شاعری

تجھے سناؤں غزل یا سناؤں اپنا غم

تجھے سناؤں غزل یا سناؤں اپنا غم ذرا ارادہ بتا تو بھی کچھ اے میرے صنم میں شاہزادی ہوں الفاظ کے ریاست کی خزانہ شعر و سخن کا کبھی نہ ہوگا کم نبھا رہے ہیں سبھی سے خلوص کے رشتے اسی سے باقی ہے دنیا کے بازووں میں دم جو ہم سے رات میں تنہائی ہم کلام ہوئی سنور گیا مرے جذبوں کا آج سارا ...

مزید پڑھیے

ہمارے اپنے ہمیں شرمسار کرنے لگے

ہمارے اپنے ہمیں شرمسار کرنے لگے ہمیں خبر بھی نہیں ہم سے پیار کرنے لگے وفا ہے آپ کی جھوٹی یہ مانا ہم نے مگر بغیر سوچے ہی ہم اعتبار کرنے لگے بیچارہ دل بھی تھا مجبور اور کیا کرتا ترے خیال اسے بے قرار کرنے لگے ذرا سی گفتگو ہم نے بھی ان سے کیا کر لی وہ رشتہ ایک نیا اختیار کرنے ...

مزید پڑھیے

تمہیں تم سے چرانے آ گئے ہیں

تمہیں تم سے چرانے آ گئے ہیں محبت کو بڑھانے آ گئے ہیں ہنسی کو قید سے آزاد کر دو یہ دیکھو مسکرانے آ گئے ہیں ابھی تو ہم سے ملنے تم چلے آؤ کہ اب موسم سہانے آ گئے ہیں غزل لکھی ہے یادوں میں تمہاری وہی شب بھر سنانے آ گئے ہیں گلے شکوے بہت تھے درمیاں تو کہ اب سارے مٹانے آ گئے ...

مزید پڑھیے

مری آنکھوں میں بے حد پیار تھا اور تم کہیں گم تھے

مری آنکھوں میں بے حد پیار تھا اور تم کہیں گم تھے لبوں پر شعلۂ اظہار تھا اور تم کہیں گم تھے مرے سینے میں طوفان محبت رقص کرتا تھا جگر میں عشق کا آزار تھا اور تم کہیں گم تھے تمہارا ساتھ سارے دنیا والوں کو کھٹکتا تھا ہمارے دل میں غم کا بار تھا اور تم کہیں گم تھے غزل کی صورتوں میں ...

مزید پڑھیے

جو رقیبوں نے کہا تو وہی بد ظن سمجھا

جو رقیبوں نے کہا تو وہی بد ظن سمجھا دوست افسوس نہ سمجھا مجھے دشمن سمجھا ناتواں وہ ہوں کہ بستر پہ مجھے دیکھ کے آہ تار بستر کوئی سمجھا کوئی سوزن سمجھا تیغ قاتل جو محبت سے لگی آ کے گلے تاب کو اس کی میں اپنی رگ گردن سمجھا اپنے پاجامۂ کمخواب کی ہر بوٹی کو شمع رو شب کو چراغ تہہ دامن ...

مزید پڑھیے

جو عین وصل میں آرام سے نہیں واقف

جو عین وصل میں آرام سے نہیں واقف وہ مطلب دل خود کام سے نہیں واقف ہنسا چمن میں جو دل دیکھ صورت صیاد یہ مرغ دانے سے اور دام سے نہیں واقف تمام شہر میں جس کے لیے ہوئے بد نام وہ اب تلک بھی مرے نام سے نہیں واقف ہر ایک عشق کے کب قاعدے سے محرم ہے ہنوز شیخ الف لام سے نہیں واقف ہزار حیف ...

مزید پڑھیے

ترے دانت سارے سفید ہیں پئے زیب پان سے مل کر آ

ترے دانت سارے سفید ہیں پئے زیب پان سے مل کر آ نہیں دیکھے آج تک ابر میں مجھے اب دکھانے کو اختر آ شب وعدہ تو اگر آئے ہے تو درنگ کیا ہے مرے گھر آ کہ یہ آنکھیں لگ رہی در سے ہیں شب رشک مہ بخدا در آ مرے سر پہ ہر گھڑی فاختہ کرے کام کیونکہ نہ ارے کا قد دل ربا کے حضور تو نہ چمن میں بن کے صنوبر ...

مزید پڑھیے

نہ ذکر آشنا نے قصۂ بیگانہ رکھتے ہیں

نہ ذکر آشنا نے قصۂ بیگانہ رکھتے ہیں حدیث یار رکھتے ہیں یہی افسانہ رکھتے ہیں چمن میں سرو قد گر جلوۂ مستانہ رکھتے ہیں برنگ طوق قمری ہم خط پیمانہ رکھتے ہیں خیال آنکھوں کا تیری جبکہ اے جانانہ رکھتے ہیں تو جوں نرگس ہر اک انگشت بر پیمانہ رکھتے ہیں نمایاں زلف کے حلقے میں کر ٹک خال ...

مزید پڑھیے

زلف چھٹتی ترے رخ پر تو دل اپنا پھرتا

زلف چھٹتی ترے رخ پر تو دل اپنا پھرتا گھر کو بے شام نہیں صبح کا بھولا پھرتا دیکھنے کو جو مرا تو نہ تماشا پھرتا تو میں جوں شعلۂ جوالہ نہ چلتا پھرتا کب جفاؤں سے تری دل ہے ہمارا پھرتا شک اگر تجھ کو ہے ظالم تو دوبارہ پھرتا بخت برگشتۂ مجنوں ابھی سیدھے ہو جائیں دشت میں آئے اگر ناقۂ ...

مزید پڑھیے

جسم اس کے غم میں زرد از ناتوانی ہو گیا

جسم اس کے غم میں زرد از ناتوانی ہو گیا جامۂ عریانی اپنا زعفرانی ہو گیا بے تکلف ہو جو بیٹھا کھول چھاتی کے کواڑ آئینہ ہو منفعل دیکھ اس کو پانی ہو گیا کیا ہوا بہکائے سے تیرے بھلا اب اے رقیب آخرش اس نے ہماری بات مانی ہو گیا جاگ اے غافل کہ پیری کی ہوئی تیری سحر کٹ گئی غفلت کی شب عہد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 790 سے 4657