شاعری

اس دل کو ہمکنار کیا ہم نے کیا کیا

اس دل کو ہمکنار کیا ہم نے کیا کیا دشمن کو دوست دار کیا ہم نے کیا کیا رہتا یہی ہے دل میں شش و پنج یار سے آئینہ کیوں دو چار کیا ہم نے کیا کیا مٹھی بھرم کی غنچہ صفت اس چمن میں کھول اسرار آشکار کیا ہم نے کیا کیا در پردہ دوستی ہوئی ہم اپنے حق میں آہ مطرب پسر کو یار کیا ہم نے کیا ...

مزید پڑھیے

میری تربت پر چڑھانے ڈھونڈتا ہے کس کے پھول

میری تربت پر چڑھانے ڈھونڈتا ہے کس کے پھول تیری آنکھوں کا ہوں کشتہ رکھ دے دو نرگس کے پھول ایک دن ہو جاؤں گا تیرے گلے کا ہار میں سونگھنے کو مت لیا کر ہاتھ میں جس تس کے پھول بستر گل پر جو تو نے کروٹیں لیں رات کو عطر آگیں ہو گئے اے گل بدن سب پس کے پھول وصل مہوش کا دلا مژدہ ہمیں دے ہے ...

مزید پڑھیے

دم لے اے کوہ کن اب تیشہ زنی خوب نہیں

دم لے اے کوہ کن اب تیشہ زنی خوب نہیں جان شیریں کو نہ کھو کوہ کنی خوب نہیں ٹک تو ہنس بول یہ غنچہ دہنی خوب نہیں رشک گل اتنی بھی ہاں کم سخنی خوب نہیں سر پہ قمری کو بٹھایا تو ہے تو نے پر سرو تیری آزاد وشی بے کفنی خوب نہیں قابل چشم نمائی ہے تو اے طفل سرشک ابتر اتنا بھی نہ ہو ناشدنی خوب ...

مزید پڑھیے

یاں سے دیں گے نہ تم کو جانے آج

یاں سے دیں گے نہ تم کو جانے آج لاکھ اب تم کرو بہانے آج بن لیے آج تیرا بوسۂ لب کب بھلا دوں گا تجھ کو جانے آج بس یہ مجھ سے نہ تم کرو کل کل اتنی ہے کل کہاں کہ جانے آج داغ جوں لالہ کھا چمن میں نسیم میں بھی آیا ہوں گل کھلانے آج لگ گیا خاک ہو کے جسم نصیرؔ کوچۂ یار میں ٹھکانے آج

مزید پڑھیے

اٹھتی گھٹا ہے کس طرح بولے وہ زلف اٹھا کہ یوں

اٹھتی گھٹا ہے کس طرح بولے وہ زلف اٹھا کہ یوں برق چمکتی کیونکہ ہے ہنس کے یہ پھر کہا کہ یوں چوری سے اس کے پاؤں تک پہنچی تھی شب کو کس طرح آ کہیں ہاتھ مت بندھا کہہ دے اب اے حنا کہ یوں دن کو فلک پہ کہکشاں نکلے ہے کیونکہ غیر شب چین جبیں دکھا مجھے اس نے دیا بتا کہ یوں جیسے کہا کہ عاشقاں ...

مزید پڑھیے

جگر کا جوں شمع کاش یارب ہو داغ روشن مراد حاصل

جگر کا جوں شمع کاش یارب ہو داغ روشن مراد حاصل کہ دل کو لو لگ رہی یہی ہے چراغ روشن مراد حاصل مدام کیفیت اپنے دل میں مئے محبت کے نشے کی ہے کہ ساقی اس آفتاب سے ہے دماغ روشن مراد حاصل اسیر کنج قفس تو ہو تم یہ عندلیبو سدا یہ بولو شتاب یارب چراغ گل سے ہو باغ روشن مراد حاصل لگے نہ کیوں ...

مزید پڑھیے

کیسا کیسا در پس دیوار کرنا پڑ گیا

کیسا کیسا در پس دیوار کرنا پڑ گیا گھر کے اندر اور گھر تیار کرنا پڑ گیا اس کنارے نے کہا کیا کیا کہوں کیا بات تھی بات ایسی تھی کہ دریا پار کرنا پڑ گیا پھر بساط خواب اٹھائی اور اوجھل ہو گئے شام کا منظر ہمیں ہموار کرنا پڑ گیا اک ذرا سا راستہ مانگا تھا ویرانی نے کیا اپنا سارا گھر ...

مزید پڑھیے

نقش کرتا رم و رفتار عناں گیر کو میں

نقش کرتا رم و رفتار عناں گیر کو میں کیسا چھنکاتا ہوا چلتا ہوں زنجیر کو میں غیب و غفلت کا ادھر جشن منا لوں تو چلوں ابھی تاخیر سمجھتا نہیں تاخیر کو میں خامشی میری کچھ ایسی ہدف آگاہ نہیں بات بے بات چلا دیتا ہوں اس تیر کو میں ساتواں دن مگر اچھا نہیں گزرا میرا چھ دن الٹاتا رہا پردۂ ...

مزید پڑھیے

میں دنیا کی خاطر ہوں دل ہونے والا

میں دنیا کی خاطر ہوں دل ہونے والا مرا عہد ہے مستقل ہونے والا خدا ایسا تنہا کسی کو نہ رکھے کوئی بھی نہ ہو جب مخل ہونے والا پس آب و گل میں دکھا بھی چکا ہوں تماشا سر آب و گل ہونے والا سفینے بھرے آ رہے ہیں برابر ہے دریا کہیں منتقل ہونے والا وہی ایک ہم ہیں وہی ایک تم ہو یہ عالم نہیں ...

مزید پڑھیے

دیے کا کام اب آنکھیں دکھانا رہ گیا ہے

دیے کا کام اب آنکھیں دکھانا رہ گیا ہے یہ سیدھا جل چکا الٹا جلانا رہ گیا ہے ہمیں سامان پورا کر نہیں پائے کہ چلتے سو رہتے رہتے اس جنگل سے جانا رہ گیا ہے سر کوہ ندا یہ پہلی پہلی خامشی ہے کوئی آواز ہے جس کا لگانا رہ گیا ہے یہ دو بازو ہیں سو تھوڑی ہیں کھولوں اور بتا دوں مرے اطراف میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 794 سے 4657