شاعری

کچھ بھی نہ جب دکھائی دے تب دیکھتا ہوں میں

کچھ بھی نہ جب دکھائی دے تب دیکھتا ہوں میں پھر بھی یہ خوف سا ہے کہ سب دیکھتا ہوں میں آنکھیں تمہارے ہاتھ پہ رکھ کر میں چل دیا اب تم پہ منحصر ہے کہ کب دیکھتا ہوں میں آہٹ عقب سے آئی اور آگے نکل گئی جو پہلے دیکھنا تھا وہ اب دیکھتا ہوں میں یہ وقت بھی بتاتا ہے آداب وقت بھی اس ٹوٹتے ...

مزید پڑھیے

مرے بننے سے کیا کیا بن رہا تھا

مرے بننے سے کیا کیا بن رہا تھا میں بننے کو اکیلا بن رہا تھا اور اب جب تن چکا تو شرم آئی کئی دن سے یہ پردہ بن رہا تھا زیادہ ہو رہی تھیں دو سرائیں میں پھر محفل کا حصہ بن رہا تھا قیامت اور قیامت پر قیامت میں خوش تھا میرا حلقہ بن رہا تھا فلک مٹ سا گیا حد نظر تک ستارہ ہی اک ایسا بن رہا ...

مزید پڑھیے

آنکھوں سے یوں چراغوں میں ڈالی ہے روشنی

آنکھوں سے یوں چراغوں میں ڈالی ہے روشنی ہم جیسی چاہتے تھے بنا لی ہے روشنی دریا غروب ہونے چلا تھا کہ آج رات غرقاب کشتیوں نے اچھالی ہے روشنی اپنی نشست چھوڑ کے واں رکھ دیا چراغ میں نے زمین دے کے بچا لی ہے روشنی ہاتھوں کا امتحان لیا ساری ساری رات سانچے میں صبح و شام کے ڈھالی ہے ...

مزید پڑھیے

خواب کھلنا ہے جو آنکھوں پہ وہ کب کھلتا ہے

خواب کھلنا ہے جو آنکھوں پہ وہ کب کھلتا ہے پھر بھی کہیے کہ بس اب کھلتا ہے اب کھلتا ہے باب رخصت سے گزرتا ہوں سو ہوتی ہے شناخت جس قدر دوش پہ سامان ہے سب کھلتا ہے یہ اندھیرا ہے اور ایسے ہی نہیں کھلتا یہ دیر تک روشنی کی جاتی ہے تب کھلتا ہے میری آواز پہ کھلتا تھا جو در پہلے پہل میں ...

مزید پڑھیے

گزرے نہیں اور گزر گئے ہم

گزرے نہیں اور گزر گئے ہم اس بھیڑ کا کام کر گئے ہم یہ صحن گواہ ہے ہمارا اس گھر میں بھی در بہ در گئے ہم دریافت کو زخم کی چلے تھے تاریخ کی دھار پر گئے ہم اس بات پہ اب الجھ رہے ہیں باقی تھے تو پھر کدھر گئے ہم تصویر سے باہر آئے کچھ دیر گھر بھر کو اداس کر گئے ہم ورنہ یہ زمین مٹ چلی ...

مزید پڑھیے

دانے کے بعد کچھ نہیں دام کے بعد کچھ نہیں

دانے کے بعد کچھ نہیں دام کے بعد کچھ نہیں صبح کے بعد شام ہے شام کے بعد کچھ نہیں خواب کا آخری خمار آنکھ میں ہے کچھ انتظار نیند ذرا سا کام ہے کام کے بعد کچھ نہیں خاک خراب ہوں زمیں تو مرا ماجرا نہ سن نقش کے بعد نام تھا نام کے بعد کچھ نہیں شہر کی حد بھی ماپ لی شام بھی دل پہ چھاپ لی ایک ...

مزید پڑھیے

جھگڑے اپنے بھی ہوں جب چاک گریبانوں کے

جھگڑے اپنے بھی ہوں جب چاک گریبانوں کے کام ہوتے ہوئے رہ جاتے ہیں ویرانوں کے جیسے آنکھوں کے یہ دو تل ہوں جو تبدیل نہ ہوں غول آتے ہوئے جاتے ہوئے انسانوں کے لوگ ہی لوگ اڑے جاتے ہیں گلیوں گلیوں ہم نے کچھ نقشے اچھالے تھے بیابانوں کے آسماں گرتا ہوا صاف نظر آتا ہے بالا خانوں میں یہ در ...

مزید پڑھیے

دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا

دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا میں ویرانی پہ اتنا تو اثر انداز ہو سکتا یہ میری خامشی اس انتہا کی خامشی ہوتی کسی بھی شام کا میں نقطۂ آغاز ہو سکتا میں بیتابانہ ان گلیوں میں پھرتا یہ مرا حق تھا مری دستک پہ شہر خواب کا در باز ہو سکتا یہ دن اور رات کس جانب اڑے جاتے ہیں صدیوں ...

مزید پڑھیے

میں ہوا تیرا ماجرا تو مرا ماجرا ہوا

میں ہوا تیرا ماجرا تو مرا ماجرا ہوا وقت یونہی گزر گیا وقت کے بعد کیا ہوا کیسا گزشتہ دن تھا جو پھر سے گزارنا پڑا دھوپ بھی تھی بچی ہوئی سایا بھی تھا بچا ہوا صبح کے ساتھ جائے کون شام کو لے کے آئے کون رات کا گھر بسائے کون ہے کوئی جاگتا ہوا ایک مکاں میں کچھ ہوا بات سنی نہ جا سکی لوگ ...

مزید پڑھیے

خواب کو خوش نما بناتے ہوئے

خواب کو خوش نما بناتے ہوئے رات گزری دیا بناتے ہوئے میرے لہجے سے خون رسنے لگا خامشی کو دعا بناتے ہوئے شہر کے شہر کر دئے مسمار اپنا خلوت‌ کدہ بناتے ہوئے اپنی سی خاک اڑا کے بیٹھ رہے اپنا سا قافلہ بناتے ہوئے زال دنیا کو کیا صفائی دیں کیا بنایا ہے کیا بناتے ہوئے خاک اور خون جمع ...

مزید پڑھیے
صفحہ 796 سے 4657