بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیا
بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیا ان لاکھوں ہی مرنے والوں میں کیا جلد مجھے پہچان لیا جب قتل ہوا میں تڑپا بھی چھینٹیں بھی اڑائیں مان لیا الزام خود اس پر کیا یہ نہیں دامن کو نہ کیوں گردان لیا تو عام فریبی مجھ سے نہ کر ہم مرد ہیں سن لے اے دنیا جو منہ سے کہا وہ کر گزرے ...