مثل کاغذ باد سر کو کھینچا فلک پہ گر تن کر خنجر و تیغ کر گلے پہ رواں پھیر کر آنکھ کج نہ چتون کر اے تری شان ہو گیا انساں ایک مشت غبار بن ٹھن کر پاک دامن ہے مریم ثانی چشم تر طفل اشک کو جن کر دل کے ڈسنے میں ہے یہ کالا ...

مزید پڑھیے

ہم سے دو چار بزم میں دھیان اور کی طرف

ہم سے دو چار بزم میں دھیان اور کی طرف آنکھ اس طرف لگائی ہے کان اور کی طرف ابرو سے ہم شہید مژہ سے رقیب ہوں تلوار ادھر لگائیے بان اور کی طرف صید زبوں وہ ہوں جو رواں تیر ادھر ہوا اس کی قضا نے بولی کمان اور کی طرف ہم بیکسوں کی قبر سوا ہرگز اے فلک نم گیر کو نہ ابر کے تان اور کی طرف یا ...

مزید پڑھیے

جوں سبزہ رہے اگتے ہی پیروں کے تلے ہم

جوں سبزہ رہے اگتے ہی پیروں کے تلے ہم برسات کے موسم میں بھی پھولے نہ پھلے ہم محروم چمن مرغ قفس بند ازل ہیں صیاد کے پنجرے میں ہیں بچپن سے پلے ہم جب غیر سے ہوتا ہے وہ سفاک بغل گیر تیغ صفہانی کو لگاتے ہیں گلے ہم چکی کی طرح چرخ نے پیسا تو ہمیں کو دانا ہیں زمانے کے گئے اس سے ولی ہم یہ ...

مزید پڑھیے

جان یا دل نذر کرنا چاہئے

جان یا دل نذر کرنا چاہئے کچھ نہ کچھ اس بت کو پوجا چاہئے دل شگافی چاہئے مثل قلم زخم سینے کا نہ سینا چاہئے کاٹ کر سر پار بیڑا کیجیئے تیغ کے گھاٹوں اتارا چاہئے میں فدا ہوں گر تمہیں باور نہ ہو آزما دیکھو اسے کیا چاہئے کشتیٔ مے کا لب جو دور ہو کھیلنا مستوں نواڑا چاہئے مست سر جوش ...

مزید پڑھیے

بوسہ زلف دوتا کا دو

بوسہ زلف دوتا کا دو روحوں بلائیں صدقہ دو رد و بدل کیا بوسہ دو لیتا ایک نہ دیتا دو زلف سیہ کے مجرم ہیں کالے پانی بھجوا دو یہ جائیں گے مثل حباب چھوٹنے دل کا چھالا دو مشرک کیا ہو وحدت میں ایک کو دیکھے جھٹکا دو گھر میں بلا کے قتل کرو دروازے میں تیغا دو ہم پہ کھلا ہے راز کمر اور ...

مزید پڑھیے

ابر دیدہ کا مرے ہو جو نہ اوجھڑ پانی

ابر دیدہ کا مرے ہو جو نہ اوجھڑ پانی پھر کہیں جھڑکی لگائے نہ کہیں جھڑ پانی میرے رونے سے دل سنگ جو آب آب نہ ہو کوہساروں سے گرے پھر نہ دھڑا دھڑ پانی یہ اندھیرا یہ شب تار کہاں جاؤ گے دن ہیں برسات کے گلیوں میں ہے کیچڑ پانی برق انداز نہ کس طرح کروں نالۂ گرم جان بیتاب ہے بجلی کی طرح تڑ ...

مزید پڑھیے

تو وہ ہندوستاں میں لالا ہے

تو وہ ہندوستاں میں لالا ہے جس کا داغی غلام لالا ہے ہاتھ وحشت سے روک اے مجنوں پاؤں پڑتا ہر ایک چھالا ہے بے مے و نان ہوں میں وہ غیروں سے ہم پیالہ ہے ہم نوالا ہے دل ہر شیخ و برہمن ہے جدا کہیں مسجد کہیں شوالا ہے اس کے آنے سے تن میں جان آئی دم آخر لیا سنبھالا ہے چپ رہوں کیا میں صورت ...

مزید پڑھیے

گر جنوں کر مجھے پابند سلاسل جاتا

گر جنوں کر مجھے پابند سلاسل جاتا پاؤں رکھنے کا ٹھکانا تو کہیں مل جاتا مر بھی جاتا تو نہ میرا مرض سل جاتا غم اصنام کی چھاتی پہ دھرے سل جاتا خط عارض جو ترشنے سے مٹے ہے یہ محال چھیلنے سے نہیں قسمت کا لکھا چھل جاتا چھوٹتا عید کے دن بھی نہ گرفتاروں کو صورت طوق گلو گیر گلے مل جاتا جب ...

مزید پڑھیے

کیا کہوں غنچۂ گل نیم دہاں ہے کچھ اور

کیا کہوں غنچۂ گل نیم دہاں ہے کچھ اور لا‌ کلامی ہے وہاں بات یہاں ہے کچھ اور بجھ گئی آتش گل دیکھ تو اے دیدۂ تر کیا سلگتا ہے جو پہلو میں دھواں ہے کچھ اور پانی اس میں سے بھریں اس میں گریں یوسف دل چشمۂ چاہ ذقن اور کنواں ہے کچھ اور جیتے جی موت کا ڈر بعد فنا خوف عذاب جز غم و رنج یہاں ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 811 سے 4657