اس دل کو ہمکنار کیا ہم نے کیا کیا
اس دل کو ہمکنار کیا ہم نے کیا کیا دشمن کو دوست دار کیا ہم نے کیا کیا رہتا یہی ہے دل میں شش و پنج یار سے آئینہ کیوں دو چار کیا ہم نے کیا کیا مٹھی بھرم کی غنچہ صفت اس چمن میں کھول اسرار آشکار کیا ہم نے کیا کیا در پردہ دوستی ہوئی ہم اپنے حق میں آہ مطرب پسر کو یار کیا ہم نے کیا ...