شاعری

بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیا

بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیا ان لاکھوں ہی مرنے والوں میں کیا جلد مجھے پہچان لیا جب قتل ہوا میں تڑپا بھی چھینٹیں بھی اڑائیں مان لیا الزام خود اس پر کیا یہ نہیں دامن کو نہ کیوں گردان لیا تو عام فریبی مجھ سے نہ کر ہم مرد ہیں سن لے اے دنیا جو منہ سے کہا وہ کر گزرے ...

مزید پڑھیے

ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم جو یاد نہ آئے بھول کے پھر اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم میں حیرت و حسرت کا مارا خاموش کھڑا ہوں ساحل پر دریائے محبت کہتا ہے آ کچھ بھی نہیں پایاب ہیں ہم ہو جائے بکھیڑا پاک کہیں پاس اپنے بلا لیں بہتر ہے اب درد جدائی سے ان کی اے آہ بہت ...

مزید پڑھیے

مرے دانتوں کی عمر اے آرزو مجھ سے بھی چھوٹی تھی

مرے دانتوں کی عمر اے آرزو مجھ سے بھی چھوٹی تھی اسی نے ساتھ چھوڑا دانت کاٹی جن سے روٹی تھی شکایت آرزو کی بے کئے ناصح نہیں بنتی یہ سب دل جوئیاں ظاہر کی تھی باطن کی کھوٹی تھی ہوا در در لیے پھرتی ہے اب تو میری مٹی کو یہ ہے وہ خاک جو اک دن ترے قدموں پہ لوٹی تھی بہت گہرے نہ ہوں اوچھے ...

مزید پڑھیے

تا عمر آشنا نہ ہوا دل گناہ کا

تا عمر آشنا نہ ہوا دل گناہ کا خالق بھلا کرے تری ترچھی نگاہ کا تنہا مزا اٹھاتا ہے دل رسم و راہ کا بینا تو ہے پہ بس نہیں چلتا نگاہ کا جی بھر کے دیکھ لوں تو کر اس جرم پر شہید یوں اپنے سر پہ خون نہ لے بے گناہ کا رونا جو ہو تو رو لے بس اے چشم وقت نزع اب آج خاتمہ بھی ہے روز سیاہ کا پہنچا ...

مزید پڑھیے

تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں

تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں ہوں اس کوچے کے ہر ذرے سے آگاہ ادھر سے مدتوں آیا گیا ہوں نہیں اٹھتے قدم کیوں جانب دیر کسی مسجد میں بہکایا گیا ہوں دل مضطر سے پوچھ اے رونق بزم میں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں سویرا ہے بہت اے شور محشر ابھی بے کار اٹھوایا گیا ...

مزید پڑھیے

گلے لگائے رہا سب کا دھیان تھا اتنا

گلے لگائے رہا سب کا دھیان تھا اتنا گئی رتوں کا شجر مہربان تھا اتنا نہ جانے کتنے سمندر اتر گئے ہوں گے کسی کے پاؤں کا گہرا نشان تھا اتنا خلاؤں میں حد فاصل کو کھینچنے والو زمیں سے دور کبھی آسمان تھا اتنا کھڑا ہے سامنے بن کر خلوص کا پیکر جو شخص دیکھنے میں بد زبان تھا اتنا بدن سے ...

مزید پڑھیے

اک طرف طلب تیری اک طرف زمانہ ہے

اک طرف طلب تیری اک طرف زمانہ ہے پوچھتا ہے دل مجھ سے کس طرف کو جانا ہے میرے گھر وہ آئے گا آج گھر سجانا ہے اس طرف کی چیزوں کو اس طرف لگانا ہے نقش ہائے رنگیں کا اک نگار خانہ ہے زندگی حقیقت ہے زندگی فسانہ ہے جذبۂ جنون عشق گو بہت پرانا ہے پھر بھی تازہ تر ہے یہ پھر بھی والہانہ ...

مزید پڑھیے

باز آیا میں دل ناکام سے

باز آیا میں دل ناکام سے روتے روتے صبح کر دی شام سے ہم نشیں وارفتگئ شوق میں کون ڈرتا ہے بھلا انجام سے داستان غم ہر اک سے کیا کہوں کہنا پڑتا ہے کہ ہوں آرام سے رہنے دیجے چارہ جوئی ہے فضول سو گیا بیمار غم آرام سے

مزید پڑھیے

ہو گیا منزل نشیں جو راہرو دیوانہ تھا

ہو گیا منزل نشیں جو راہرو دیوانہ تھا انتخاب راہ میں ہی غم ابھی فرزانہ تھا اے نگاہ برق یوں تو اور بھی تھے آشیاں تیرا منظور نظر کیا میرا ہی کاشانہ تھا مورد الزام کیوں ٹھہرے بھلا دست کرم مانگنے والے ترا لہجہ ہی گستاخانہ تھا قوم کا ہی غم تھا جو اقبالؔ نے شکوہ کیا غور کیجے تو وہ ...

مزید پڑھیے

کس بری ساعت سے خط لے کر گیا

کس بری ساعت سے خط لے کر گیا نامہ بر اب تک نہ آیا مر گیا جاتے ہی دل اس گلی میں مر گیا مرنے والا بے وفائی کر گیا دل تو جانے کو گیا لیکن مجھے اس بھری محفل میں رسوا کر گیا حسرتیں تھیں جینے والی جی گئیں مرنے والا تھا دل اپنا مر گیا غم کی لذت ابتدا میں تھی مگر اس قدر کھایا کہ اب جی بھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 809 سے 4657