شاعری

صبح وفا سے ہجر کا لمحہ جدا کرو

صبح وفا سے ہجر کا لمحہ جدا کرو منزل سے گرد، گرد سے رستہ جدا کرو اک نقش ہو نہ پائے ادھر سے ادھر مرا جیسا تمہیں ملا تھا میں ویسا جدا کرو شب زادگاں! تم اہل خبر سے نہیں سو تم! اپنا مدار اپنا مدینہ جدا کرو یاں پے بہ پے جو خواب کھلے نے بہ نے کھلے جتنا جدا یہ ہو سکے اتنا جدا کرو میں تھا ...

مزید پڑھیے

بے مہر و وفا ہے وہ دل آرام ہمارا

بے مہر و وفا ہے وہ دل آرام ہمارا کیا جانے کیا ہووے گا انجام ہمارا کیا قہر ہے اوروں سے وہ ملتا پھرے ظالم اور مفت میں اب نام ہے بد نام ہمارا اے آب دم تیغ ستم کیش بجھا پیاس ہوتا ہے تری چاہ میں اب کام ہمارا لبریز کر اس دور میں اے ساقیٔ کم ظرف مت رکھ مئے گلگوں سے تہی جام ہمارا کس طرح ...

مزید پڑھیے

محبت میں نہ جانے کیوں ہمیں فرصت زیادہ ہے

محبت میں نہ جانے کیوں ہمیں فرصت زیادہ ہے ہمارا کام تھوڑا ہے مگر مہلت زیادہ ہے ہمیں اس عالم ہجراں میں بھی رک رک کے چلنا ہے انہیں جانے دیا جائے جنہیں عجلت زیادہ ہے یہ دل باہر دھڑکتا ہے یہ آنکھ اندر کو کھلتی ہے ہم ایسے مرحلے میں ہیں جہاں زحمت زیادہ ہے سو ہم فریادیوں کی ایک اپنی صف ...

مزید پڑھیے

بنتے بنتے اپنے پیچ و خم بنے

بنتے بنتے اپنے پیچ و خم بنے تو بنا پھر میں بنا پھر ہم بنے ایک آنسو تھا گرا اور چل پڑا ایک عالم تھا سو دو عالم بنے اک قدم اٹھا کہیں پہلا قدم خاک اڑی اور اپنے سارے غم بنے اپنی آوازوں کو چپ رہ کر سنا تب کہیں جا کر یہ زیر و بم بنے آنکھ بننے میں بہت دن لگ گئے دیکھیے کب آنکھ اندر نم ...

مزید پڑھیے

موجۂ خون پریشان کہاں جاتا ہے

موجۂ خون پریشان کہاں جاتا ہے مجھ سے آگے مرا طوفان کہاں جاتا ہے میں تو جاتا ہوں بیابان نظر کے اس پار میرے ہم راہ بیابان کہاں جاتا ہے اب تو دریا میں بندھے بیٹھے ہیں دریا کی طرح اب کناروں کی طرف دھیان کہاں جاتا ہے چائے کی پیالی میں تصویر وہی ہے کہ جو تھی یوں چلے جانے سے مہمان ...

مزید پڑھیے

تجھ میں کتنا گم ہوں اور کتنا نظر آتا ہوں میں

تجھ میں کتنا گم ہوں اور کتنا نظر آتا ہوں میں آتا جاتا آئنوں کو منہ دکھا جاتا ہوں میں اس کے بعد اگلی قیامت کیا ہے کس کو ہوش ہے زخم سہلاتا تھا اور اب داغ دکھلاتا ہوں میں نقش بر دیوار ہوں اور بات کر سکتا نہیں ایسی حالت میں بھی جو کہتا ہوں منواتا ہوں میں خاکساری ہی نہیں یہ غم گساری ...

مزید پڑھیے

در امکاں سے گزر کر سر منظر آ کر

در امکاں سے گزر کر سر منظر آ کر ہم عجب لہر میں ہیں اپنے نئے گھر آ کر جسے جانا ہی نہیں اپنے کناروں سے جدا اسے دیکھا بھی نہیں موج سے باہر آ کر آتش غم پہ نظر کی ہے کچھ ایسے کہ یہ آنچ بات کر سکتی ہے اب مرے برابر آ کر تو نے کس حرف کے آہنگ میں ڈھالا تھا مجھے سانس بھی ٹوٹ رہا ہے سر محضر آ ...

مزید پڑھیے

خود میں اتریں تو پلٹ کر واپس آ سکتے نہیں

خود میں اتریں تو پلٹ کر واپس آ سکتے نہیں ورنہ کیا ہم اپنی گہرائی کو پا سکتے نہیں خوشبوئیں کپڑوں میں نادیدہ چمن زاروں کی ہیں ہم کہاں سے ہو کے آئے ہیں بتا سکتے نہیں ہم نے ان گلیوں میں چلنے کی رعایت لی ہے بس دیکھ سکتے ہیں ہمیں یہ گھر بسا سکتے نہیں یہ بھرم منظر کا بھی ہے اور پس منظر ...

مزید پڑھیے

دیکھنا ہے کب زمیں کو خالی کر جاتا ہے دن

دیکھنا ہے کب زمیں کو خالی کر جاتا ہے دن اس قدر آتا نہیں ہے جس قدر جاتا ہے دن منتشر چلیے کہ یوں بازار بھر جاتا تو ہے مشتہر کیجے کہ پھر اچھا گزر جاتا ہے دن جب ذرا رد و بدل ہوتا ہے اس تعمیر میں باہر آ جاتی ہے رات اندر اتر جاتا ہے دن دن کی اپنی مستقل کوئی نہیں تاریخ درد زخم پر جاتا ...

مزید پڑھیے

سیاہی گرتی رہے اور دیا خراب نہ ہو

سیاہی گرتی رہے اور دیا خراب نہ ہو یہ طاق چشم اب اتنا بھی کیا خراب نہ ہو ہر آنے والا اسی طرح سے تجھے چاہے مری بنائی ہوئی یہ فضا خراب نہ ہو ازل ابد میں ٹھنی ہے سو میں نکلتا ہوں مری کڑی سے ترا سلسلہ خراب نہ ہو ہم اس ہوا سے تو کہتے ہیں کیوں بجھایا چراغ کہیں چراغ کی اپنی ہوا خراب نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 795 سے 4657