کچھ بھی نہ جب دکھائی دے تب دیکھتا ہوں میں
کچھ بھی نہ جب دکھائی دے تب دیکھتا ہوں میں پھر بھی یہ خوف سا ہے کہ سب دیکھتا ہوں میں آنکھیں تمہارے ہاتھ پہ رکھ کر میں چل دیا اب تم پہ منحصر ہے کہ کب دیکھتا ہوں میں آہٹ عقب سے آئی اور آگے نکل گئی جو پہلے دیکھنا تھا وہ اب دیکھتا ہوں میں یہ وقت بھی بتاتا ہے آداب وقت بھی اس ٹوٹتے ...